کوفہ میں دوران خطبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زبان سے سیدنا…

کوفہ میں دوران خطبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زبان سے سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی مدح و منقبت

  علی محمد محمد الصلابی

سیدنا علیؓ نے دوران خطبہ فرمایا:

’’پھر مسلمانوں نے اپنی مکمل رضامندی سے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر بیعت کی، آل عبدالمطلب میں سب سے پہلے میں نے اس میں حصہ لیا۔ 

(اُسد الغابۃ: جلد 4 صفحہ 116، 167) خلافۃ أبی بکر: صفحہ 66)۔

بعض روایات میں اگرچہ صراحت نہیں، لیکن اشارتًا یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ سیدنا علیؓ نے پہلے ہی مرحلہ میں حضرت صدیقِ اکبرؓ کی خلافت پر بیعت کی تھی، چنانچہ ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت عمر بن خطابؓ کے ساتھ تھے۔ پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ کھڑے ہوئے، لوگوں کے سامنے خطبہ دیا، اور تولیت خلافت سے متعلق اپنا عذر پیش کرتے ہوئے فرمایا:

’’میں کبھی بھی خواہ دن ہو یا رات امارت کا خواہاں نہیں تھا، نہ اس کا لالچ تھا اور ظاہر و باطن کسی بھی حالت میں میں نے اس کے لیے اللہ سے دعا بھی نہیں کی، لیکن میں نے ایک فتنہ پھیل جانے کے خوف سے اسے قبول کر لیا، امارت میں میرے لیے کوئی آرام نہیں ہے، میں نے ایک گراں بار ذمہ داری کو اپنے گلے میں ڈال لیا ہے، اللہ کی طرف سے قوت و تائید کے بغیر مجھے کوئی قوت نہیں ملنے والی ہے۔ میری خواہش تھی کہ آج میرے اس مقام پر مجھ سے زیادہ قوی کوئی دوسرا ہوتا۔‘‘

بہرحال تمام مہاجرین نے حضرت صدیقِ اکبرؓ کی معذرت اور خطبہ کو سنا اور تسلیم کیا، ہاں! سیدنا علی اور زبیر رضی اللہ عنہما کہنے لگے: ہمیں آپؓ پر قدرے ناراضی اس وجہ سے ہوئی تھی کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے مشورہ لینے میں ہمیں پیچھے چھوڑ دیا، لیکن ہم مانتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ کی خلافت کے زیادہ حق دار حضرت ابوبکر صدیقؓ ہی ہیں۔ وہ آپﷺ کے رفیقِ غار ہیں، ہمیں ان کی شرافت اور بزرگی کا بخوبی علم ہے، رسول اللہﷺ نے اپنی زندگی ہی میں انھیں لوگوں کی امامت پر مامور کیا تھا۔

(البدایۃ النہایۃ: جلد 6 صفحہ 341) اس کی سند ’’جید‘‘ ہے خلافۃ ابی بکر: صفحہ 67) ۔

قیس عبدی کا بیان ہے کہ بصرہ میں جب حضرت علیؓ خطبہ دے رہے تھے میں وہاں موجود تھا، حضرت علیؓ نے حمد و صلاۃ کے بعد نبی کریمﷺ کا ذکر کیا اور کہا کہ پھر آپﷺ کی وفات ہو گئی، پھر مسلمانوں نے طے کیا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کو خلیفہ بنا لیں، چنانچہ انھوں نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر بیعت کی ان کی اطاعت کا وعدہ کیا، اور خود کو ان کے حوالہ کر دیا۔ میں نے بھی بیعت کی، عہد کیا اور خود سپردگی کا اقرار کیا، سب کے سب دل سے راضی تھے، میں بھی راضی تھا، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے تا عمر خیر و بھلائی کے کام کیے اور اس کے لیے محنت مشقت کی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو وفات دے دی، اللہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ پر رحمت نازل کرے۔ آمین۔

(السنۃ: عبداللہ بن احمد: جلد 2 صفحہ 563، اس کی سند کے تمام رجال ثقہ ہیں۔)

سچی بات یہ ہے کہ حضرت علیؓ کبھی بھی سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے کٹ کر نہیں رہے، اور کسی بھی جماعت میں آپؓ سے الگ نہ ہوئے، مشورہ اور دیگر نظامِ مملکت میں برابر آپ کے ساتھ رہتے۔ 

حافظ ابنِ کثیر اور دیگر کئی محقق علماء کی رائے ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی خلافت کے لیے پہلی بیعت کے چھ مہینے بعد یعنی سیدہ فاطمہؓ کی وفات کے بعد حضرت علیؓ نے اپنی پہلی بیعت کی تجدید کی تھی اور اس بیعت سے متعلق متعدد صحیح روایات ثابت بھی ہیں اسی دوسری بیعت کی وجہ سے شاید بعض راویوں کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ حضرت علیؓ نے اس سے پہلے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر بیعت نہ کی تھی اس لیے بیعت اولیٰ کا انکار کر دیا، حالانکہ اصولی اعتبار سے کسی واقعہ کے اثبات کو اس کی نفی پر ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ 

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 49) 

فائدہ: عربی زبان میں ’’الامام علی جدل الحقیقۃ والمسلمین الوصیۃ والشوریٰ‘‘ نام کی ایک کتاب ہے جو ’’محمود محمد العلی‘‘ کی تالیف ہے، مؤلف نے اس کتاب میں پیش نظر موضوع واقعہ کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے کافی ہاتھ پیر مارے ہیں اور اپنی رائے درست ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ کی بحث و تمحیص، اور واقعہ کا تجزیہ و تحلیل کرنے میں روافض شیعہ کے منہج اور شہد میں زہر ملا کر پیش کرنے سے بچ نہ سکے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ وصیت نبوی کی بنا پر حضرت علیؓ ہی خلیفہ اول بننے کے زیادہ مستحق تھے۔ تو قاری کو خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔