شیعہ مناظر کی جوابی دلیل کا رد: العلویہ شیعہ کا پہلا فرقہ…

شیعہ مناظر کی جوابی دلیل کا رد: العلویہ شیعہ کا پہلا فرقہ تھا!

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 3

شیعہ مناظر کی جوابی دلیل کا رد: العلویہ شیعہ کا پہلا فرقہ تھا!

 رانا سعید شیعہ: اب ذرا علامہ نوبختی کی بات کرتے ہیں، انکی کتاب سے مزید کچھ پیش کرتا ہوں جس سے نا صرف آپ کی خیانت آشکار ہوگی بلکہ آپکا دعوی بھی باطل ثابت ہوگا۔

 خود علامہ نوبختی لکھتے ہیں کہ شیعہ کا پہلا فرقہ جو علی ع کے شیعہ تھے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تھے اور رسول اللہﷺ کے بعد علی ع کی طرف تھے اور *علی کی امامت کے قول پر تھے* ، ان میں مقداد بن اسود ، سلمان فارسی ، ابوذر غفاری، جندب بن جنادہ اور عمار یاسر وغیرہ تھے (یہ سب اصحاب رسول ہیں)  زمان نبی و اصحاب نبی ہے ، نبی کا زمانہ ۔ *(سب علی ص کی امامت کے قائل ہیں اور ابن سباء کا دور دور تک ابھی کوئی وجود نہیں)*  ہم آج کے شیعہ بھی علی ع کی امامت کے قائل ہیں بعد از نبی ﷺ۔ مزید آگے چل کر لکھتے ہیں *پھر جب رسول اللہ ﷺ  کی وفات ہوئی* تو تین گروہ بن گئے ان میں سے ایک نے کہا علی ع امام ہیں جن کی اطاعت فرض ہے ، اور لوگوں پر واجب ہے کہ علی ع کو قبول کریں اور ان سے لیں اور ان کے غیر سے لینا جائز نہیں ۔ (ہم بھی یہی کہتے ہیں) 

⬅️ آپ کے دعوے میں سے پانچ عقائد میں ایک نسبت تو ابن سباء کے وجود سے پہلے ہی ثابت ہو گئی آپ ہی کے پیش کیئے ہوئے کلیئے اور اصول کے مطابق اور اسی عالم کی کتاب سے جس کی کتاب سے آپ دلیل دے رہے ہیں ۔

 مزید لکھتے ہیں *علی ع امامت کے مستحق ہیں ، نبی کے قائم مقام کے مستحق ہیں ، ان کیلئے عصمت ہے ولادت میں طہارت ہے اور رسول اللہ  ﷺکی طرف سبقت ہے ، ان کا علم ہے ، سخاوت ہے، زھد ہے اور رعیت کیلئے عدل ہے اور نبی  ﷺنے ان پر نص کی اور اشارہ کیا ان کے نام کے ساتھ نسب کے ساتھ اور انکے لئے امت کے سامنے علم نصب کیلئے اور عقد لیا اور ان کی مومنوں پر  امارت قائم کی اور انہیں لوگوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حقدار قرار دیا جس کے کثیر دلائل ہیں جیسا کہ حدیث غدیر ، حدیث منزلت اور ان کی امامت کی دلیل ہے نا کہ نبوت کی ، اور لوگوں پر ان کو اپنا نفس قرار دیا ، نبوت کے بعد امام قرار دیا جو کہ معصوم ہے ،پاکیزہ ولادت والا ہے، پاکیزہ نسب والا ہے*  

⬅️ ابن سباء تو کہیں نہیں ہے یہاں تک بھی۔

یہ سب لکھنے کے بعد لکھتے ہیں یہ فرقہ ان کی امامت پر قائم رہا یہاں تک کہ علی کو ابن ملجم ملعون نے شہید کر دیا۔

 *اس میں کہیں نہیں ہے ابن سباء*۔

مزید علامہ نوبختی بتریہ ، جارودیہ، زیدیہ کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے  ہیں کہ علوی شیعوں کا امیر المومنین ع کی شہادت کے بعد اختلاف ۔  

⬅️ علامہ نوبختی   لکھتے ہیں کہ علی ع کی شہادت کے بعد جو فرقہ امام علی ع کی امامت پر ثبت تھا اور علی ع کی امامت کو اللہ اور رسولﷺ  کی طرف سے فرض جانتا تھا، اسکے تین گروہ ہو گئے جن میں سے *ایک نے کہا علی ع قتل نہیں ہوئے،  نا انہیں موت آئی ، نا وہ قتل ہو سکتے،  نا انہیں موت آ سکتی ہے ،جب تک وہ عربوں پر حکومت نا کر لیں اور زمین کو اس طرح عدل سے نا بھر دیں جس طرح ظلم و جبر سے بھرے گی اور اس فرقے نے غلو کیا اور ان کا نام سبائی ہے اور یہ ابن سباء کے اصحاب ہیں*  (کیا غلو کیا وہی جو علامہ کشی نے بیان کیا اور جس سے ہمارے عقائد کا دور دور تک واسطہ نہیں ہم اس خدائی کے عقیدہ کو شرک و کفر سمجھتے ہیں اور اس ملعون پر لعنت کرتے ہیں ہمارے آئمہ نے بھی کی۔) 

*ہمارا تو عقیدہ نہیں کہ علی ع قتل نہیں ہوئے اور انہیں موت نہیں آئی اور تب تک نہیں آ سکتی جب تک وہ عربوں پر حکومت نا کرلیں اور زمین کو عدل سے نا بھر دیں جیسا کہ ظلم سے بھر جائے گی*  ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے تو یہ ملعون ہمارے عقائد کا بانی کیسے ۔

 علامہ نوبختی کی کتاب سے جہاں آپ ان کے تاریخ نقل کرنے کو کو ان کا عقیدہ ثابت کرنے پر تلے ہیں وہ تو اور بھی بہت کچھ کہہ رہے ہیں ، کیا یہ سب ان کا عقیدہ سمجھا جائے ؟؟؟؟؟ 

 اب آتا ہوں آپ کے اس باطل اصول کو توڑنے کی طرف جو آپ نے وضع کر لیا کہ ایک عالم اگر کچھ نقل کر کے اس کی تردید نا کرے تو یہ اسکا تائید یافتہ عقیدہ بن جاتا ہے اور اس پر مہر ثبت ہو جاتی ہے،  تو جناب اس گروپ میں چند روز پہلے قاتلین عثمان کے بارے میں گفتگو ہوئی ، میں نے ابن اثیر سے اور ابن حجر اور ابن عبدالبر سے ان کے اقوال پیش کیئے کہ ان کے نزدیک صحابہ حضرت عثمان پر حملہ کرنے والوں میں شامل تھے تو جناب بھاگتے رہے کہ نہیں عالم کا قول قابل قبول نہیں، صحیح روایت سے ثابت کرو ،عالم کا قول نہیں مانوں گا وہ بھی صرف ایک ضمنی مسئلہ کیلئے ، تو آج کیسے اور کس منہ کے ساتھ کہہ رہے ہو کہ عالم کا قول جو اس کا اپنا بھی نہیں بلکہ وہ مجہول صیغوں سے نقل کر رہا ہے وہ کسی مذہب کے عقائد بنیاد ثابت کرنے کیلئے دلیل اور ثبوت کیسے بنا رہے ہو ؟؟؟؟ عوام کو کیوں مکر و فریب دے رہے ہو ؟؟؟؟  کیوں خیانت کاری کا ارتکاب کر رہے ہو اور کیوں اس اصول کو وضع کر نے پر تُل گئے ہو جس پر چند روز پہلے آپ انکار کر رہے تھے ۔ *یہ دو نمبری اور منافقت کس لئے* ؟؟؟؟؟

 

بھیجو گے ابن اثیر پر لعنت اپنے بنائے اصول کے تحت ؟؟؟؟

 

بھیجو گے ابن حجر پر لعنت ؟؟؟؟؟؟

 یہ اسی امام ابن اثیر نے عمرو بن حمق خزاعی کے بارے میں لکھا کہ یہ ان چار آدمیوں میں سے ایک ہے جو حضرت عثمان کے گھر (انہیں شہید کرنے کیلئے) کودے تھے اور شہید کرنے کے بعد حضرت علی کے شیعوں میں شامل ہو گئے ۔ *اب بھیجو گے ابن اثیر پر لعنت ؟* ۔ 

اور ہاں واضح رہے یہاں محقق اپنی تحقیق کی بناء پر اپنا تبصرہ دے رہا ہے ، تاریخی روایات نقل نہیں کر رہا بلکہ اپنی تحقیق سے اپنے نزدیک مستند حالات تحریر کر رہا ہے ۔ جبکہ علامہ کشی ہوں ، نوبختی ہوں یا اشعری قمی ہوں وہ ایک تاریخی قول  نقل کر رہے ہیں وہ بھی ایسی روایت جس کی سند نہیں ، بس کوئی اہل علم تھے جنہوں نے کہہ دیا اور آپ نکلے ہو اس بلاسند اور مجہول قول سے ہمارے عقائد کا بانی ابن سباء ملعون کو ثابت کرنے۔

صفحہ 1 از 3