رافضیوں کے مشہور فرقے - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

رافضیوں کے مشہور فرقے

  علامہ ڈاکٹر عبد اللہ الجمیلی

صفحہ 1 از 3

 رافضیوں کے مشہور فرقے


اصحاب الفرق اور مقالات نے رافضی فرقوں کے بارے میں بہت اختلاف کیا ہے۔ اور اس کا سبب بعض لوگوں کے ہاں رافضیت کے مفہوم میں وسعت ہے۔ وہ اس نام کے تحت تمام شیعہ فرقوں کو شمار کرتے ہیں۔ جیساکہ بغدادی نے کیا ہے، انہوں نے رافضہ کو چار قسموں میں تقسیم کیا ہے:

۱۔ زیدیہ

۲۔امامیہ

۳۔ کیسانیہ

۴۔ غالی
پھر ان میں سے ہر ایک فرقہ کے نیچے بہت سارے فرقے ذکر کیے ہیں۔ [دیکھو: الفرق بین الفِرق ص ۲۱-۲۳۔] اور اسفرائینی نے بھی ایسے ہی کیا ہے۔ [دیکھو: التبصیر فيالدین ص ۲۷۔] نیز امام رازی نے بھی۔ [دیکھو: اعتقادات فرق المسلمین المشرکین ص ۵۲۔] 
صرف یہ کہ ان دونوں نے غالی فرقہ کو رافضیوں میں شمار نہیں کیا۔
دوسری جانب بعض اصحاب الفرق اور مقالات اس تقسیم کو نہیں مانتے۔ ان کا کہنا ہے کہ سابقہ فرقے شیعہ فرقے ہیں۔ یہ رافضی یا امامی نہیں ہیں، جیسا کہ ان کے بارے میں بعض نے کہا ہے کہ یہ بھی انہی فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے۔ ان لوگوں میں سے شہرستانی [الملل والنحل ۱/ ۱۴۷۔] اور اشعری [مقالات الاسلامیین ۱/ ۶۵-۹۱۔] بھی ہے۔ صرف یہ کہ شہرستانی نے کیسانیہ کو رافضی فرقوں میں شمار کیا ہے۔

میری رائے کے مطابق زیدیہ، غالی اور کیسانیہ رافضی فرقوں میں سے نہیں ہیں۔ زید بن علی کے زمانہ میں شیعہ دو قسموں میں تقسیم ہوگئے تھے۔ ایک فرقہ کا نام رافضہ رکھا گیا، اس لیے کہ انہوں نے سیّدناابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما سے محبت و ولایت کے مسئلہ پر زید بن علی کو چھوڑ کر ان سے علیحدگی اختیار کرلی۔
دوسرا فرقہ زیدیہ :یہی وہ لوگ ہیں جو امام زید کے مذہب پر باقی رہے اور ہم نے اس کی تفصیل پہلے بیان کر چکے ہیں۔ اس بنا پر زیدیہ کو کیسے رافضہ میں شمار کیا جاسکتا ہے۔

[مقالات الاسلامیین ۱/ ۱۳۷۔] 


غالی :
یہ رافضیوں سے پہلے بھی معروف تھے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارہ میں غلو کیا، اور ان کے متعلق ربوبیت کا دعوی کرنے لگے۔

[مقالات الاسلامیین ۱/ ۶۶۔] 

ان کے ایسے عقائد ہیں جو انہیں بالکل ہی اسلام سے خارج کردیتے ہیں، جیسا کہ یہ عقیدہ کہ اللہ تعالیٰ ان کے ائمہ میں حلول کرگیا تھا۔ اور بعض کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کے چہرہ کے علاوہ باقی اعضاء ختم ہوچکے ہیں یا نہیں۔ اور ان میں سے بہت سے لوگوں کا اپنے ائمہ کے معبود ہونے کا دعوی کرنا۔ اوراس کے علاوہ بھی ان کے بہت سارے فاسد عقائدہیں۔

[دیکھو: اعتقادات فرق المسلمین المشرکین ص ۷۵۔ الملل والنحل ۱/ ۶۶۔] 
انہیں شیعہ اور سنی ’’ فرق اور مقالات کے لکھنے والوں نے کافر قرار دیا ہے، اوران کا شمار مسلمانوں میں نہیں کیا۔ [دیکھو: البغدادی : الفرق بین الفرق ۲۳؛ ۲۳۳۔ نعمت اللّٰه الجزائری الأنوار النعمانیہ ۲/ ۲۴۳۔] یہ لوگ رافضی نہیں ہیں ؛ اگرچہ رافضی ان کے بعض عقائد سے متاثر ہیں۔
کیسانیہ:
یہ لوگ امیر المومنین حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے غلام کیسان کے پیروکار ہیں۔ کیسان نے محمد [ابو القاسم محمد بن علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ، المعروف محمد بن الحنفیہ ؛ اس کی ماں کا نام الحنفیہ بنت خولہ بنت جعفر بن قیس بن سلمہ ہے۔ فرقہ کیسانیہ ان کی امامت کا اعتقاد رکھتا ہے۔ اور ان کا عقیدہ ہے کہ ان کے امام ’’رضوی،، پہاڑ میں چھپے ہوئے ہیں۔ ابن خلکان : وفیات الأعیان (۴/۱۷۲) ۔] بن (علی) الحنفیہ کے ہاتھوں تعلیم پائی۔
کیسانیہ کا کہنا ہے کہ :’’امامت محمد بن الحنفیہ کا حق ہے۔ ‘‘

[دیکھو : نوبختی : فرق الشیعۃ : ص ۲۶۔ الشہرستانی : الملل و النحل ۱/ ۱۴۷۔] 
اس وجہ سے وہ رافضی اجماع کے خلاف ہیں، جس کے مطابق امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد حسن اور حسین، اور 

علی بن حسین [ ابو الحسن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ المعروف بزین العابدین ؛ امامیہ کے ہاں اثنا عشریہ ائمہ میں سے ایک ہیں اور بڑے تابعین میں سے ہیں۔ ان کے فضائل اعداد و شمار سے زیادہ ہیں۔ ۳۸ہجری میں پیدا ہوئے ؛ اور ۹۴ ہجری میں وفات پائی۔ دیکھو: ابن خلکان : وفیات الأعیان (۳/۲۶۶-۲۶۹) ۔] کا حق ہے۔ پھر علی بن حسین کے بعد امام کے متعلق ان میں اختلاف ہے۔

شہرستانی کہتے ہیں : ’’امامیہ فرقہ کے لوگ حسن ؛ حسین، اورعلی بن الحسین کے بعد امام کے متعین ہونے کے بارے میں ایک رائے پر متفق نہیں ہیں۔ ‘‘ 

[ الملل و النحل ۱/ ۱۶۵۔] 

شہرستانی کا یہ قول اس بات کی دلیل ہے کہ رافضہ کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد ان تین کی امامت پر اجماع ہے۔ پھر ان کے بعد امام کے متعین ہونے میں ان کے مابین اختلاف واقع ہوا ہے اس کے لیے ایک اوربڑے رافضی عالم کی تحریر بھی گواہی دیتی ہے کہ رافضیوں کا اس مسئلہ پر اجماع ہے؛ وہ کہتا ہے : ’’امامیہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امامت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خاص کر بنی ہاشم میں ہوگی۔ پھر ان میں سے بھی علی، حسن، حسین میں اور ان کے بعدقیامت تک کے لیے ان کی آل میں ہوگی۔‘‘

 [ المفید : أوائل المقالات ص ۴۴۔] 

جب کہ کیسانیہ فرقہ والے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد امامت ان کے بیٹے محمد بن (علی [محمد بن حنفیہ کااصل نسب محمد بن علی بن ابو طالب ہے۔ انہیں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد نہ ہونے کی وجہ سے شیعہ نے محمد بن حنفیہ کے نام سے مشہور کیا ‘ اور بڑے بڑے اہل ِ سنت بھی اس دھوکا کا شکار ہوگئے حالانکہ دنیابھر میں کوئی ایک انسان بھی ایسا نہیں ہے جو یہ بات نہ جانتا ہوکہ نسب والد کی طرف سے چلتا ہے ‘ والدہ کی طرف سے نہیں ؛ اور والدہ کی طرف نسبت سوائے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے کسی اور کے لیے جائز نہیں۔ ازمترجم۔] ) الحنفیہ کے لیے مانتے ہیں۔

صفحہ 1 از 3