Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بصرہ میں فسادی لوگ أشج عبدالقیس رضی اللہ عنہ پر افتراء باندھتے ہیں

  علی محمد الصلابی

بصرہ میں فسادی حکیم بن جبلہ کی قیادت میں، اہل فضل و شرف کی مخالفت کرتے، ان کے خلاف سازشیں کرتے اور جھوٹ باندھتے۔ بصرہ کے اندر حضرت اشج عبدالقیس رضی اللہ عنہ جن کا نام عامر بن عبدالقیس تھا۔ یہ انتہائی شریف اور متقی تھے، آپ اپنی قوم کے سردار تھے، یہ اپنی قوم کا وفد لے کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور آپﷺ سے دین کی تعلیم حاصل کی تھی۔ رسول اللہﷺ نے ان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا تھا:

ان فیک خصلتین یحبہما اللّٰه و رسولہ الحلم والاناۃ۔

(صحیح مسلم: الایمان: 25 امام نووی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ ’’حلم‘‘ سے مراد عقل مندی اور ’’اناۃ‘‘ سے مراد عدم عجلت ہے۔

’’تمہارے اندر دو خصلتیں ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کو محبوب ہیں: عقل مندی و بردباری اور جستجو (عدم عجلت)۔‘‘

اشج عبدالقیس رضی اللہ عنہ قادسیہ وغیرہ معرکوں میں قائدین جہاد میں سے تھے، بصرہ میں مقیم تھے، بہت ہی زیادہ اصلاح و تقویٰ کے مالک تھے، خارجیوں نے آپ پر اتہام باندھا اور جھوٹ گھڑا۔ امیر المؤمنین عثمانؓ نے ان کو شام میں سیدنا معاویہؓ کے پاس بھیج دیا۔ جب حضرت معاویہؓ نے ان سے گفتگو کی تو ان کی برأت اور سچائی اور خوارج کا جھوٹ اور افتراء دونوں واضح ہو گئے۔ جس نے آپ پر جھوٹ باندھا تھا وہ حمران بن ابان تھا، یہ عصیان میں ڈوبا ہوا بے دین آدمی تھا۔ ایک عورت سے عدت کے دوران ہی میں شادی کر لی تھی، حضرت عثمان غنیؓ کو جب اس کی اطلاع ملی تو آپ نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی، اس پر کوڑے لگائے اور اس کی معصیت کی وجہ سے اسے سخت سزا دی، اور بصرہ کی طرف جلا وطن کر دیا، وہاں پہنچ کر اس کی ملاقات سبائی لیڈر حکیم بن جبلہ چور سے ہوگئی۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 333، 334)