امام بخاری رحمۃ اللہ کا مقام و مرتبہ - دفاعِ اہلِ سنت |…

امام بخاری رحمۃ اللہ کا مقام و مرتبہ

  ارشاد الحق اثری

صفحہ 1 از 2
حدیث پاک کے حفظ و ضبط اور صیانت و حفاظت میں جن نفوسِ قدسیہ نے لازوال خدمات سرانجام دیں ان میں ایک امام المحدثین امیر المومنین فی الحدیث حضرت امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمۃ اللہ ہیں۔
امام بخاریؒ 13 شوال، بعد از نمازِ جمعہ 194ھ میں پیدا ہوۓ۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی رحمہم اللہ زیادہ معروف ہیں۔ اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح رحمۃ اللہ کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرای پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ اور ان کے حفظ و ضبط اور معرفتِ حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ امام محمد بن سلام رحمۃ اللہ جو خود کبار محدثین میں شمار ہوتے ہیں۔ 5 ہزار احادیث انہیں یاد تھیں اور 40 ہزار درہم علمِ حدیث حاصل کرنے میں اور 40 ہزار حدیث کی نشر و اشاعت میں خرچ کیے۔ علم کے ہر باب میں انہوں نے کتابیں لکھیں۔ جن و انس ان کے حلقہ تلمذ میں شامل رہے۔ یحییٰ بن یحییٰ فرماتے ہیں کہ خراسان میں علم کے دو خزانے ہیں۔ ایک امام اسحاق بن راہویہؒ اور دوسرے محمد بن سلامؒ (التذکرہ، السیر، التہذیب وغیرہ) یہی امام محمد بن سلامؒ اپنے تلمیذ رشید امام بخاریؒ سے فرماتے: میری کتاب دیکھو اور جو غلطی اس میں محسوس کرو اس کو درست کرتے جاؤ۔ حاضرین میں سے ایک نے کہا یہ نوجوان کون ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: 
هذا الذی ليس مثلہ
 ترجمہ: یہ وہ ہے جس کا کوئی ثانی نہیں۔ 
سلیم بن مجاہدؒ کا بیان ہے کہ میں امام محمد بن سلامؒ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا اس سے پہلے آتے تو تم ایک ایسا لڑکا دیکھتے جس کو ستر (70) ہزار احادیث یاد ہیں۔ سلیم کہتے ہیں یہ سن کر مجھے حیرت ہوئی۔ اس کی تلاش میں نکلا۔ اتفاقاً اس سے میری ملاقات ہو گئی میں نے کہا: 
اے نوجوان تمہارا دعویٰ ہے کہ تجھے ستر ہزار حدیثیں یاد ہیں۔ تو امام بخاری رحمۃ اللہ نے فرمایا بلا ریب مجھے 70 ہزار احادیث یاد ہیں بلکہ جس حدیث کی نسبت سوال کریں گے ان میں اکثر راویوں کی وفات، جائے سکونت اور ان کے ضروری حالات بھی بتلا سکتا ہوں۔ یہی محمد بن سلامؒ فرماتے ہیں کہ محمد بن اسماعیلؒ جب میرے حلقہ درس میں آتے ہیں تو میں متحیر ہو جاتا ہوں۔ اور مجھے خوف محسوس ہونے لگتا ہے کہ کہیں محمد بن اسماعیل رحمۃ اللہ کے سامنے غلطی نہ کر جاؤں۔ (ھدی الساری وغیرہ) اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں۔ ابتدائی ایامِ طالبِ علمی ہی میں امام بخاریؒ کی پوزیشن کیا تھی اور حفظ و ضبط رجال و تاریخ میں ان کی معلومات کا دائرہ کتنا وسیع تھا۔ اس بات کا اندازہ اس سے بھی لگائیے کہ حافظ ابنِ حجرؒ نے لکھا ہے کہ امام بخاریؒ کی عمر 11 سال تھی یعنی مکتب میں جانے اور شیوخ کی خدمت میں حاضر ہونے کو ابھی ایک سال ہوا کہ بخارا کے شیخ امام داخلیؒ کی مجلس میں حاضر ہوئے شیخ نے ایک حدیث کی سند "سفیان عن ابی الزبير عن ابراهيم" کے واسطہ سے پڑھی تو امام بخاریؒ بول اٹھے کہ جناب ابو زبیر نے ابراھیم سے کوئی روایت نہیں لی۔ امام داخلیؒ ناراض ہوئے تو انہوں نے عرض کیا آپ کے پاس اصل مسودہ ہے تو مراجعت فرما لیجیئے۔ امام داخلیؒ گھر تشریف لے گئے اصل مسودہ کو دیکھا تو اپنی غلطی پر متنبہ ہوئے۔ گھر سے باہر آ کر انہوں نے امتحان کے طور پر اس سند کی تصیح کا سوال امام بخاریؒ سے کر دیا کہ
کیف ھو یا غلام
ترجمہ: اے لڑکے یہ سند کیسے ہے؟ 
تو امام بخاریؒ نے عرض کی صحیح سند یوں ہے
الزبير هو ابن عدى عن ابراهيم
ترجمہ: یعنی سند میں ابو الزبیر نہیں زبیر ہے اور وہ زبیر بن عدی ہیں۔ 
یہ سن کر امام داخلی رحمۃ اللہ نے قلم سے کتاب کی جس کی وہ قراءت کر رہے تھے۔ تصحیح کر لی۔
مشائخ بخارا سے تقریباً چھ سال استفادہ کر لینے کے بعد 210ھ میں، جبکہ امام بخاریؒ کی عمر پندرہ (15) سولہ (16) سال تھی، اپنی والدہ محترمہ اور بھائی احمد کے ہمراہ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔ والدہ اور بھائی واپس بخارا آ گئے اور امام بخاریؒ وہیں حصولِ علم میں مصروف ہو گئے۔ حرمین شریفین کے علاوہ شام، بصرہ، عراق، مصر، جزیرہ، نیساپور، واسط، عسقلان وغیرہ بلادِ اسلامیہ کی خاک چھان کر ایک ایک حدیث کو جمع کیا۔ خود ان کا بیان ہے کہ شام، مصر اور جزیرہ میں دو بار بصرہ میں چار مرتبہ گیا حجازِ مقدس میں چھ سال رہا۔ کوفہ اور بغداد میں متعدد بار جانا ہوا۔ (ھدی الساری)
مت سمجھیئے کہ اس دوران محض انھوں نے اپنے شیوخ سے استفادہ کیا۔ بلکہ اس مدت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء کردہ بے پناہ سعادتوں کی بناء پر وہ حدیث کا درس بھی دیتے رہے اور سلسلہ تصنیف بھی جاری رکھا۔ اور اپنے شیوخ سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوایا۔ چنانچہ حافظ ابنِ حجرؒ نے لکھا ہے کہ ابوبکر بن عیاش الاعین کا بیان ہے کہ ہم نے امام محمد بن یوسف الفریابیؒ جو کہ امام بخاریؒ کے استاد ہیں۔ کہ دروازے پر محمد بن اسماعیل بخاریؒ سے احادیث لکھیں۔ انہیں ابھی داڑھی بھی نہیں آئی تھی۔ اندازہ کیجیئے کہ امام فریابیؒ ربیع الاول 212ھ میں فوت ہوئے۔ 210 ہجری میں امام بخاریؒ گھر سے چلے امام فریابیؒ سے استفادہ ظاہر ہے 211ھ، 212ھ میں 17، 18 سال کی عمر میں ہی کیا ہو گا۔ اور اسی دوران وہ حلقہ یاران علم کو درس بھی دیتے ہیں۔
218ھ ہی میں انہوں نے "قضايا الصحابة والتابعين"
لکھی اور پھر "التاريخ الكبير" مدینہ منورہ میں روضہ اقدس کے پاس راتوں کو چاند کی روشنی میں مرتب کی۔ 218ھ ہی کا واقعہ خود امام صاحبؒ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک روز امام حمیدیؒ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کی ایک اور محدث کے ساتھ ایک حدیث کے بارے میں بحث و تکرار ہو رہی تھی۔ مجھے دیکھ کر انہوں نے فرمایا ہم اپنا فیصلہ محمد بن اسماعیلؒ سے کراتے ہیں۔ چنانچہ میں نے دونوں کی گفتگو سن کر امام حمیدیؒ کے حق میں فیصلہ دیا کیونکہ ان کا مؤقف ہی درست تھا۔
صفحہ 1 از 2