جہاد اور دیگر ملکی امور میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ…

جہاد اور دیگر ملکی امور میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مشورہ لینا

  علی محمد محمد الصلابی

یہ بات پہلے بھی گزر چکی ہے کہ حضرت علیؓ حضرت عمرؓ کے اول اور ممتاز مشیر تھے، ہر چھوٹے بڑے معاملات میں حضرت عمرؓ آپ سے مشورہ لیتے تھے، چنانچہ فتح بیت المقدس، فتح مدائن، نہاوند جا کر فارسیوں سے معرکہ آرائی اور رومیوں سے جنگ نیز مسلمانوں کے قومی سن کی ابتداء کی تعیین جیسے متعدد مواقع پر حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓ سے مشورہ لیا۔

(علی بن أبی طالب مستشار أمین للخلفاء الراشدینؓ: صفحہ 99)۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی میں ان کے خیر خواہ مشیر تھے، ان سے قلبی لگاؤ تھا اور ہمیشہ ان کی حفاظت کے لیے فکر مند رہتے تھے، حضرت عمرؓ بھی حضرت علیؓ کو اسی طرح چاہتے تھے، دونوں میں گہری عقیدت و محبت اور ایک دوسرے پر کامل اعتماد تھا، حیرت کی بات یہ ہے کہ اس حقیقت کے باوجود دشمنانِ اسلام تاریخ کو بگاڑنے پر تلے ہوئے ہیں، اور ان سے متعلق اپنے مزاج و مشرب کے موافق روایات بیان کر کے یہ تصور دینا چاہتے ہیں کہ خلفائے راشدینؓ کا دور ایک ناپاک سیاست کا نمونہ تھا جس میں ہر ایک نے خلافت کی کرسی کو چھیننے اور دوسرے کا کام تمام کرنے کے لیے سازشیں کیں اور وہ ہر کام میں دوسروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا چاہتے تھے۔ 

(علی ابن أبی طالب مستشار أمین للخلفاء الراشدینؓ صفحہ 138)۔

خلافت فاروقی کا گہرائی سے جائزہ لینے سے یہ خصوصیت نمایاں طور سے سامنے آتی ہے کہ حضرت علی اور عمر رضی اللہ عنہما کے باہمی تعلق کا نرالا انداز تھا جو کہ خالص اور بےمثال تعاون پر قائم تھا، بیشتر معاملات و مشکلات میں حضرت علیؓ حضرت عمرؓ کے خصوصی اور مشیر اوّل رہے اور حضرت علیؓ نے جب بھی کوئی مشورہ دیا حضرت عمرؓ نے بصد اطمینان اسے مانا اور نافذ کیا۔ سیدنا علیؓ کا یہ اخلاص تھا کہ حضرت عمرؓ کے ساتھ ان کے تمام حالات و مسائل میں خیر خواہی کا سلوک کرتے۔

(فقہ السیرۃ النبویۃ: البوطی: صفحہ 529)۔

چنانچہ اہل فارس مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لیے اپنی بھاری بھر کم فوج لے کر نہاوند میں جمع ہوئے تو حضرت عمر فاروقؓ نے لوگوں کو اکٹھا کیا اور اس جنگ میں اپنی شرکت سے متعلق ان سے مشورہ لیا، عام لوگوں نے شرکت کرنے کا مشورہ دیا، لیکن حضرت علیؓ کھڑے ہوئے اور کہا: 

’’حمدو صلاۃ کے بعد:

اے امیر المؤمنین! اگر آپ شام والوں کو شام سے نکلنے کا حکم دیتے ہیں تو روم والے ان کے اہل و عیال پر حملہ کردیں گے اور اگر یمن والوں کو یمن سے نکلنے کا حکم دیتے ہیں تو حبشہ والے ان کے اہل و عیال پر حملہ کردیں گے اور اگر خود یہاں سے ہٹتے ہیں تو اطراف و اکناف سے سب عرب آپ پر ٹوٹ پڑیں گے، آپ اپنے پیچھے جو غیر محفوظ سرحدیں چھوڑ جائیں گے، وہ ان سے زیادہ اہمیت رکھتی ہوں گی، جو آپ کے سامنے ہیں، جو جہاں ہیں ان کو وہیں رہنے دیں اور بصرہ والوں کو خط بھیجیں کہ وہ تین حصوں میں تقسیم ہو جائیں، ایک جماعت بصرہ اور وہاں کے اہل وعیال کی حفاظت کرے اور ایک جماعت قرب و جوار کے معاہدین میں چلی جائے تاکہ وہ عہد و پیمان نہ توڑیں اور ایک جماعت اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے کوفہ آئے، اہل عجم کل آپ کو دیکھ کر یہ کہیں گے کہ یہ عرب کی اصل طاقت اور سرمایہ ہیں، اگر تم نے ان پر قابو پا لیا تو ہمیشہ کے لیے چھٹی مل گئی اور یہ بات ان کے مقابلہ کے جذبہ اور صلاحیت کو تیز کر دے گی، ان کے حوصلہ اور طمع کو بڑھائے گی اور جو آپ نے ذکر کیا کہ یہ اہل عجم مسلمانوں سے مقابلہ کے لیے نکل پڑے ہیں تو اللہ ان کے اس اقدام کو آپ سے زیادہ ناپسند کرتاہے ہے اور جسے وہ ناپسند فرماتا ہے اس کو بدل دینے پر زیادہ قادر ہے اور آپ نے ان کی تعداد کا جو ذکر کیا