Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ثانیا اموال

  علی محمد الصلابی

امام بخاری رحمۃاللہ نے اپنی صحیح میں ذکر کیا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے وفد عبدالرحمٰن بن سمرہ اور عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہما سے کہا: ہم بنوعبدالمطلب اتنا مال پاچکے ہیں تو کون اس کی ذمہ داری لے گا؟ دونوں نے کہا: ہم اس کے ذمہ دار ہوں گے۔

(صحیح البخاری کتاب الصلح: حدیث نمبر 2704)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ان اموال کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے جنھیں وہ اور بنوعبدالمطلب کے دوسرے لوگ پاچکے تھے، ان کی مراد یہ تھی کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے ان کی واپسی کا مطالبہ نہ کریں، ایسے اموال کا ذکر نہیں کر رہے تھے جن کی آئندہ سال سے ادائیگی کا وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کرتے۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین: صفحہ 64) 

ابن اعثم نے ذکر کیا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: مال سے متعلق سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مجھ پر مسلمانوں کے مالِ فے کی واپسی کی شرط نہیں لگائیں گے۔

(الفتوح: جلد 3 صفحہ 293)

ابوجعفر طبری نے عوانہ بن حکم کی روایت ذکر کی ہے کہ اہل بصرہ نے اپنے مالِ فے کا مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور ’’دار ابجرد‘‘ کے خراج کے مابین رکاوٹ ڈال دی۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 165)

اس میں شک نہیں کہ خراج وصول کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے،

اس سلسلے میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور اہل بصرہ کے مابین کوئی براہِ راست ربط نہیں تھا، لیکن روایت اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ ’’دار ابجرد‘‘ کا خراج ان اموال میں نہیں تھا۔ جو سیدنا حسنؓ کو ملے تھے۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین: صفحہ 64)

بعض روایتوں میں ہے کہ سیدنا حسنؓ نے سیدنا معاویہؓ سے کہا: مجھ پر بہت سا قرض ہے اور بہت سے لوگوں سے وعدہ کر رکھا ہے، چناں چہ انھیں بیت المال سے چار لاکھ سے زیادہ دلا دیا۔

(تاریخ الإسلام: عہد معاویۃ: صفحہ 7)

ابن عساکرؒ نے ذکر کیا ہے کہ بیت المال سے انھیں دیا جاتا تھا جس سے وہ اپنے قرضوں کو ادا کرتے اور کیے ہوئے وعدوں کو پورا کرتے تھے، اسی سے وہ خود اور ان کے ساتھ رہنے والے اپنے اہل و عیال اور اپنے والد کے اہل و عیال کی ذمہ داری نبھاتے تھے۔

(تاریخ دمشق: جلد 14 صفحہ 90)

بعض مؤرخین کی رائے ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے بیت المال کے پچاس لاکھ درہم جنگوں میں ساتھ دینے والوں کے لیے روک لیے تھے۔ آپ اسی میں سے ان کو دیتے، اور وہی ان کے، نیز ان کے اہل بیتؓ اور ساتھیوں کے اخراجات میں کام آتا تھا۔

(فی التاریخ الإسلامی: شوقی ابوخلیل: صفحہ 268)

 اس میں شک نہیں کہ فوجیوں کو مال دینا کشیدگی کو کم کرنے میں معاون ہوتا ہے۔

لیکن صحیح بخاری کی روایت میں جو ہے میرے نزدیک وہی راجح ہے، معاملہ صرف ان اموال کو چھوڑ دینے کا مطالبہ کرنا تھا، جنھیں گزشتہ دنوں میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خاندان پاچکے تھے۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین: صفحہ 64)

ایسی روایتیں جن میں ان باتوں کا تذکرہ ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہر سال سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو دس لاکھ درہم اور ان کے بھائی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو بیس لاکھ درہم دیتے تھے، عطیات میں بنوہاشم کو بنوعبدشمس پر فوقیت دیتے تھے،

(الأخبار الطوال: صفحہ 218)

گویا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے خلافت کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بیچ دیا تھا، تو اس طرح کی روایتیں اور ان کی تفسیر و تجزیہ میں جو کچھ کہا گیا ہے سب ناقابل قبول ہیں، ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، اس لیے کہ وہ اس بات کی تصویر کشی کرتی ہیں کہ اپنی خاص مصلحتوں کے بالمقابل امت کی مصلحتوں سے متعلق سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا شعور و احساس بہت کمزور تھا۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین: صفحہ 63)

رہا معاملہ بیت المال سے عطیات کا تو اس میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ تنہا نہیں تھے بلکہ سب مسلمان شریک تھے، یہ ہوسکتا ہے کہ اس میں ان کا حق دوسروں سے زیادہ رہا ہو، لیکن وہ روایتوں میں مذکور مقدار کا عشر عشیر بھی نہیں ہو سکتا۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین: صفحہ 63)