Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت پر اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم نے تبصرہ کیا

  علی محمد الصلابی

امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت پر اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم نے تبصرہ کیا:

(الخلفاء الراشدون: الخالدی: صفحہ 190، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 197)

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ: آپ کو جب حضرت عثمان غنیؓ کے قتل کی خبر ملی تو حضرت زبیرؓ نے فرمایا: اللہ عثمان پر رحم فرمائے۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔ آپ سے کہا گیا بلوائی اپنے کیے پر نادم ہیں، تو آپؓ نے فرمایا: انہوں نے ہی تو اس کی تدبیر کی، انہوں نے ہی تو اس کی تدبیر کی، لیکن جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 

وَحِيۡلَ بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ مَا يَشۡتَهُوۡنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشۡيَاعِهِمۡ مِّنۡ قَبۡلُ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا فِىۡ شَكٍّ مُّرِيۡبٍ۞ (سورۃ سبإ آیت 54)

ترجمہ: اور اس وقت یہ جس (ایمان) کی آرزو کریں گے اس کے اور ان کے درمیان ایک آڑ کر دی جائے گی، جیسا کہ ان جیسے جو لوگ ان سے پہلے ہوئے ہیں ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ایسے شک میں پڑے ہوئے تھے جس نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ 

حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ: آپؓ کو جب حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کا علم ہوا تو فرمایا: اللہ عثمان پر رحم فرمائے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ آپ سے کہا گیا کہ یہ لوگ اپنے کیے پر پشیمان ہیں، تو آپ نے فرمایا: برباد ہوں یہ لوگ۔ اور اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: 

قُلْ لَّاۤ اَمۡلِكُ لِنَفۡسِىۡ ضَرًّاوَّلَا نَفۡعًا اِلَّا مَاشَآءَاللّٰهُ لِكُلِّ اُمَّةٍاَجَلٌ‌اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمۡ فَلَا يَسۡتَـاخِرُوۡنَ سَاعَةً‌ وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ‏۞ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَتٰٮكُمۡ عَذَابُهٗ بَيَاتًا اَوۡ نَهَارًا مَّاذَا يَسۡتَعۡجِلُ مِنۡهُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ۞(سورۃ يونس آیت 49، 59)

ترجمہ: (اے پیغمبر! ان سے) کہہ دو کہ: میں تو خود اپنی ذات کو بھی کوئی نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہوں، نہ فائدہ پہنچانے کا، مگر جتنا اللہ چاہے۔ ہر امت کا ایک وقت مقرر ہے، چنانچہ جب ان کا وہ وقت آ جاتا ہے تو وہ اس سے نہ ایک گھڑی پیچھے جاسکتے ہیں نہ آگے آسکتے ہیں۔ ان سے کہو کہ: ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر رات کے وقت آئے یا دن کے وقت تو اس میں کون سی ایسی (اشتیاق کے قابل) چیز ہے جس کے جلد آنے کا یہ مجرم لوگ مطالبہ کر رہے ہیں ؟

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ: حضرت علیؓ کو جب حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کا علم ہوا تو فرمایا: اللہ تعالیٰ عثمان پر رحم فرمائے۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔ آپ سے کہا گیا لوگ اپنے کیے پر نادم ہیں، تو آپ نے اللہ کا یہ ارشاد پڑھا

كَمَثَلِ الشَّيۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اكۡفُرۡ‌فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّىۡ بَرِىۡٓءٌ مِّنۡكَ اِنِّىۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ‏۞ فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِى النَّارِخَالِدَيۡنِ فِيۡهَا‌وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡن۞(سورۃ الحشر آیت 16، 17)

ترجمہ: ان کی مثال شیطان کی سی ہے کہ وہ انسان سے کہتا ہے کہ: کافر ہوجا۔ پھر جب وہ کافر ہوجاتا ہے تو کہتا ہے کہ: میں تجھ سے بری ہوں، میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ چنانچہ ان دونوں کا انجام یہ ہے کہ وہ دونوں دوزخ میں ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور یہی ظلم کرنے والوں کی سزا ہے۔ 

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ: جب آپ کو حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا: اللہ عثمان پر رحم فرمائے اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تلاوت فرمائی:

قُلۡ هَلۡ نُـنَبِّئُكُمۡ بِالۡاَخۡسَرِيۡنَ اَعۡمَالًا۞ اَلَّذِيۡنَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَهُمۡ يَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ يُحۡسِنُوۡنَ صُنۡعًا‏۞اُولٰۤئِكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ وَلِقَآئِهٖ فَحَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فَلَا نُقِيۡمُ لَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِوَزۡنًـا۞ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمۡ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوۡاوَاتَّخَذُوۡۤا اٰيٰتِىۡ وَرُسُلِىۡ هُزُوًا۞(سورۃ الكهف آیت 104 تا 106)  

ترجمہ: کہہ دو کہ: کیا ہم تمہیں بتائیں کہ کون لوگ ہیں جو اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں کہ دنیوی زندگی میں ان کی ساری دوڑ دھوپ سیدھے راستے سے بھٹکی رہی، اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے مالک کی آیتوں کا اور اس کے سامنے پیش ہونے کا انکار کیا، اس لیے ان کا سارا کیا دھرا غارت ہوگیا۔ چنانچہ قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن شمار نہیں کریں گے۔ یہ ہے جہنم کی شکل میں ان کی سزا، کیونکہ انہوں نے کفر کی روش اختیار کی تھی، اور میری آیتوں اور میرے پیغمبروں کا مذاق بنایا تھا۔

پھر حضرت سعدؓ نے فرمایا: اے اللہ ان کو شرمندہ کر دے اور انہیں رسوا و ذلیل کر دے پھر انہیں پکڑ لے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 407، 408، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 189)

حضرت سعدؓ کی اس دعا کو اللہ نے قبول فرمایا۔ آپؓ مستجاب الدعا تھے، جو لوگ بھی حضرت عثمان غنیؓ کے قتل میں شریک تھے ان سب کو اللہ تعالیٰ نے پکڑ لیا جیسے عبداللہ بن سبا، غافقی، اشتر، حکیم بن جبلہ، کنانہ تجیبی، بعد میں یہ سب قتل ہوئے۔‘‘

(الخلفاء الراشدون: الخالدی: صفحہ 192)