Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تیسرا مبحث صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور دیگر علمائے امت رحمہم اللہ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے مدح و ثنا

  علی محمد الصلابی

پہلا نکتہ: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی گواہیاں 

1۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ:

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے امہات المؤمنینؓ کے لیے دس ہزار درہم وظیفہ مقرر کیا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے وظیفے میں دو ہزار درہم کا اضافہ کر دیا اور فرمایا:

’’بے شک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ ہیں۔‘‘

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔ )

2۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’اگر کوئی عورت خلیفہ ہو سکتی تو وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی ہوتیں۔‘‘

(یہ روایت قوام السنۃ اصبہانی نے المحجۃ: جلد 2 صفحہ 401 میں روایت کی ہے۔)

نیز انھوں نے فرمایا:

’’بے شک وہ(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ) دنیا و آخرت میں تمہارے نبی کی بیوی ہیں۔‘‘

(’’الفتنۃ و وقعۃ الجمل‘‘ میں سیف بن عمر نے روایت کیا۔ صفحہ 183 اور امام طبری رحمہ اللہ نے اپنی ’’التاریخ‘‘ جلد 4 صفحہ 544 میں اور ابن الجوزی نے المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم: جلد 5۔صفحہ 94۔ الکامل لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 614۔ البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 10 صفحہ 472۔ نہایۃ الارب للنویری: جلد 20 صفحہ 50۔ میں دیکھیں)

3۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا :

جب سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے وقت رونے کی آواز سنی تو انھوں نے اپنی خادمہ کو دیکھنے کے لیے بھیج دیا کہ کیا ماجرا ہے؟ وہ واپس آئی اور بتایا کہ اماں جی فوت ہو گئی ہیں۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تمام لوگوں سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ محبت کرتے تھے، سوائے اس کے باپ کے۔‘‘

( مسند ابی داود طیالسی: جلد 3 صفحہ 185، حدیث نمبر: 1718 اور اس کی سند سے ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء: جلد 2 صفحہ 44 میں روایت کیا۔ اس کی سند کو بوصیری نے اتحاف الخیرۃ المہرۃ، جلد 7 صفحہ 248 میں صحیح کہا۔

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات پر کہا:

’’اے عائشہ! اللہ تعالیٰ نے تیرے سارے دُکھ درد دُور کر دیے۔ روئے زمین پر کوئی ایسا ذی روح نہیں تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھ سے زیادہ محبوب رکھتے ہوں، سوائے تمہارے باپ کے۔‘‘

پھر فرمایا:

’’میں اللہ سے مغفرت چاہتی ہوں۔‘‘ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مقابلے میں ان کے باپ سے زیادہ محبت کرتے تھے)۔‘‘

(السنۃ لابن ابی عاصم: 1234)

زیاد بن ابیہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہراتؓ کی طرف مالِ کثیر بھیجا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو زیادہ دیا۔ قاصد امیر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے سامنے معذرت کرنے لگا، تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا:

’’ہم پر اسے وہ فضیلت دیا کرتے جو ہمارے لیے زیاد سے بہت زیادہ افضل تھے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔‘‘

(المعجم الاوسط للطبرانی: جلد 3 صفحہ 114 حدیث نمبر: 2651 اور ہیثمی نے مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 245 میں اس کی سند کو حسن کہا ہے۔)

4۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے کلمات:

جب ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مرض الموت میں ان کی عیادت کے لیے آئے تو انھیں یوں مخاطب کیا:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام بیویوں سے زیادہ آپؓ سے محبت کرتے تھے اور آپﷺ صرف طیب چیز سے ہی محبت کرتے تھے۔‘‘

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

نیز انھوں نے فرمایا:

’’آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں، آپ رضی اللہ عنہا کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کنواری سے شادی نہیں کی اور آپ کی برأت آسمان سے نازل ہوئی۔‘‘

(صحیح بخاری: 4753)

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:

’’اے ام المؤمنینؓ! آپ دو سچے منتظمین (الفرط: جو قافلے سے پہلے جا کر پڑاؤ والی جگہ پر آنے والوں کی رہائش وغیرہ کا بندوبست کرتا ہے اور یہاں ثواب اور شفاعت مراد ہے۔ (مقدمہ فتح الباری: صفحہ 166) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جا رہی ہیں۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 3771۔ علامہ عینی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی ترجمۃ الباب سے یہ مطابقت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کے جنتی ہونے کی یقین دہانی کرائی۔ ایسی بات توقیفی ہی ہو سکتی ہے اور یہ بہت بڑی فضیلت ہے۔ (عمدۃ القاری: جلد 16 صفحہ 251۔)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خوارج کو دعوت دیتے ہوئے اور ان کے ساتھ بحث و مباحثہ کرتے ہوئے فرمایا:

’’تمہارا یہ کہنا کہ علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ (واقعہ جمل) میں قتال تو کیا لیکن نہ قیدی بنائے اور نہ مال غنیمت حاصل کیا۔ (تو میں کہوں گا) کیا تم اپنی ماں کو قید کرتے اور ان سے وہ چیز حلال کرتے جو ان کے علاوہ (کافروں ) سے حلال کی جاتی ہے؟ اگر تم ایسا کرو گے تو کافر ہو جاؤ گے کیونکہ وہ تمہاری ماں ہیں اور اگر تم یہ کہو کہ وہ ہماری ماں نہیں تو پھر بھی تم کافر بنو گے۔ کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

اَلنَّبِىُّ اَوۡلٰى بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ‌ وَاَزۡوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمۡ‌  (سورة الاحزاب آیت 6)

’’ایمان والوں کے لیے یہ نبی ان کی اپنی جانوں سے زیادہ قریب تر ہے ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔

’’گویا تم دو گمراہیوں کے درمیان گھوم رہے ہو۔ تم جو بھی اختیار کرو گے گمراہی کی طرف جاؤ گے۔ سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ میں نے کہا: کیا میں اس شبہ سے نکل گیا ہوں؟ سب نے کہا: جی ہاں۔‘‘

(السنن الکبرٰی للنسائی: جلد 5 صفحہ 165، حدیث نمبر: 8575  المعجم للطبرانی: جلد 10 صفحہ 257، حدیث نمبر: 10598 مستدرک حاکم: جلد 2 صفحہ 164۔ السنن الکبری للبیہقی: جلد 8 صفحہ 179، حدیث نمبر: 17186۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس کی سند کو منہاج السنۃ: جلد 8 صفحہ 530 پر صحیح کہا اور ہیثمی رحمہ اللہ نے مجمع الزوائد: جلد 6 صفحہ 242 میں کہا ہے کہ اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں اور اسے وادعی رحمہ اللہ نے الصحیح المسند: 711 میں حسن کہا۔)

5۔ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

’’اللہ تعالیٰ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اچھا بدلہ دے، پس اللہ کی قسم! جب بھی آپ پر کوئی مصیبت آئی اللہ تعالیٰ نے اس میں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیا اور مسلمانوں کے لیے اسے بابرکت بنا دیا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 3773۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 367)

ایک روایت میں ہے سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا:

’’اے آل ابی بکر! تمہاری یہ پہلی برکت تو نہیں ہے۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 334 ۔ صحیح مسلم:  حدیث نمبر 367)

6۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے روبرو کہا اور وہ خاموش رہے:

’’آپ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ سے کیا چاہتے ہیں؟ آپ ام المؤمنیؓن سے کیا چاہتے ہیں؟ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہوں گی۔‘‘

(فضائل الصحابۃ للامام احمد: جلد 2 صفحہ 868)

نیز انھوں نے کہا:

’’بے شک وہ دنیا و آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں۔‘‘

(صحیح بخاری: 3772)

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس کسی آدمی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق بری بات کی تو عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے کہا:

’’اے قبیح و مردود! کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ کو اذیت پہنچاتا ہے۔‘‘

(سنن ترمذی' حدیث نمبر3888۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے ضعیف سنن ترمذی: حدیث نمبر 3888 میں اسے ضعیف کہا ہے)

7۔ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں ایک قصیدہ کہا جس کے دو اشعار یہاں نقل کیے جاتے ہیں اور مکمل قصیدہ آگے آ رہا ہے:

حَصَّانُ رَزَّانٌ مَا تُزَنُّ بِرِیْبَۃٍ

وَ تُصْبِحُ غَرْثٰی مِنْ لُّحُوْمِ الْغَوَافِلِ

مُہَذَّبَۃٌ قَدْ طَیَّبَ اللّٰہُ خِیَمَہَا

وَ طَہَّرَہَا مِنْ کُلِّ سُوْئٍ وَ بَاطِلٍ

’’تہذیب یافتہ میں اللہ تعالیٰ نے اس کی جبلت کو پاکیزہ بنایا ہے اور اسے ہر برائی اور باطل سے پاک کر دیا ہے۔‘‘

8۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما جب بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث روایت کرتے وہ کہتے:

’’اللہ کی قسم! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کبھی جھوٹ نہیں بولتیں۔‘‘

(الطبقات الکبری لابن سعد: جلد 8 صفحہ 69)

9۔ سیدنا ابو ایوب انصاری (خالد بن زید بن کلیب ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ۔ ہجرت مدینہ کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بنونجار میں سے اپنی میزبانی کا شرف بخشا۔ یہ عقبہ ثانیہ اور بدر سمیت تمام غزوات میں شریک رہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انھیں بصرہ کا والی بنایا اور انھیں کے ساتھ وہ خوارج کے خلاف معرکوں میں بھی شریک رہے۔ یزید بن معاویہ رحمہ اللہ کی قیادت میں یہ غزوہ قسطنطنیہ میں شریک ہوئی اور 50 ہجری میں وہیں شہید ہوئے اور قلعہ کی فصیل کے باہر دفن ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 402۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 2 صفحہ 234۔)  رضی اللہ عنہ :

ام ایوب رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے کہا:

’’اے ابو ایوب! کیا تم نے وہ باتیں نہیں سنیں جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق لوگ کہتے ہیں؟ انھوں نے کہا: ہاں سنی ہیں اور یہ جھوٹ ہے، اے ام ایوب! کیا تم یہ کام کر سکتی ہو۔ اس نے کہا: نہیں۔ اللہ کی قسم! میں یہ کام نہیں کر سکتی۔ ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا۔ پس عائشہ، اللہ کی قسم! تم سے بہت بہتر ہے۔‘‘

(تفسیر ابن ابی حاتم: جلد 8 صفحہ 2546۔ تاریخ: دمشق لابن عساکر: جلد 16 صفحہ 48)