عقیدہ امامت و خلافت کی حقیقت اور رافضی دلائل کا رد - سنی…

عقیدہ امامت و خلافت کی حقیقت اور رافضی دلائل کا رد

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 10

اہل السنت کے ہاں امامت کا تصور:

اللہ رب العزت نے انسانیت کی رشد و ہدایت کے لیے انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ جاری فرمایا جس کی پہلی کڑی حضرت آدم علیہ السلام اور آخری کڑی جناب خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد شریعت کے اجتماعی نفاذ کے لیے ضروری ہے کہ عامۃ المسلمین اپنے میں سے کسی اہل اور با صلاحیت فرد کو اپنا رئیس مقرر کریں جو اجتماعی طور پر احکام شریعت کو نافذ کرے۔ اس فرد منتخب کو ”امیر المومنین“ کہا جاتا ہے، یہی ”امام“ بھی کہلاتا ہے اور اس کے اس منصب اقتدار کو ”امامت کبریٰ“ اور ”خلافت“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ امیر المومنین، خلیفہ وقت اور امامت کبریٰ پر فائز یہ شخص شریعت خداوندی کو عوام پر نافذ کرتا ہے، سب کے سامنے ظاہر اور صاحب اقتدار ہوتا ہے۔ اہل السنت والجماعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امامت کا منصب اسی تصور کے ساتھ مانتے ہیں جو ”خلافت“ کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

اہل تشیع کے ہاں امامت کا مفہوم:

اہل تشیع کے عقیدہ امامت کا خلاصہ یہ ہے کہ امت کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ پر واجب ہے کہ امام کو متعین کریں۔ تو اللہ نے قیامت تک کے لیے بارہ امام متعین کردیے ہیں جن میں سے گیارہ کا انتقال ہوچکا ہے۔ سب سے پہلے امام حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے اور آخری (بارہویں) امام ”امام غائب “ ہیں جن کو ”امامِ منتظر“ بھی کہا جاتا ہے جو ان کے عقیدہ کے مطابق ”سُرَّ مَنْ رَّاٰہُ“ شہر کے کسی غار میں موجود ہے، مرتبہ امامت؛ نبوت و رسالت کے برابر ہے بلکہ بعض مرتبہ بڑھ کر ہوتا ہے اور امام کو حلت و حرمت، ملک وقدرت اور دیگر وہ اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں جو خاصہ خداوندی ہیں۔

فریقین کے اختلاف کا خلاصہ:

عقیدہ امامت کا جو مفہوم فریقین کے ہاں ہے اس کے لحاظ سے مندرجہ ذیل فرق بطور نتیجہ ظاہر ہوتے ہیں:

فرق نمبر1:

اہل السنت کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد امت میں سلسلہ خلافت چلا ہے جس میں خلیفہ کا تقرر عامۃ المسلمین پر واجب ہے جب کہ اہلِ تشیع کے ہاں سلسلہ امامت چلا ہے جس کا تعین اللہ پر واجب ہے۔ سید عبداللہ شبرشیعی نے امام کے منصوص من اللہ ہونےکا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے :

والذی علیہ الفرقۃ المحقۃ والطائفۃ الحقۃ انہ یحب علی اللہ نصب الامام فی کل زمان.

(حق الیقین ص183)

وقال ایضآً: فکما لایجوز للخلق تعیین نبی فکذا لایجوز لھم تعیین امام.

(حق الیقین: ص185)

فرق نمبر2:

اہل السنت کے ہاں امامت کبریٰ پر فائز خلفاء کی تعداد متعین نہیں جب کہ اہل تشیع کے ہاں 12امام متعین ہیں جو یہ ہیں:

(1)حضرت علی رضی اللہ عنہ

(2)حضرت حسن رضی اللہ عنہ

(3)حضرت حسین رضی اللہ عنہ

(4)حضرت زین العابدین رحمہ اللہ

(5)حضرت محمد باقر

(6)حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ

(7)حضرت موسیٰ کاظم

(8)حضرت علی رضا

(9)حضرت محمد تقی

(10)حضرت علی نقی

(11)حضرت حسن عسکری

(12)حضرت محمد مہدی

فرق نمبر3:

اہل السنت کے ہاں امام ایسا امتی ہوتا ہے جو باصلاحیت اور خلافت کا اہل تو ہوتا ہے لیکن معصوم نہیں ہوتا جب کہ اہل تشیع کے ہاں امام معصوم ہوتا ہے۔

سید عبداللہ شبر نے امام کی شرائط میں سے پہلی شرط ”عصمت“ کی لگائی ہے:

الاول العصمۃ کما تقدم لانہ حافظ للشرع قائم بہ فحالہ کحال النبی صلی اللہ علیہ وسلم.

(حق الیقین ص187)

باقر مجلسی لکھتا ہے:

بداں کہ اجماع علماء امامیہ منعقد است بر آنکہ امام معصوم است از جمیع گناہان صغیرہ و کبیرہ از اول عمر تا آخر عمرخواہ عمدا وخواہ سہوا.

(حیوٰۃ القلوب ج5ص49)

فرق نمبر4:

اہل السنت کے ہاں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بلا فصل ہیں جب کہ اہل تشیع کے ہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بلا فصل ہیں۔

فرق نمبر5:

خلیفہ کا وہ فیصلہ جو اجتہادی ہو، اجماعی نہ ہو اس سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے جبکہ امام کے کسی بھی فیصلہ سے اختلاف کی گنجائش نہیں۔

اس کے علاوہ کئی اور فرق پیش کیے جاسکتے ہیں۔

عقیدہ امامت کی تاریخ 

عقیدہ امامت کو امت میں متعارف کرانے والا پہلا شخص عبداللہ بن سبا یہودی تھا۔ علامہ محمد بن عبد الکریم شہرستانی لکھتے ہیں:

عبد الله بن سبأ... أنه كان يهوديا فأسلم... وهو أول من أظهر القول بالنص بإمامة علي رضي الله عنه.

(الملل والنحل : ج1ص172)

خود روافض کی کتب میں اس بات کی صراحت موجود ہےکہ حضرت علی کے وصی اورامام مفروض ہونے کا پہلا مدعی ابن سبا تھا۔ چنانچہ ملاباقرمجلسی نے عبداللہ بن سبا کے بارے میں لکھا:

وکان اول من اشھر بالقول بفرض امامۃ علی علیہ السلام .

(بحارالانوار ج25ص152،153 ،رجال کشی ص85)


روافض کے ہاں امامت کی اہمیت:

شیعوں کے پانچ اصولِ دین یہ ہیں:

توحید، نبوت، معاد(قیامت)، امامت اور عدل۔

(اسلام کے بنیادی عقائدمصنف سید مجتبیٰ موسوی ، اردو ترجمہ شیخ روشن علی نجفی)

مسئلہ امامت ان کے ہاں اصولِ دین میں سے ہے جس کا منکر کافر ہے۔ چنانچہ ان کی کتب میں تصریح موجود ہے:

1: عن ابی عبداللہ ، نحن الذین فرض اللہ طاعتنا لایسع الناس الا معرفتنا... من انکرنا کان کافرا.

(اصول کافی ج1ص243کتاب الحجہ باب فرض طاعۃ الائمہ)

2: ہر کہ شک کند وتوقف نماید در امامت امام کافر است.

(حیوٰۃ القلوب ج5ص81 فصل چہارم در بیان وجوب معرفت امام است)

اہل تشیع کے ہاں امام کے اوصاف:

کتبِ روافض میں عقیدہ امامت کو بڑی بسط وتفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور ان لوگوں نے اس عقیدہ میں غلو کرتے ہوئے ائمہ کے لیے ایسے اوصاف بیان کیے ہیں جن کے ذریعے امام کا مقام حضرات انبیاء علیہم السلام سے بھی بلند اور خدا کے برابر معلوم ہوتا ہے۔ ان کی کتابوں میں عموماً ائمہ کے اوصاف تین طرح کے بیان کیے گئے ہیں:

1: امام میں عام امتی سے امتیازی اوصاف کا وجود

2: امام میں اوصافِ نبوت کا وجود

3: امام میں خدائی اوصاف کا وجود

1: امام اور عام امتی میں فرق

[۱]: ملا باقر مجلسی نے اپنی کتاب ”حق الیقین “ میں امام کے اوصاف کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا:

پاکیزہ وناف بریدہ وختنہ کردہ متولد میشود چوں از شکم مادر بزیر می آید دستہارابر زمین میگزارد وصدابشہادتین بلند میکند.

(حق الیقین ص42)

اس عبارت سے امام کے یہ اوصاف ثابت ہوتے ہیں :

صفحہ 1 از 10