Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے قاضی ابن العربی رحمۃاللہ کی تعریف

  علی محمد الصلابی

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خصائل کو ابن العربیؒ نے بیان کرتے ہوئے درج ذیل خصلتوں کو بیان کیا ہے: اسلامی ناموس کا بچاؤ، سرحدوں کی حفاظت، فوجوں کی اصلاح، دشمنوں پر غلبہ اور مخلوق کی سیاست۔

(العواصم من القواصم: صفحہ 210، 211)

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے محب الدین خطیبؒ کہتے ہیں:

’’اس سلسلے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ہمت اور توجہ اس حد تک تھی کہ جب انھیں یہ معلوم ہوا کہ بادشاہِ روم بہت بڑا لشکر لے کر اسلامی حدود کے قریب آ رہا ہے تو صفین میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ برسرپیکار ہونے کے باوجود بادشاہِ روم کے پاس دھمکی بھرا پیغام بھیجا۔‘‘

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 31)

اس سلسلے میں ابن کثیر رحمۃاللہ کہتے ہیں:

’’بادشاہِ روم کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر چڑھائی کر دینے کا لالچ ہوا، باوجودیکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اسے خوفزدہ، ذلیل اور اس کی فوج کو مغلوب اور رسوا کر چکے تھے، بادشاہِ روم نے جب دیکھا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ میں مشغول ہیں تو بہت بڑی فوج لے کر بعض اسلامی علاقوں کے قریب آ گیا اور ان پرچڑھائی کر دینے کا اسے لالچ پیدا ہوا، اس وقت سیدنا معاویہؓ نے اس کو لکھا: اللہ کی قسم اے ملعون! اگر تو اپنے ارادے سے باز نہ آیا اور اپنے علاقوں میں واپس نہ گیا تو تیرے خلاف میں اپنے چچیرے بھائی (علی رضی اللہ عنہ) سے صلح کر لوں گا اور تجھے تیرے تمام علاقوں سے بے دخل کردوں گا اور وسعت کے باوجود زمین کو تجھ پر تنگ کر دوں گا، یہ سن کر بادشاہِ روم ڈر گیا اور مصالحت کا پیغام بھیجا۔‘‘

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 119)