سیدنا علی رضی اللہ عنہ عہد صدیقی میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر جنابِ علی رضی اللہ عنہ کی بیعت
علی محمد محمد الصلابیسیدنا ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر بیعت کرنے سے علی اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کے پیچھے رہ جانے کے سلسلہ میں بہت سی غیر مستند روایات وارد ہیں، صحیح اسناد سے جو روایات ثابت ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ علی اور زبیر رضی اللہ عنہما نے پہلے مرحلہ ہی میں بیعت کر لی تھی، چنانچہ حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ جب اللہ کے رسولﷺ کی وفات ہوگئی تو انصار کے خطباء اٹھے۔۔۔ پھر سقیفۂ بنی ساعدہ میں بیعتِ خلافت کی کارروائی کو تفصیل سے ذکر کیا۔
(مجمع الزوائد: جلد 5 صفحہ 163) اس کی سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 281) حافظ ابن کثیر نے کہا اس کی سند صحیح اور محفوظ ہے۔)
پھر کہا کہ بالآخرنتیجہ یہ ہوا کہ لوگ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر بیعت کر کے وہاں سے نکلے اور جب حضرت ابوبکر صدیقؓ مسجد نبوی میں منبر پر تشریف لے گئے لوگوں پر نگاہ ڈالی، ان میں سیدنا علیؓ نظر نہ آئے، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے سیدنا علیؓ کے بارے میں لوگوں سے دریافت کیا، چنانچہ کچھ انصاری صحابہؓ باہر گئے اور حضرت علیؓ کو بلا کر لے آئے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے ان سے پوچھا: اے اللہ کے رسول (ﷺ) کے چچازاد بھائی، اور داماد! کیا تم مسلمانوں کی جماعت میں انتشار ڈالنا چاہتے ہو؟ انھوں نے جواب دیا: اے خلیفۂ رسول(ﷺ) آپ ہمیں ملامت و شرمندہ نہ کریں، پھر ان کے ہاتھوں پر بیعت کی، پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت زبیر بن عوامؓ کو نہیں دیکھا تو ان کے بارے میں بھی دریافت کیا، صحابہؓ گئے اور ان کو بھی لے کر آئے، سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے ان سے کہا: اے رسول(ﷺ) کی پھوپھی کے بیٹے اور آپﷺ کے حواری! کیا تم مسلمانوں کی جماعت میں انتشار ڈالنا چاہتے ہو؟ انھوں نے بھی جواب دیا: اے خلیفۂ رسول(ﷺ) آپ ہمیں ملامت و شرمندہ نہ کریں، چنانچہ انھوں نے بھی بیعت کی۔
(المستدرک: جلد 3 صفحہ 76، السنن الکبریٰ جلد 8 صفحہ 143، دو صحیح اسناد سے۔)
اس مقام پر حضرت ابو سعید خدریؓ کی حدیث بہت اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ کتب حدیث میں صحیح بخاری کے بعد صحیح ترین کتاب ’’الجامع الصحیح‘‘ کے مؤلف امام مسلمؒ اس حدیث کی صحت و تصدیق کے لیے اپنے استاذ حافظ محمد بن اسحاق بن خزیمہ کے پاس گئے۔ یہ وہی ابن خزیمہ ہیں جنھوں نے صحیح ابن خزیمہ تالیف کی ہے۔ اور ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا۔ ابن خزیمہ نے یہ حدیث لکھ کر امام مسلمؒ کو دی، اور انھوں نے یہ حدیث اپنے استاذ کو پڑھ کر سنائی۔ جب سنا کر فارغ ہوئے تو امام مسلمؒ نے اپنے استاذ سے کہا: یہ حدیث تو ایک ’’بًدَنۃٌ‘‘ یعنی بڑے اور تندرست و قیمتی اونٹ کے مساوی ہے، ابن خزیمہ نے کہا: یہ صرف ایک ’’بَدَنۃ‘‘ کے مساوی نہیں بلکہ ایسی تھیلی سے بھی قیمتی ہے جو دس ہزار دینار سے بھری ہو یعنی یہ حدیث ایک قیمتی خزانہ ہے۔
حافظ ابن کثیرؒ اس حدیث پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اس حدیث کی سند صحیح اور محفوظ ہے، اور اس میں ایک اہم بات کہی گئی ہے، وہ یہ کہ سیدنا علی بن ابی طالبؓ نے خلافتِ ابوبکرؓ پر بیعت کی، وفات (نبویﷺ) کے دن ہی کی ہے، یا اس کے ایک دن بعد، یہی حق ہے، حضرت علی بن ابی طالبؓ کبھی بھی سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے کٹ کر نہ رہے، نہ ہی آپؓ کے پیچھے کبھی نماز پڑھنا ترک کی۔‘‘
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 239)۔
حضرت حبیب بن ابی ثابت رضی اللہ عنہ کی روایت میں اس واقعہ کا ذکر اس طرح ہے:
’’حضرت علی بن ابی طالبؓ اپنے گھر میں تھے، ایک آدمی حضرت علیؓ کے پاس آیا اور کہا ابوبکرؓ بیعت لینے بیٹھ گئے ہیں سیدنا علیؓ جس قمیص میں ملبوس تھے اسی میں نکل پڑے، ازار و چادر کا اہتمام نہ کیا، آپ کافی جلدی میں تھے کہ کہیں بیعت سے پیچھے نہ رہ جائیں، وہاں پہنچ کر سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے بیعت کی، پھر بیٹھ گئے، وہیں پر حضرت علیؓ نے چادر منگوائی، اور اسے قمیص کے اوپر اوڑھ لیا۔ ‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 3 صفحہ 207) یہ اثر مرسل ہے، اس کی سند میں سیف بن عمر متروک راوی ہیں۔ عبدالعزیز بن سیاہ صدوق ہیں، ان کے اندر تشیع پایا جاتا ہے۔ دیکھیے: تقریب التہذیب: 357) سیف بن عمر کو حافظ نے تقریب میں ضعیف فی الحدیث اور عمدۃ فی التاریخ کہا ہے۔ متروک نہیں قرار دیا ہے اور اسی طرح عبدالعزیز بن سیاہ کے اندر تشیع کا ہونا نقصان دہ نہیں ہے کیونکہ بخاری و مسلم کے رواۃ میں سے ہیں اور یہ روایت تشیع کی تائید میں نہیں ہے۔) (مترجم)
حضرت عمرو بن حریثؓ نے سعید بن زیدؓ سے پوچھا: کیا تم رسولﷺ کی وفات کے وقت وہاں حاضر تھے؟ انھوں نے کہا: ہاں۔ پھر پوچھا: ابوبکرؓ کے ہاتھوں پر بیعتِ خلافت کب کی گئی؟ سعیدؓ نے جواب دیا: جس دن رسولﷺ کی وفات ہوئی، مسلمانوں نے ایک دن بھی بغیر جماعت کے زندہ رہنا پسند نہ کیا۔ انھوں نے پوچھا: کیا اس موقع پر کسی نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی مخالفت کی تھی؟ سعیدؓ نے جواب دیا: نہیں، سوائے ان لوگوں کے جو مرتد ہوگئے تھے یا مرتد ہونے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انصار کو ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے بچا لیا، اور سب نے بالاتفاق دستِ ابوبکر صدیقؓ پر بیعت کی، انھوں نے پوچھا: کیا مہاجرین میں کوئی بیعت کرنے سے پیچھے رہ گیا تھا؟ سعیدؓ نے کہا: نہیں، تمام مہاجرین نے یکے بعد دیگرے حضرت صدیقِ اکبرؓ کی خلافت پر بیعت کی۔
(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 207) اس کی سند ضعیف ہے۔ دیکھیے: خلافۃ أبوبکر صدیق: عبدالعزیز سلیمان: صفحہ 66)
جب سیدنا علیؓ بصرہ گئے تو ابن الکواء اور قیس بن عباد نے حضرت علیؓ سے پوچھا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیعتِ خلافت کے موقع پر آپؓ کا کیا کردار دہا؟ انھوں نے جواب دیا: اگر اس سلسلہ میں میرے پاس نبی کریمﷺ کا کوئی عہد نامہ ہوتا تو بنو تمیم بن مرہ کے ایک فرد، اور عمر بن خطابؓ کو آپﷺ کے منبر پر چڑھنے نہ دیتا، اور پوری طاقت سے ان کے خلاف لڑتا، اگرچہ میرے پاس میری ایک چادر ہی رہ جاتی، لیکن اللہ کے رسولﷺ قتل نہیں کیے گئے اور نہ ہی اچانک آپﷺ کی موت ہوئی، بلکہ کئی دنوں تک آپﷺ بیمار پڑے رہے، مؤذن آپﷺ کے پاس آتے تھے اور آپﷺ انھیں اذان دینے کا حکم دیتے، پھر آپﷺ ابوبکر کو لوگوں کی امامت کرنے پر مامور کرتے، وہ نماز پڑھاتے، اور آپﷺ اپنی جگہ سے ان پر نگاہ رکھتے، حتیٰ کہ ایک مرتبہ آپﷺ کی بیویوں میں ایک بیوی (عائشہؓ) نے آپﷺ کو مشورہ دیا کہ ابوبکر کی جگہ پر دوسرے کو امامت کی ذمہ داری سونپ دیں، آپﷺ اس بات سے سخت ناراض ہوئے، اور اس پر کوئی توجہ نہ دی، اور فرمایا:
أَنْتُنَّ صَوَاحِبُ یُوْسَفَ مُرُوْا أَبَابَکْرٍ فَلْیُصَلِّ النَّاسَ۔
’’تم سب یوسف والیاں ہو، ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔‘‘
چنانچہ جب اللہ کے رسولﷺ کی وفات ہو گئی اور ہم نے اپنے احوال و امور پر غور کیا، تو دنیا میں اپنی قیادت کے لیے ایسے شخص کو ہم نے منتخب کیا جسے اللہ کے نبی (ﷺ) ہمارے دین کے لیے پسند کر چکے تھے، نماز اسلام کی بنیاد اور روح ہے، یہ سب سے عظیم فریضہ ہے، اور دین کا ایک ستون ہے، ہم نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر بیعت کر لی، سیدنا صدیقِ اکبرؓ خلافت کے اہل تھے، ہم میں کسی دو شخص نے بھی آپس میں اس سلسلہ میں کوئی اختلاف نہیں کیا، نہ ہی آپس میں ٹکرائے، نہ ہی کسی سے دشمنی کی، میں نے ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کو ان کا حق دیا، ان کی اطاعت گزاری کو اچھی طرح پہچانا، ان کے لشکروں میں شریک ہو کر لڑا، جب مجھے کوئی چیز دیتے تھے میں لے لیتا، اور جب کسی لڑائی بھیجتے تو میں ان کے لیے لڑتا، اور ان کے سامنے اپنے کوڑے سے حدود نافذ کرتا۔
(تاریخ الاسلام: عہد الخلافۃ الراشدہ: صفحہ 389) اس کی سند ضعیف ہے۔ دیکھیے: خلافۃ ابی بکر الصدیق: عبدالعزیز سلیمان: صفحہ 65)
