جنگ جمل میں لڑائی بھڑکانے میں سبائیوں کا کردار - دفاعِ اہلِ…

جنگ جمل میں لڑائی بھڑکانے میں سبائیوں کا کردار

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

جب قعقاع رضی اللہ عنہ نے لوٹ کر امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کو اپنی گفتگو سے آگاہ کیا، تو اس کی تاکید کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عائشہ و زبیر رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں کے پاس دو قاصد بھیجے،

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 525)

دونوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آ کر بتلایا کہ معاملہ ویسا ہی ہے جیسا کہ قعقاع بتلا رہے ہیں چنانچہ آپ چلیے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کیا کوچ کیا، ان کے سامنے پڑاؤ ڈالا، قبائل نے قبائل کے سامنے پڑاؤ ڈالا، مضر والے مضر والوں کے سامنے، ربیعہ والے ربیعہ والوں کے سامنے، یمن والے یمن والوں کے سامنے، ان کا ارادہ اور گفتگو صرف صلح کی تھی۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 539) 

امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جب کوچ کا ارادہ کیا تو اپنے اہم فیصلے کا اعلان کیا کہ میں کل کوچ کرنے والا ہوں تو تم سب بھی بصرہ کی طرف کوچ کرو، خبردار کل کوئی بھی ایسا شخص کوچ نہ کرے جس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف کسی طرح کا تعاون کیا ہو۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 525)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فوج میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والے سرکش خوارج میں سے ایسے لوگ بھی موجود تھے جن کی شناخت نہ ہوسکی تھی، ایسے بھی تھے جن کا قبیلہ ان کی مدد کر رہا تھا، ایسے بھی تھے جن کے خلاف کوئی شرعی شہادت نہیں مل رہی تھی، ایسے بھی تھے جو اپنے دلوں میں چھپے نفاق کو ظاہر نہ کرسکے تھے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 526)

سبائیوں کی شدید خواہش تھی کہ فتنہ برپا کیا جائے اور اس کی آگ بھڑکائی جائے تاکہ ان سے قصاص نہ لیا جائے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 525، تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 120)

جب لوگوں نے سفر ختم کرکے پڑاؤ ڈالے اور مطمئن ہوگئے تو علی اور طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہم نکلے، کچھ باتوں پر ان کا ابتداء ہی میں اتفاق تھا، دیگر مختلف فیہ امور پر گفتگو ہوئی، اس نتیجے پر پہنچے کہ معاملہ جب واضح ہونے لگا ہے تو ترکِ قتال اور صلح سے بہتر کوئی چیز نہیں، اسی بات پر مجلس برخواست ہوگئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے گروہ اور طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما اپنے گروہ کی جانب چلے گئے، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنے ساتھیوں کے سرداروں کو اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کرنے والوں کو چھوڑ کر اپنے ساتھیوں کے سرداروں کو یہ پیغام پہنچا دیا، لوگ صلح و عافیت کی نیت سے رات گزاری، انھیں صلح کے بارے میں کوئی شک نہیں تھا، ان میں سے بعض بعض کے سامنے تھے، ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے تھے، ان کی نیت صرف صلح کی تھی، فتنہ برپا کرنے والوں کی رات بڑی پریشانی میں گزر رہی تھی، اس لیے کہ ان کی ہلاکت بہت قریب تھی پوری رات مشورہ کرتے رہے ان میں سے کسی نے کہا: طلحہ و زبیر( رضی اللہ عنہما ) کی رائے ہم پہلے سے جانتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی رائے ہم آج جان سکے جب انھوں نے لوگوں سے مطالبہ کیا کہ وہ کل کوچ کریں، لیکن ان کے ساتھ کوئی ایسا شخص کوچ نہ کرے جس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف کسی طرح کا تعاون کیا ہے، اللہ کی قسم ہمارے بارے میں لوگوں کی رائے ایک ہے۔ اگر ان لوگوں کی سیدنا علی(رضی اللہ عنہ) کے ساتھ مصالحت ہوجاتی ہے تو ہمارا خون بہے گا۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 526)

ان کے مشیر لونڈی کے بچے عبداللہ بن سبا نے کہا: تمھاری عزت لوگوں کے ساتھ ملے رہنے میں ہے، ان کے ساتھ مل کر رہو، کل جب لوگ اکٹھے ہوں تو جنگ کی آگ بھڑکا دو، انھیں غور و فکر کا موقع نہ دو، اور جب تم ان کے ساتھ رہو گے تو وہ ضرور حمایت کریں گے، اس طرح اللہ تعالیٰ علی، زبیر، طلحہ( رضی اللہ عنہم ) اور ان کی رائے سے متفق لوگوں کو تمھارے قتل سے غافل کردے گا، اس لیے یہی رائے قائم کرکے اس طرح یہاں سے نکلو کہ لوگوں کو پتہ نہ چل سکے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 527)

چنانچہ وہ راز داری میں جنگ کی آگ بھڑکانے کی رائے پر متفق ہوگئے، اور تاریکی ہی میں اس طرح نکل پڑے کہ ان کے پڑوسیوں کو پتہ نہ چل سکا، ان میں سے قبیلۂ مضر والے مضر والوں کی جانب، ربیعہ والے ربیعہ والوں کی جانب، یمن والے یمن والوں کی جانب نکل پڑے، اور تلواروں سے حملہ کردیا، چنانچہ اہل بصرہ اور تمام لوگ اچانک حملہ کرنے والوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، اور زبیر و طلحہ رضی اللہ عنہما لوگوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوگئے اور جنگ برپا ہوگئی۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 541)

میں نے اپنی کتاب ’’أسمی المطالب فی سیرۃ أمیر المومنین علی بن أبی طالب‘‘ میں جنگ جمل کی تفصیلات کو ذکر کیا ہے۔

جنگ جمل کے پیچھے سبائیوں کا ہاتھ تھا اس پر تقریباً علماء کا اجماع ہے، چاہے ان علما نے ان کا تذکرہ مفسد سے کیا ہو، یا اوباش یا قاتل، یا بے وقوف یا شورش پسند یا سبائی سے۔

(عبداللہ بن سبأ و أثرہ فی أحداث الفتنۃ فی صدر الإسلام: صفحہ 194)

درج ذیل نصوص اس بات کی تائید کرتے ہیں:

ا: عمر بن شبہ کی ’’اخبارِ بصرہ‘‘ میں وارد ہے کہ جن لوگوں کی جانب قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ کو منسوب کیا جاتا ہے انھیں اس بات کا خوف لاحق ہوگیا کہ دونوں فریق ان کے قتل کردینے پر صلح کرلیں گے اس لیے انھوں نے ان کے مابین جنگ کی آگ بھڑکا دی، تا آنکہ جو ہونا تھا ہوا۔

(فتح الباری: جلد 13 صفحہ 56)

ب: امام طحاویؒ کا قول ہے: ’’علی و طلحہ رضی اللہ عنہما کے نہ چاہتے ہوئے جنگ جمل کا فتنہ برپا ہوگیا۔ سابقین کے نہ چاہتے ہوئے اسے مفسدوں نے برپا کردیا۔‘‘

(شرح العقیدۃ الطحاویۃ: صفحہ 546) 

صفحہ 1 از 2