اسلامی ر یاستوں کا تحقیقاتی دورہ
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنی شہادت سے پہلے یہ سوچا کرتے تھے کہ اعمال کی نگرانی، رعایا کی خبر گیری اور حکومت کی گوناگوں و کثیر معاملات میں اطمینان طلبی کا تقاضا ہے کہ میں بذات خود ریاستوں کا تحقیقاتی دورہ کروں چنانچہ آپؓ نے فرمایا: ان شاء اللہ اگر میں زندہ رہا تو پورے ایک سال اپنی رعایا کا دورہ کروں گا۔ میں جانتا ہوں کہ لوگوں کی کچھ ضرورتیں ہیں جو مجھ تک نہیں پہنچتی ہیں۔ ان کے افسران ان کی ضرورتیں مجھ تک نہیں پہنچاتے اور وہ خود مجھ تک نہیں پہنچ پاتے۔ میں شام جاؤں گا اور وہاں دو مہینے قیام کروں گا پھر الجزیرہ جاؤں گا اور وہاں دو مہینے قیام کروں گا، پھر کوفہ جاؤں گا اور وہاں دو مہینے قیام کروں گا، پھر بصرہ جاؤں گا اور وہاں دو مہینے قیام کروں گا۔ پھر اللہ کی قسم میری زندگی کا یہ کتنا پیارا سال ہو گا۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 18، الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 161) بہرحال آپؓ نے اپنے ان ارادوں میں سے کچھ کو تو عملی جامہ پہنایا خاص طور سے شام کی ریاست کا آپؓ نے کئی مرتبہ دورہ کیا اور وہاں کے حالات کا جائزہ لیا، وہاں کے گورنران و افسران کے گھروں میں داخل ہوئے،
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 161) تاکہ ان کی طرز رہائش کو قریب سے جان سکیں۔ چنانچہ آپؓ حضرت ابو عبیدہؓ کے گھر میں داخل ہوئے اور ان کی طرز رہائش و زاہدانہ زندگی کا مشاہدہ کیا، اسی دوران امیر المؤمنین اور حضرت ابو عبیدہؓ کی بیوی کے درمیان کچھ گفت و شنید بھی ہو گئی جس میں حضرت ابو عبیدہؓ کی بیوی نے اپنے گھرانے کی بدحال زندگی کے واسطہ سے حضرت عمرؓ کو کافی طنز و ملامت کی۔ بالکل اسی طرح آپؓ حضرت خالد بن ولیدؓ کے گھر گئے اور کوئی قابل ذکر چیز ان کے یہاں نہ ملی، صرف اسلحہ ملا جس کو درست کرنے میں اس وقت حضرت خالد بن ولیدؓ مشغول تھے۔ واضح رہے کہ جب آپؓ ان گورنران و افسران کی تحقیق و تفتیش میں نکلتے تھے تو اپنے ساتھ ایک آدمی لے کر اچانک ان کے گھر پہنچتے، وہ آدمی گورنر کا دروازہ کھٹکھٹاتا، اپنے ساتھیوں کے ساتھ خود اندر آنے کی اجازت مانگتا، انہیں نہیں معلوم ہوتا تھا کہ اجازت لینے والے کے ساتھ حضرت عمرؓ بھی موجود ہیں۔ اس طرح جب سیدنا عمرؓ رضی اللہ عنہ گھر میں داخل ہو جاتے تو دقت نظر سے گھر کے ایک ایک سامان کا جائزہ لیتے اور ہر چیز کی جانچ پڑتال کرتے۔
(تاریخ المدینۃ: جلد 3 صفحہ 837) ایک مرتبہ آپؓ نے حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے بارے میں سنا کہ وہ کھانے میں متنوع غذائیں استعمال کرتے ہیں تو آپؓ نے شام کے کھانے کے وقت ان کے گھر پہنچنے کا ارادہ کیا اور بالکل کھانے کے وقت پہنچے۔ جب ان کا کھانا دیکھا تو انہیں کھانے میں اسراف کرنے سے منع کیا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 162) آپؓ نے تحقیق و تفتیش کے لیے صرف انہی دوروں پر بس نہ کی بلکہ اس کے لیے دوسرے طریقے بھی اختیار کیے مثلاً یہ کہ بسا اوقات والیان ریاست کے پاس بہت زیادہ مال بھیجتے اور اس کے پیچھے ہی اپنے جاسوسوں کو بھی بھیجتے تاکہ یہ معلوم کریں کہ ہمارے گورنران و حکام ملکی خزانے میں کس طرح تصرف کرتے ہیں چنانچہ ایک مرتبہ آپؓ نے حضرت ابو عبیدہؓ کے پاس پانچ سو 500 دینار بھیجے۔ حضرت ابو عبیدہؓ نے انہیں پاتے ہی ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیا۔ ان کی بیوی کہنے لگیں: ’’اللہ کی قسم ہمارے گھر میں دیناروں کی آمد سے ہمیں نفع سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ ہمارے پاس نماز پڑھنے کے لیے ایک پرانا کپڑا تھا، حضرت ابو عبیدہؓ نے اسے پھاڑ ڈالا اور اس میں دیناروں کو بھر بھر کر ضرورت مندوں تک پہنچانا شروع کر دیا، سارے دینار ان پر تقسیم کر دیے، کچھ باقی نہ بچا۔‘‘
(تاریخ المدینۃ: جلد 3 صفحہ 837) حضرت عمرؓ نے شام کے سفر میں بالکل یہی طریقہ اپنے بعض دوسرے گورنران کے ساتھ اپنایا۔ ایسا نہیں تھا کہ آپؓ نے صرف دوران سفر اپنے گورنران کو جانچنے و پرکھنے پر اکتفا کیا ہو بلکہ ایسا بھی ہوتا تھا کہ انہیں مدینہ طلب کرتے اور ان کے کھانے پینے اور لباس پہننے کے انداز پر نگرانی کرنے کے لیے کسی کو مقرر کر دیتے۔ آپؓ کبھی کبھار خود یہ کام کیا کرتے تھے۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 162)