Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عبادت

  علی محمد الصلابی

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کافی عبادت گزار تھے، عبادت کے وسیع مفہوم کو سیدنا حسنؓ نے اپنی زندگی میں برتا، عبادت کا شوق سیدنا حسنؓ کو خاندانِ نبوت سے بچپن ہی میں حاصل ہوچکا تھا، سیدنا حسنؓ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے تربیت یافتہ تھے جو اپنے والد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خادم طلب کرنے آتی ہیں تو آپﷺ انھیں اس سے بہتر چیز تسبیح و تحمید اور تہلیل و تکبیر کی جانب رہنمائی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اور ان کے شوہر سے رات میں جب کہ وہ بستر پر ہوتے کہتے: اٹھو نماز پڑھو، چنانچہ سیدنا حسنؓ نے زہد و عبادت، ورع و تقویٰ اور حلم و صبر سے معمور خانوادے میں آنکھیں کھولیں، یہ بنیادی باتیں، مفاہیم اور اعلیٰ قدریں سیدنا حسنؓ کی زندگی میں اس قدر رچ بس گئیں کہ آپ ان میں ضرب المثل ہوگئے، سیدنا حسنؓ کے معاصر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور دیگر نیک لوگ اس کی شہادت دیتے ہیں۔

سیدنا حسنؓ شعوری طور پر عبادت گزار تھے، یقین کے ساتھ سیدنا حسنؓ اللہ والے تھے، دنیا اور اس کے مشاغل سے پوری رضا مندی اور اطمینان کے ساتھ بے رغبت تھے، اسی لیے جب سیدنا حسنؓ وضو کرکے فارغ ہوتے تو آپ کا رنگ بدل جاتا، اس سلسلے میں سیدنا حسنؓ سے پوچھا گیا تو آپ نے جواب دیا: جو عرش والے کے حضور جانے کا ارادہ کرے اس کا رنگ بدل جانا چاہیے۔

(وفیات الاعیان: جلد 2 صفحہ 69)

ابن سعدؒ کا قول ہے:

ما رأیت أخوف من الحسن بن علی و عمر بن عبدالعزیز، کأن النار لم تخلق إلا لہما۔

(الطبقات الکبریٰ: جلد 5 صفحہ 398)

’’میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور  عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے کو نہیں دیکھا، ایسا لگتا تھا کہ جہنم انھی کے لیے بنائی گئی ہے۔‘‘

بندہ جس قدر اپنے رب سے قریب ہوتا ہے، اس کے اسماء اور صفات کمالیہ سے جس قدر آگاہ ہوتا ہے اسی قدر اللہ سے اس کا خوف اور اس کی ہیبت بڑھ جاتی ہے، اللہ تعالیٰ لوگوں کے احوال بدلتا رہتا ہے۔فرمان الہٰی ہے:

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الۡمُلۡكِ تُؤۡتِى الۡمُلۡكَ مَنۡ تَشَآءُ وَتَنۡزِعُ الۡمُلۡكَ مِمَّنۡ تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ‌ بِيَدِكَ الۡخَيۡرُ‌ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 26)

ترجمہ: کہو کہ: اے اللہ! اے اقتدار کے مالک! تو جس کو چاہتا ہے اقتدار بخشتا ہے، اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے عزت بخشتا ہے اور جس کو چاہتا ہے رسوا کر دیتا ہے، تمام تر بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ یقیناً تو ہر چیز پر قادر ہے۔

وہ حکومتوں کو پلٹ دیتا ہے، ایک حکومت کو ختم کرتا ہے، دوسری حکومت کو لاتا ہے، فرشتے معاملات کو لے کر اس کے پاس جاتے ہیں اور اس کے پاس سے آتے رہتے ہیں، اس کے اوامر صادر ہوتے ہیں اور اس کی چاہت کے مطابق نافذ ہوتے رہتے ہیں، وہ جو چاہتا ہے جس طرح چاہتا ہے جس وقت چاہتا ہے اور جس طریقے سے چاہتا ہے بلا کم و کاست اور بغیر تقدیم و تاخیر کے وجود میں آجاتا ہے، اسی کی سلطنت ہے آسمانوں میں، زمین اور اس پر موجود تمام چیزوں میں، سمندروں میں، فضاؤں میں، اور دنیا کے تمام حصوں میں، وہ جس طرح چاہتا ہے اس میں الٹ پھیر اور تصرف کرتا ہے۔

(الإیمان أولا فکیف نبدأ بہ: مجدی الہلالی: صفحہ 73)

فرمان الہٰی ہے:

يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الۡاَرۡضِ ثُمَّ يَعۡرُجُ اِلَيۡهِ فِىۡ يَوۡمٍ كَانَ مِقۡدَارُهٗۤ اَلۡفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ۞ (سورۃ السجدة آیت 5)

ترجمہ: وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر کام کا انتظام خود کرتا ہے، پھر وہ کام ایک ایسے دن میں اس کے پاس اوپر پہنچ جاتا ہے جس کی مقدار گنتی کے حساب سے ایک ہزار سال ہوتی ہے۔

آسمانوں اور زمین میں، سمندروں کی گہرائیوں اور پہاڑوں کی تہوں میں کوئی بھی ذرہ اللہ سے مخفی نہیں، فرمان الہٰی ہے:

وَعِنۡدَهٗ مَفَاتِحُ الۡغَيۡبِ لَا يَعۡلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ‌ وَيَعۡلَمُ مَا فِى الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ‌ وَمَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِىۡ ظُلُمٰتِ الۡاَرۡضِ وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ ۞ (سورۃ الأنعام آیت 59)

ترجمہ: اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور خشکی اور سمندر میں جو کچھ ہے وہ اس سے واقف ہے کسی درخت کا کوئی پتہ نہیں گرتا جس کا اسے علم نہ ہو، اور زمین کی اندھیریوں میں کوئی دانہ یا کوئی خشک یا تر چیز ایسی نہیں ہے جو ایک کھلی کتاب میں درج نہ ہو۔

اللہ کی عظمت و جلال کا شعور اور اس کے اسماء و صفات کی معرفت، بندے میں اللہ کا ڈر اور خوف اور اس کی خشیت پیدا کرتی ہے،

(الإیمان أولا فکیف نبدأ بہ: مجدی الہلالی: صفحہ 76) 

فرمان الہٰی ہے:

وَلِلّٰهِ يَسۡجُدُ مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا وَّظِلٰلُهُمۡ بِالۡغُدُوِّ وَالۡاٰصَالِ۞ (سورۃ الرعد آیت 15)

ترجمہ: اور وہ اللہ ہی ہے جس کو آسمانوں اور زمین کی ساری مخلوقات سجدہ کرتی ہیں، کچھ خوشی سے، کچھ مجبوری سے، اور ان کے سائے بھی صبح و شام اس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ (آیت سجدہ)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما مسجد نبوی میں فجر کی نماز پڑھ کر اسی جگہ بیٹھے اللہ کے ذکر و فکر میں مشغول رہتے تاآنکہ سورج بلند ہو جاتا، سیدنا حسنؓ کے پاس سردار قسم کے لوگ بیٹھ کر باتیں کرتے، پھر سیدنا حسنؓ اٹھ کر امہات المؤمنینؓ کے پاس جاتے، ان سے سلام کرتے، بسااوقا ت وہ سیدنا حسنؓ کو تحفہ سے نوازتیں، پھر سیدنا حسنؓ گھر لوٹ جاتے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 193، 194)

ان نیک بختوں میں سے جن کے لیے فرشتے دعائے مغفرت کرتے ہیں وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھ کر اپنی نماز کی جگہ بیٹھے اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں، جیسا کہ امام احمدؒ کی روایت کردہ یہ حدیث بتلاتی ہے:

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللّٰه عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہُ صلي الله عليه وسلم اَلْمَلَائِکَۃُ تُصَلِّیْ عَلٰی أَحَدِکُمْ مَادَامَ فِیْ مُصَلَّاہُ الَّذِيْ صَلّٰی فِیْہِ مَا لَمْ یُحْدِثُ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہٗ، اَللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ۔

(مسند احمد: رقم:8106، احمد شاکر نے اس کی تصحیح کی ہے۔)

’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو بھی باوضو اپنی نماز کی جگہ میں جہاں اس نے نماز پڑھی ہے جب تک رہتا ہے فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں، اے اللہ تو اس کی مغفرت فرما دے اے اللہ تو اس پر رحم فرما۔‘‘

وَ إِنْ جَلَسَ یَنْتَظِرُ الصَّلَاۃَ صَلَّتْ عَلَیْہِ الْمَلَائِکَۃُ وَ صَلَاتُہُمْ عَلَیْہِ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہٗ اللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ۔

(مسند احمد: رقم: 1218، احمد شاکر نے اس کو حسن قرار دیا ہے۔)

’’اگر بیٹھ کر نماز کا انتظار کرتا ہے تو فرشتے اس کے لیے دعائِے مغفرت کرتے رہتے ہیں ان کی دعا یہ ہوتی ہے: اے اللہ تو اس کی مغفرت فرما، اے اللہ تو اس پر رحم فرما۔‘‘

امام احمدؒ نے عطاء بن سائب کی حدیث کو نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ’’میں ابو عبدالرحمٰن سلمی کے پاس گیا، وہ نمازِ فجر پڑھ کر بیٹھے تھے، میں نے کہا: اگر آپ اپنے بستر پر چلے جاتے تو وہ آپ کے لیے زیادہ آرام دہ تھا، انھوں نے کہا: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے: جو شخص نماز فجر پڑھ کر اپنی نماز کی جگہ بیٹھا رہتا ہے فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، ان کی دعائے مغفرت یہ ہے: اے اللہ تو اس کی مغفرت فرما، اے اللہ تو اس پر رحم فرما۔ اور جو (بیٹھ کر) نماز کا انتظار کرتا ہے فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، ان کی دعا یہ ہے: اے اللہ تو اس کی مغفرت فرما، اے اللہ تو اس پر رحم فرما۔‘‘

(مسند احمد: جلد 2 صفحہ 305، 306، احمد شاکر نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔)

شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا نمازِ فجر کے بعد تلاوت قرآن کے لیے گھر میں طلوع آفتاب تک ٹھہرنے، پھر اشراق کی دو رکعتوں کو پڑھنے کا ثواب مسجد میں ٹھہرنے کے ثواب کے برابر ہے، تو آپ نے جواب دیا: اس عمل میں کافی بھلائی اور عظیم اجر ہے، لیکن اس سلسلے میں وارد حدیثوں کے ظاہر سے پتہ چلتا ہے کہ اس کو وہی اجر نہیں ملے گا، یہ اجر اسی کو ملے گا جو مسجد میں اپنی نماز کی جگہ بیٹھا رہے، لیکن بیماری اور خوف کے باعث اگر کوئی فجر کی نماز اپنے گھر میں پڑھ کر نماز کی جگہ بیٹھ کر اللہ کے ذکر و فکر میں مشغول رہتا ہے یا قرآن کی تلاوت کرتا ہے تاآنکہ سورج بلند ہوجائے پھر وہ اشراق کی دو رکعتیں پڑھتا ہے، تو اسے وہ اجر ملے گا جو حدیثوں میں وارد ہے، اس لیے کہ اس نے معذور ہونے کے باعث اپنے گھر میں نماز پڑھی ہے، اسی طرح عورت جب نماز فجر کے بعد اپنی نماز کی جگہ بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتی ہے یا قرآن کی تلاوت کرتی ہے تاآنکہ سورج بلند ہو جائے، پھر وہ اشراق کی دو رکعتیں پڑھتی ہے تو اس کو وہی اجر ملے گا جو حدیثوں میں وارد ہے۔

(مجموعۃ فتاوی و مقالات متنوعۃ: ابن باز: جلد 11 صفحہ 403، 404)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی سیرت ہمیں بوقت صبح ذکر الہٰی کی اہمیت سکھلاتی ہے اور اس وقت نہ سونے کی ترغیب دلاتی ہے۔

ابن القیم رحمہ اللہ بوقت صبح ذکر الہٰی کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’فقہائے کرام کے نزدیک نماز صبح اور طلوع آفتاب کے درمیان سونا مکروہ ہے، وہ تو (ثوابوں کا) خزانہ سمیٹنے کا وقت ہوتا ہے، زاہدوں کے نزدیک اس وقت اللہ کی جانب متوجہ ہونے کی ایک خاص خصوصیت ہے، اگر رات بھر اللہ کی جانب متوجہ ہو کر عبادت کرتے رہے ہوں تو بھی اس وقت طلوع آفتاب تک عبادت منقطع نہیں کرتے ہیں، اس لیے کہ اسی وقت سے دن کی ابتدا ہوتی ہے، اسی وقت روزیاں نازل ہوتی ہیں اور تقسیم کی جاتی ہیں، اسی وقت برکتوں کانزول ہوتا ہے، وہیں سے دن شروع ہوتا ہے، دن کے اسی حصے کے حکم پر پورے دن کا حکم مرتب ہوتا ہے، اس لیے اضطراری حالت ہی میں اس وقت سونا چاہیے۔‘

(تہذیب مدارج السالکین: صفحہ 248)

اس وقت کی فضیلت اور اس میں اللہ کی عبادت کی اہمیت کے باعث اس وقت ذکر الہٰی میں مشغول رہنے کی احادیث میں شدید ترغیب دلائی گئی ہے، چنانچہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ صَلَّی الْفَجْرَ فِیْ جَمَاعَۃٍ ثُمَّ قَعَدَ یَذْکُرُ اللّٰہَ تَعَالٰی حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ کَانَتْ کَأَجْرِ حَجَّۃٍ وَ عُمْرَۃٍ تَامَّۃٍ تَامَّۃٍ تَامَّۃٍ۔

(سنن الترمذی: رقم: 586، امام ترمذیؒ کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)

’’جس نے نماز فجر باجماعت پڑھی، پھر بیٹھا طلوع آفتاب تک اللہ کو یاد کرتا رہا، پھر دو رکعت نماز پڑھی تو اس کو حج و عمرہ کا پورا پورا ثواب ملے گا۔‘‘

ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں: حج افضل اعمال میں سے ہے، لوگ اس کے کافی مشتاق ہوتے ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے دلوں میں خانۂ کعبہ کی جانب ایک خاص کشش رکھ دی ہے، اور بہت سارے لوگ اس افضل عمل کو ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں، بالخصوص ہر سال ادا نہیں کرسکتے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے ایسے اعمال مشروع قرار دیا کہ جن کا ثواب حج کے ثواب کے برابر ہوتا ہے تاکہ ان کے ذریعہ سے نفلی حج نہ کرسکنے والوں کو اس کا بدل مل جائے۔

(طائف المعارف: صفحہ 351، البدر فی الحث علی صلاۃ الفجر: الدکتور عماد علی: صفحہ 86)

استاذ بناء کہتے ہیں: اے برادرانِ محترم! ہر دن تمھارے سامنے صبح و شام اور سحر گاہی میں کچھ ایسے مخصوص اوقات ہیں جن میں تم ملا اعلیٰ سے اپنا روحانی ربط قائم کرسکتے ہو، اور دنیا و آخرت کی بھلائیوں سے اپنے دامنِ مراد کو بھر سکتے ہو، تمھارے سامنے اطاعتوں کے مواقع، عبادتوں کے دن اور قربتوں کی راتیں ہیں، جن کی جانب تمھیں قرآن مجید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ کرتے ہیں، اس لیے آپ بھرپور کوشش کریں کہ آپ ان اوقات میں ذکر الہٰی میں مشغول رہیں، غفلت نہ کریں، نیک عمل کرنے والے ہوں، عمل سے پہلو تہی کرنے والے نہ ہوں، وقت کو غنیمت سمجھیں، وقت تلوار کی مانند ہے، کاموں کو دوسرے وقت پر ٹالنے کی عادت چھوڑ دیں یہ بہت مضر عادت ہے۔

(الرقائق: صفحہ 18، نقلا عن مجلۃ الدعوۃ عدد: صفحہ 8، 1951ء الإیمان أولا: صفحہ 248)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما طلوع آفتاب کے وقت کہتے تھے:

سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللّٰہِ الْأَعْظَمِ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللّٰہِ الْأَمْجَدِ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔

(الطبقات: جلد 1 صفحہ 291، تحقیق السلمی: اس کی سند صحیح ہے۔)

’’سننے والے نے عظمتوں والے اللہ کی حمد کو سنا، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت اور تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ سننے والے نے بزرگیوں والے اللہ کی حمد کو سنا، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت اور تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ اورادو و ظائف اور دعاؤں کا التزام کرتے تھے، لوگوں کو مسجدوں میں باجماعت نماز ادا کرنے پر ابھارتے رہتے تھے، سیدنا حسنؓ فرمایا کرتے تھے جو شخص مسجد جاتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اسے درج ذیل خصلتوں میں سے ایک عطا کرتا ہے:

’’حاصل ہونے والی بھائی چارگی اور ڈھانپ لینے والی شفقت، یا وسیع علم، یا ہدایت کی کوئی بات، یا حیا اور ڈر سے گناہوں کا ترک کردینا۔‘‘

(عیون الأخبار: جلد 3 صفحہ 5، الحسن بن علی: صفحہ 27)

سیدنا حسنؓ تہجد گزار تھے، آپ رات کے پہلے پہر اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آخری پہر میں قیام (تہجد) کا اہتمام کرتے تھے۔

(الزہد لابن حنبل: صفحہ 171، رہبان اللیل: جلد 1 صفحہ 403 للعفانی)

قیام اللیل ایمان کی تازگی کے اہم ترین وسائل میں سے ہے، نیک لوگوں کے تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ دلوں کو زندگی عطا کرنے میں اس کا بہت موثر کردار ہوتا ہے۔

’’المدخل‘‘میں ابن الحاج کہتے ہیں: قیام اللیل کے بہت سارے فوائد ہیں، ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:

1۔ اس سے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے آندھی سے درخت کے سوکھے پتے۔

2۔ اس سے دلوں کو روشنی حاصل ہوتی ہے۔

3۔ قیام اللیل ادا کرنے والا آسمان سے فرشتوں کو ویسے ہی دکھائی دیتا ہے جیسا کہ زمین والوں کو آسمان پر کوئی روشن ستارہ۔

4۔ قیام اللیل اپنے ادا کرنے والے کے لیے ایسی روشنیوں اور برکتوں کا باعث ہوتا ہے جو بیان سے باہر ہیں۔

(الإیمان أولا: صفحہ 172)

قیام اللیل (تہجد) مومن کے لیے باعثِ شرف ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

شَرْفُ الْمُوْمِنِ صَلَاتُہٗ بِاللَّیْلِ وَ عِزُّہُ اسْتِغْنَاؤُہٗ عَمَّا فِیْ أَیْدِي النَّاسِ۔

(صحیح الجامع: رقم: 3701، السلسلۃ الصحیحۃ: رقم: 1903) 

’’مومن کا شرف قیام اللیل (تہجد) ادا کرنا ہے اور اس کی عزت لوگوں کے مال و دولت سے مستغنی رہنا ہے۔‘‘

حبِ الہٰی کے دعوے اس وقت تک نہیں مانے جاسکتے ہیں جب تک کہ اس کی دلیلیں نہ ہوں، رات کی گھڑیاں اس کی شہادت نہ دیں، پس ہر مدعی پر دلیل ضروری ہے، قیام اللیل کرنے والے ہی لوگوں کے مابین لائق عزت و احترام ہیں، اور ہم جیسے غافل اور سونے والوں کو مذکورہ گھڑیاں رسوا کردیتی ہیں، ان کا تذکرہ باقی نہیں رہتا، ان کی شرافت داغ دار ہو جاتی ہے۔

(الإیمان أولا: صفحہ 173)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی سیرت سے ہمیں قیام اللیل (تہجد) کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے، رات میں صدق و اخلاص کاجذبہ دلوں میں بسایا جاسکتا ہے، یہ جذبہ جس قدر زیادہ ہوگا دل میں بھلائی کا عنصر اسی قدر زیادہ ہوگا، اور دل میں بھلائی کا عنصر جس قدر زیادہ ہوگا اسی قدر ہر جانب سے بھلائی ہی بھلائی حاصل ہوگی۔ 

اِنۡ يَّعۡلَمِ اللّٰهُ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ خَيۡرًا يُّؤۡتِكُمۡ خَيۡرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنۡكُمۡ ۞ (سورۃ الأنفال آیت 70)

ترجمہ: اگر اللہ تمہارے دلوں میں بھلائی دیکھے گا جو مال تم سے (فدیہ میں) لیا گیا ہے اس سے بہتر تمہیں دیدے گا اور تمہاری بخشش کردے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

’’اگر اللہ تعالیٰ تمھارے دلوں میں نیک نیتی دیکھے گا تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر تمھیں دے گا۔‘‘

قیام اللیل (تہجد) شکر کی ان اہم ترین شکلوں میں سے ہے جنھیں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما انجام دیتے تھے، اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں کا شکر ادا کرنا عبودیت کے مقاصد میں سے ہے، شکر عمل ہے اور شکر گزار بندہ وہی ہوتا ہے جس پر نعمت کا اثر ظاہر ہو، اور بندے پر نعمت کا جو بھرپور اثر ظاہر ہونا چاہیے وہ تواضع و خاکساری اور نعمتوں کے عطا کرنے والے کی تعظیم ہے۔

(الإیمان أولا: صفحہ 174)

فرمان الہٰی ہے:

وَاِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِيۡبًا اِلَيۡهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعۡمَةً مِّنۡهُ نَسِىَ مَا كَانَ يَدۡعُوۡۤا اِلَيۡهِ مِنۡ قَبۡلُ وَجَعَلَ لِلّٰهِ اَنۡدَادًا لِّيُـضِلَّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ‌ قُلۡ تَمَتَّعۡ بِكُفۡرِكَ قَلِيۡلًا ‌اِنَّكَ مِنۡ اَصۡحٰبِ النَّارِ‏ ۞ اَمَّنۡ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّيۡلِ سَاجِدًا وَّقَآئِمًا يَّحۡذَرُ الۡاٰخِرَةَ وَيَرۡجُوۡا رَحۡمَةَ رَبِّهٖ‌ قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِى الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‌ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ۞ ( سورۃ الزمر آیت 8، 9)

ترجمہ: اور جب انسان کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کو اسی سے لو لگا کر پکارتا ہے، پھر جب وہ انسان کو اپنی طرف سے کوئی نعمت بخش دیتا ہے تو وہ اس (تکلیف) کو بھول جاتا ہے جس کے لیے پہلے اللہ کو پکار رہا تھا، اور اللہ کے لیے شریک گھڑ لیتا ہے، جس کے نتیجے میں دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے بھٹکاتا ہے۔ کہہ دو کہ: کچھ دن اپنے کفر کے مزے اڑا لے، یقیناً تو دوزخ والوں میں شامل ہے۔ بھلا (کیا ایسا شخص اس کے برابر ہوسکتا ہے) جو رات کی گھڑیوں میں عبادت کرتا ہے، کبھی سجدے میں، کبھی قیام میں، آخرت سے ڈرتا ہے، اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہے؟ کہو کہ: کیا وہ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے سب برابر ہیں؟ (مگر) نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے نعمت یافتہ دو طرح کے لوگوں کے بارے میں ان آیتوں میں گفتگو کی گئی ہے، پہلے وہ لوگ جو مشکل حالات سے گزر رہے تھے، تکلیف و پریشانی میں مبتلا تھے، دل کی گہرائی سے اللہ کو پکارا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تکلیفوں کو ختم کردیا، پریشانیوں کو دور کردیا، لیکن انھوں نے شکر کا راستہ اختیار نہیں کیا اور اپنی سخت گمراہی کی جانب لوٹ گئے، دوسرے وہ لوگ جو اللہ کے سامنے گریہ وزاری اور راتوں میں لمبی دعائیں کرکے شکر کی راہ پر چلتے رہے، قرآن مجید ان دونوں صورتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے:

قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِى الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‌۞ (سورۃ الزمر آیت 9)

 ترجمہ: کہو کہ: کیا وہ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے سب برابر ہیں؟

یعنی جو شکر اور نعمتوں کے حقوق جانتے ہیں وہ اور وہ جو انھیں نہیں جانتے برابر نہیں ہوسکتے۔

(الإیمان أولا: صفحہ 175)

شاعر کہتا ہے:

القانتون المخبتون لربہم الناطقون بأصدق الأقوال

’’اپنے رب کے سامنے عجز و انکساری کا اظہار کرنے والے، فرماں بردار اور سچ بولنے والے بندے‘‘

یحیون لیلہم بطاعۃ ربہم بـتـلاوۃ و تــضـــرع و سـؤال

’’اپنے رب کی اطاعت میں شب بیداری کرتے ہیں دعا، گریہ وزاری اور قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔‘‘

و عیونہم تجری بفیض دموعہم مثل انہمال الوابل الہطال

’’موسلا دھار بارش کے مانند ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش ہورہی ہے۔‘‘

فی اللیل رہبان وعند جہادہم لعدُوِّہم من أشجع الأبطال

’’راتوں میں وہ عبادت گزار اور دشمنوں سے جہاد میں وہ بہادر ترین ہیں۔‘‘

بوجہہم أثر السجود لربہم و بہا أشعۃ نورہ المتلالی 

(رہبان اللیل: جلد 1 صفحہ 365)

’’ان کی پیشانیوں پر اپنے رب کے لیے سجدوں کے نشانات اور چمکتے نور کی شعاعیں ہیں۔‘‘

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے بکثرت حج کیے تھے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اپنی جوانی میں جس چیز کے نہ کرسکنے پر مجھے ندامت ہے وہ یہ کہ میں پیدل حج نہ کرسکا، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے پچیس مرتبہ پیدل حج کیا ہے جب کہ سیدنا حسنؓ کے ساتھ اونٹوں کا قافلہ چل رہا تھا، سیدنا حسنؓ نے اپنے اور اللہ کے مابین اپنے مال کو تین مرتبہ تقسیم کیا یہاں تک کہ چرمی موزہ دے دیتے اور جوتا اپنے پاس رکھتے۔

(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 260)

یہ ان چیزوں کے التزام کی مثال ہے جو شرعاً لازم نہیں ہیں۔ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما ان کا التزام کرتے تھے، اس طرح کہ سیدنا حسنؓ نے پچیس مرتبہ پیدل حج کا التزام کیا، اس سے حج کی ادائیگی میں پیدل چلنے کی فضیلت کا پتہ چلتا ہے، اس کی تائید عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ندامت سے ہوتی ہے کہ آپ اس چیز کو اپنے ایام شباب میں انجام نہ دے سکے جب کہ مشقت کے باوجود سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اس پر مداومت کرتے تھے۔ اس سے آپ کی قوتِ ایمانی اور مزید نیک اعمال کی سچی رغبت کا پتہ چلتا ہے۔ حج میں پیدل چلنے سے مقصود مکہ سے عرفہ اور عرفہ سے مکہ تک پیدل چلنا ہے، اس سے مقصود یہ نہیں کہ حاجی اپنے ملک سے پیدل چل کر حج کے لیے جائے۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 19، صفحہ 221)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی سیرت سے سہولت اور آسانی کی صورت میں خانۂ کعبہ کے سفر کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ فرمان نبوی ہے:

تَابِعُوْا بَیْنَ الْحَجِّ وَ الْعُمْرَۃِ فَإِنَّ مُتَابَعَۃُ بَیْنِہِمَا تَنْقِی الْفَقْرَ وَالذُّنُوْبَ کَمَا یَنْفِی الْکِیْرُ خُبْثَ الْحَدِیْدَ۔

(الإیمان أولا: صفحہ 249)

’’حج اور عمرے کے تسلسل کو باقی رکھو، ان کا تسلسل فقر اور گناہوں کو ایسے ہی ختم کر دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کی میل کچیل کو۔‘‘

اسی لیے بعض روایتوں کے مطابق سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے پچیس مرتبہ پیدل حج کیا جب کہ سیدنا حسنؓ کے ساتھ اونٹوں کا قافلہ چل رہا تھا۔

(تاریخ ابن عساکر: جلد 14 صفحہ 72)

آپ کہا کرتے تھے: میں اس بات پر شرم محسوس کرتا ہوں کہ اپنے رب سے اس حال میں ملوں کہ اس کے گھر کا پیدل سفر نہ کیے رہوں۔

(تاریخ ابن عساکر: جلد 14 صفحہ 71)

سیدنا حسنؓ بہت خاموش طبیعت اور اپنے نانا کے طریقے پر عبادت گزار تھے۔