آپ حضرات خود کو سنی یا اہلِ سنت والجماعت کہلواتے ہیں۔ برائے…

آپ حضرات خود کو سنی یا اہلِ سنت والجماعت کہلواتے ہیں۔ برائے مہربانی کتب صحاح ستہ میں کوئی ایسی روایت دکھائیے جِس میں ابوبکر، عمر، عثمان (رضی اللہ عنھم) میں سے کِسی ایک نے بھی یہ کہا ہو کہ میں سنی ہوں ہو یا میرا مذہب اہلِ سنت والجماعت ہے۔ حوالہ مکمل دیجیے۔۔۔ اور پیش کردہ روایت کی توثیق بھی تحریر فرمائیے۔

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 1 از 6

♦️ رافضی عبد الکریم مشتاق کا سوال نمبر 1:- ♦️

آپ حضرات خود کو سنی یا اہلِ سنّت والجماعت کہلواتے ہیں۔ برائے مہربانی کتب صحاح ستہ میں کوئی ایسی روایت دکھائیے جِس میں ابوبکر، عُمَر، عُثمان (رضی اللّٰهُ تعالٰی عنھم) میں سے کِسی ایک نے بھی یہ کہا ہو کہ میں سنی ہوں ہو یا میرا مذہب اہلِ سنّت والجماعت ہے۔ حوالہ مکمل دیجیے۔۔۔ اور پیش کردہ روایت کی توثیق بھی تحریر فرمائیے۔

♦️ الجواب اہلسنّت ♦️

1️⃣۔ یہاں تو عبد الکریم مشتاق صاحب نے حدیث سے اپنے اہلِ سنّت ہونے کا مطالبہ پیش کیا ہے، لیکن انہوں نے اپنے رسالہ "میں شیعہ کیوں ہوا" کے آخر میں مذہبِ اہلِ سنّت والجماعت پر جو نمبردار یکصد سوالات وارد کیے ہیں اس میں پہلا سوال یہ ہے کہ:

"آپ کے مذہب کا نام سنی، اہلِ سنّت یا اہلِ سنّت والجماعت  ہے۔ قرآن کی اس آیت کا نشان دیجیے جہاں آپ کے مذہب کا نام مذکور ہو؟؟"

گویا کہ شیعہ سائل صاحب کا یہ مطلب ہے کہ اگر قرآن مجید میں یا کِسی حدیث میں اہلِ سنّت یا اہلِ سنّت والجماعت کے الفاظ کا ثبوت نہیں ملتا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مذہب اہلِ سنّت برحق نہیں ہے۔ اور پھر سائل موصوف نے نمبر شمار بڑھانے کے لیے اسی ایک سوال کو مختلف اجزاء میں پھیلا کر اس کے دس عدد سوالات بنا دیے ہیں۔ حالانکہ ان کی یہ روش صِرف سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے ہے، جِس کا تحقیق حق یا تبلیغ حق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر اس قسم کے سوالات کی بنا پر کسی مذہب کے حق اور باطل ہونے کا فیصلہ کیا جائے تو پھر شیعہ مذہب کی حیثیت تو بالکل ختم ہو جائے گی۔

♦️1۔) مثلًا شیعہ مذہب میں حضور خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ سے لے کر امام غائب حضرت مہدی تک بارہ امام اللّٰه تعالٰی کی طرف سے مثل انبیائے کرام کے نامزد ہیں۔ اور وہ انبیائے سابقین حضرت ابراہیم خلیل اللّٰه، حضرت موسٰی کلیم اللّٰه اور حضرت عیسٰی روح اللّٰه علیھم السلام سے بھی افضل ہیں۔

  ✳️ شیعوں کے نزدیک اصول دین پانچ ہیں۔ ✳️

پہلا، "توحید" 

دوسرا "عدل"

تیسرا "نبوت"

چوتھا "امامت"

پانچواں "قیامت"، ملاحظہ ہو۔

تحفۃ العوام حصہ اول ص 3 مطبوعہ لکھنئو 1931ء اور مولوی عبد الکریم صاحب مشتاق نے بھی اپنے رسالہ "میں شیعہ کیوں ہوا" صفحہ 4 پر لکھا ہے:-

"مذہبِ شیعہ کے مطابق اِسلام کی اساس مندرجہ ذیل پانچ اصولوں پر ہے۔

1: توحید،

2: عدل،

3: نبوت و رسالت،

4: امامت،

5: قیامت۔ "

لیکن موجودہ قُرآن میں جہاں توحید و رسالت اور قیامت کا جابجا ذکر ملتا ہے وہاں امامت کا مثل نبوت و رسالت کے کہیں ثبوت نہیں ملتا۔

حضرت محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد ایمانیات میں امامت اور اماموں پر ایمان لانے کا کسی آیت میں بھی کوئی حکم نہیں پایا جاتا۔ مثلًا فرمایا:-

{اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ إِلَیۡہِ مِنۡ رَّبِّهٖ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ؕ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ ۟}

(سورہ البقرہ، آیت 285)

ترجمہ: 

"رسول اللّٰہ (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) اس (وحی) پر ایمان رکھتے ہیں، جو آپ کے رب کی طرف سے آپ کے پاس نازل کی گئی ہے، اور مومنین بھی (اس پر ایمان رکھتے ہیں) سب کے سب ایمان رکھتے ہیں اللّٰه کے ساتھ اور اس کے فرشتوں کے ساتھ اور اس کی کتابوں کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ۔"

یہاں ملائکہ اور رسل پر ایمان لانے کا تو ذکر واضح ہے لیکن امامت اور ائمہ پر ایمان لانے کا کوئی ادنٰی سے ادنٰی نشان بھی موجود نہیں ہے۔

♦️2۔) {لَیۡسَ الۡبِرَّ أَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡھَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَةِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ}

۔(سورہ البقرہ، آیت 177)

ترجمہ: 

"یہ پوری نیکی نہیں ہے کہ تم اپنے مونہوں کو مشرق یا مغرب کی طرف کر لو، لیکن کامل نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اللّٰه پر ایمان رکھے اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور کتابوں پر اور نبیوں پر۔"

اس آیت میں بھی انبیاء، ملائکہ وغیرہ پر ایمان رکھنے کا ذکر تو صراحتًا پایا جاتا ہے۔ لیکن اس میں امامت اور ائمہ کا کہیں سراغ نہیں ملتا۔ شیعہ علماء اس قُرآن عظیم میں کوئی ایسی آیت ثابت کر دیں جِس میں مومنین کے لیے مثل انبیاء و رسل کے امامت اور ائمہ پر ایمان لانے کا حکم یا ذکر موجود ہے۔

♦️3۔) تعجب ہے کہ جو انبیائے کرام علیھم السلام پہلی امتوں میں گزر چکے ہیں ان سب پر تو ایمان لانے کا ذکر موجود ہے۔ اور ان میں سے بعض انبیائے کرام علیھم السلام کا نام لے کر ان پر اور ان کی کتابوں اور صحیفوں پر ایمان لانے کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔۔ مثلًا:

{قُولُوا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلٰى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَآ أُوْتِيَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَمَآ أُوْتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَّبِّهِمْ۔}

(سورہ البقره، آیت 136)

ترجمہ:-

"تم کہہ دو کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللّٰہ پر اور اس پر جو ہماری طرف نازل ہوا ہے اور اس پر جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور آپ کی اولاد کی طرف نازل ہوا ہے، اور اس پر جو حضرت موسٰی حضرت عیسٰی کو دیا گیا ہے ، اور اس پر جو دوسرے پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا ہے۔"

لیکن حسب عقیدہ شیعہ جِن بارہ اماموں پر مثلِ انبیاء و رسل کے ایمان لانا فرض ہے اور جو انبیائے سابقین علیھم السلام سے بھی افضل ہیں ان پر ایمان لانے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ اور نہیں تو کم از کم ان پہلے تین اماموں پر ایمان لانے کا تو ذکر ضروری تھا جو نزول قرآن کے وقت موجود تھے۔

صفحہ 1 از 6