مصر کے باغیوں سے مذاکرات کے لیے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو روانہ کرتے ہیں
علی محمد الصلابییہ باغی شہادت سے تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل ذی مروہ میں اترے۔ سیدنا عثمان غنیؓ نے سیدنا علیؓ اور ایک دوسرے شخص کو ان سے مذاکرات کے لیے بھیجا، اس دوسرے شخص کا نام روایات میں مذکور نہیں۔ حضرت علیؓ ان سے جا کر ملے اور ان سے کہا: اللہ کی کتاب کے مطابق تمہارے مطالبات پورے کیے جائیں گے بشرطیکہ اپنے تمام اعتراضات سے باز آ جاؤ، انہوں نے اس سے موافقت کی۔
(تاریخ دمشق ترجمۃ عثمان: صفحہ 328، تاریخ خلیفۃ: صفحہ 169۔170)
اور ایک روایت میں ہے کہ دو یا تین مرتبہ طرفین سے سخت کلامی ہوئی اور پھر ان لوگوں نے کہا: رسول اللہﷺ کے چچا زاد بھائی اور امیر المؤمنین کے سفیر، تمہارے اوپر اللہ کی کتاب پیش کر رہے ہیں قبول کر لو چنانچہ انہوں نے قبول کر لیا۔ (فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 129)
پانچ نکتوں پر مصالحت ہو گئی۔ جلا وطن کو واپس کیا جائے گا، محروم کو عطا کیا جائے گا، فے اور مال غنیمت کو تقسیم کیا جائے گا، تقسیم میں عدل و انصاف کیا جائے گا، امانت و قوت سے متصف لوگوں کو عامل و افسر بنایا جائے گا۔
اس کو ایک دستاویز میں تحریر کیا گیا، اور یہ شرط رکھی گئی کہ حضرت عبداللہ بن عامرؓ کو بصرہ پر دوبارہ گورنر مقرر کیا جائے اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو کوفہ پر بحیثیت گورنر باقی رکھا جائے۔
(ایضاً)
اس طرح سیدنا عثمان غنیؓ نے ہر وفد سے الگ الگ مصالحت کی، اور پھر یہ سب اپنے اپنے وطن کو واپس ہو گئے۔
(ایضاً)