جنگ جمل کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق نظریہ اور موقف
علی محمد الصلابیروافض کے نزدیک ابو جعفر بن بابویہ (محمد بن علی بن حسین ابو جعفر القمی جس کا لقب الصدوق ہے۔ فرقہ امامیہ کا سرغنہ تھا۔ 306 ہجری میں پیدا ہوا۔ شیعوں کے درمیان اس کی تصنیفات کا بڑا چرچا ہے اور اس کے حافظے کی مثال دی جاتی ہے۔ اس کی تصنیفات سے ’’دعائم الاسلام‘‘ اور ’’دین الامامیۃ‘‘ مشہور ہیں۔ 381 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 16 صفحہ 303۔ الاعلام للزرکلی: جلد 6 صفحہ 274۔) الصدوق نے جعفر سے اور اس نے اپنے باپ محمد سے روایت کی کہ مروان بن حکم نے کہا: جب بصرہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں شکست دے دی تو تمام مغلوب لوگوں کے اموال انھیں لوٹا دئیے، جن کے پاس کوئی گواہ تھا اس کی گواہی قبول کی اور جن کے پاس گواہ نہیں تھا تو ان سے حلف لے کر ان کے اموال لوٹا دئیے۔ بقول راوی کسی نے کہا: اے امیر المؤمنینؓ! آپ ہمارے درمیان مال غنیمت اور قیدی تقسیم کریں۔ جب لوگوں کا اصرار بڑھا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میں سے کون اپنے حصے میں ام المؤمنینؓ کو لے گا۔ تب وہ خاموش ہو گئے۔
(علل الشرائع: جلد 2 صفحہ 603)