مصری درس گاہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مصری درس گاہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

یوں تو فاتح مصر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے لشکر میں بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شریک تھے، لیکن مصر کے علمی حلقوں میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے جو مقام بنایا دوسرے صحابہؓ اس مقام تک نہ پہنچ سکے، مصر والوں نے حضرت عقبہؓ کو عزت و محبت سے نوازا، ان سے احادیث روایت کیں اور ان کی صحبت اختیار کی، حتیٰ کہ سعد بن ابراہیم کا بیان ہے کہ مصر والوں کو حضرت عقبہؓ سے احادیث روایت کرنا اتنا ہی محبوب تھا جتنا کہ کوفہ والوں کو عبداللہ بن مسعودؓ سے۔

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 540، 541)

مصریوں نے متعدد صحابہ کرامؓ سے علم حاصل کیا، ان میں زیادہ مشہور ابوالخیر مرشد بن عبداللہ الیزنیؒ ہیں۔ انہوں نے عقبہ، عمرو بن عاص (حسن المحاضرۃ: جلد 1 صفحہ 296)

اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا اور ان سے علم سیکھا، مصر میں دینی درس گاہوں کے یہ چند اہم مؤسسین ہیں کہ جن کی درس گاہوں کے وجود و ترقی میں اسلامی فتوحات کی تحریک کا خاصا اثر رہا، اور یہ کسی پر مخفی نہیں کہ ان مدارس کی ابتداء ہی سے حضرت عمرؓ کی ان پر نگرانی تھی۔ چنانچہ جب آپؓ کے پاس مجاہدین کا لشکر آتا تو آپؓ اس پر ایک عالم دین مقرر کر دیتے، تاکہ وہ فوج کو دین کی باتیں، شرعی احکامات، فقہی اصول اور قرآن مجید نیز دیگر پیش آنے والے معاملات میں ان کے سامنے شرعی حل پیش کرے۔ 

(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 2 صفحہ 712 )

اور جب اسلامی فتوحات کا دائرہ وسیع ہوا تو ان علمی و تربیتی اداروں کی ضرورت بھی پڑی، اس لیے کہ کوفہ، بصرہ اور فسطاط وغیرہ اسلامی شہروں کی شکل اختیار کر چکے تھے، مزید برآں یہی شہر فوجی چھاؤنیاں اور مع اہل و عیال فوج کے رہائشی مراکز، نیز علماء، فقہاء اور مبلغین و واعظین کے اجتماع کا ٹھکانہ بن چکے تھے۔ 

(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 2 صفحہ 712)

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ دعوت الی اللہ کا کام کرنے والوں اور مدرسین کی مدد کرتے تھے اور انہیں مفتوحہ علاقوں میں بھیجتے تھے آپؓ نے واضح کر دیا تھا کہ حکمران اور امراء حضرات کو دوسرے علاقوں میں بھیجنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ لوگوں کو دین کی تعلیم دیں۔ آپ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے اللہ! میں شہروں کے امراء پر تجھ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کو وہاں کی رعایا میں عدل و انصاف قائم کرنے اور لوگوں کو دین سکھانے نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سکھانے کے لیے بھیجا ہے، اور اس لیے تاکہ ان کے اموال ان میں تقسیم کریں۔ 

(صحیح مسلم: حدیث 567) 

حضرت عمرؓ نے علماء و مفتیان کے لیے مسلمانوں کے بیت المال سے تنخواہیں مقرر کیں تاکہ تعلیم و افتاء کی ذمہ داری کو وہ لوگ بحسن و خوبی انجام دے سکیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو تعلیم دینے والے مدرسین کی تنخواہوں کی ذمہ داری بھی اٹھائی، مدینہ میں تین مدرس بچوں کو پڑھاتے تھے۔ حضرت عمرؓ ان میں سے ہر ایک کو ہر مہینے میں پندرہ 15 درہم تنخواہ دیتے تھے۔ 

(سنن البیہقی: جلد 6 صفحہ 124، السلطۃ التنفیذیۃ: جلد 2 صفحہ 766 )

تعلیم کی نشر و اشاعت خلیفہ راشد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اہم اہداف میں شامل تھی، اسی لیے آپؓ نے گاؤں گاؤں اور شہر شہر دین کی تعلیم دینے والوں کو بھیجا، اور اس سلسلے میں صرف حکام و امراء کی کوششوں پر بس نہ کیا بلکہ مدینہ میں رہنے والے علماء کو بھیج کر ان کو قوت پہنچائی، مدینہ سے جانے والے علماء آپؓ کی نصیحتوں اور مشوروں کے حامل ہوتے تھے۔ اس عظیم مقصد کے لیے آپؓ نے دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مدینہ سے مختلف شہروں میں بھیجا، انہی میں سے عبداللہ بن مغفل مزنیؓ تھے، جنہیں بصرہ والوں کا معلم دین بنا کر بھیجا۔ 

(عصر الخلفاء الراشدۃ: صفحہ 273)

 اسی طرح عمران بن حصین الخزاعی رضی اللہ عنہ جو فقہائے صحابہؓ میں سے تھے، ان کو بھی بصرہ والوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے بھیجا۔

(عصر الخلفاء الراشدۃ: صفحہ: 273)

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دیگر شہروں کے مقابلے میں شام کی تعلیمی مرکزیت کافی اہمیت کی حامل تھی، اس لیے حضرت عمرؓ نے جب شہروں کو فتح کیا تو ابو موسیٰ اشعریؓ کے پاس ایک خط لکھا، اس وقت ابو موسیٰ اشعریؓ بصرہ کے والی تھے، اس خط میں حکم دیا تھا کہ جمعہ کے لیے ایک مسجد خاص کر لی جائے، اور قبائل کے لیے بھی الگ الگ مسجدیں موجود رہیں، جب جمعہ کا دن آئے تو جامع مسجد میں سب لوگ جمعہ کے لیے حاضر ہوں۔ آپؓ نے سعد بن ابی وقاصؓ کے پاس بھی یہی حکم بھیج دیا اس وقت وہ کوفہ کے امیر تھے، نیز حضرت عمرو بن عاصؓ کے پاس جب کہ وہ مصر کے گورنر تھے یہی حکم بھیجا اور شام کے فوجی کمانڈروں کے نام لکھا کہ شہروں کو چھوڑ کر دیہاتوں کی طرف مت جاؤ، ہر شہر میں صرف ایک مسجد بنا لو، مصر، بصرہ، اور کوفہ والوں کی طرح ہر قبیلے کی الگ الگ مسجدیں نہ ہوں۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 275) 

حضرت عمرؓ نے متخصص علماء کی ایک جماعت تیار کی اور اسے بڑے بڑے شہروں میں بھیجا اور فتوحات اسلامی کی تحریک جس قدر وسیع ہوتی گئی آپؓ حکام و قائدین کو حکم دیتے رہے کہ مفتوحہ ریاستوں میں مسجدیں بناتے جائیں، تاکہ وہ مسجدیں وہاں کے دین جدید یعنی اسلام، علم و معرفت اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی نشر و اشاعت کا مرکز ہوں۔ چنانچہ مسجدیں ہی اسلام کی پہلی درس گاہ ہوئیں، اور وہیں سے حکیمانہ اسلوب و پالیسی اپناتے ہوئے علماء صحابہ نے امت کی تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھایا، تعلیم و تربیت کے اس حکیمانہ اسلوب کی بنیاد نبی کریمﷺ کے زمانے ہی میں پڑ چکی تھی، اور حضرت عمرؓ نے اسی منہج و اسلوب کو اختیار کیا تھا، آپ کے دور خلافت میں جامع مساجد کی تعداد بارہ ہزار 12000 تک پہنچ چکی تھی۔

 (نظام الحکومۃ الاسلامیۃ: جلد 2 صفحہ 262)

یہ مساجد مسلمانوں کی تعلیم و تربیت اور ان کے دلوں کے تزکیہ و تہذیب کا کام کرتی تھیں، اور جب مسلمانوں نے یہ ضرورت محسوس کی کہ مساجد سے الگ بچوں کی تعلیم کا انتظام ہونا چاہیے تو حضرت عمرؓ نے چھوٹے چھوٹے مکاتب بنانے کا حکم دیا اور بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ان میں ایک ایک معلم و مدرس کو مقرر کر دیا۔ 

صفحہ 1 از 2