جاہلی عصبیت
علی محمد الصلابیابن خلدونؒ کا بیان ہے: جب فتوحات تکمیل کو پہنچیں، ملتِ اسلامیہ کے لیے سلطنت مکمل ہو گئی، عرب سرحدی شہروں بصرہ، کوفہ، شام و مصر میں سکونت پذیر ہو گئے، اور جب رسول اللہﷺ کی صحبت اور آپ کے اخلاق و عادات کی اقتداء سے سرفراز ہونے والے مہاجرین، انصار، قریش اور اہلِ حجاز رہے جب کہ باقی عرب بنوبکر، عبدالقیس، ربیعہ، ازد، کندہ، تمیم، قضاعہ وغیرہ میں سے قلیل افراد کے علاوہ کو صحبت کا یہ مقام نہ مل سکا، لیکن اسلامی فتوحات میں ان لوگوں نے کارہائے نمایاں انجام دیے تھے اور وہ اس کو اپنی خصوصیات شمار کرتے تھے، نیز اپنے فضلاء بزرگ یعنی سابقون اولون کی فضیلت کے معترف تھے اور ان کے حق کو سمجھتے تھے، نبوت و وحی اور فرشتوں کے نزول کے سلسلہ میں ایک طرح کی حیرت و تعجب کا شکار تھے، لہٰذا جب یہ سیلاب رواں رکا اور تھوڑی غفلت طاری ہوئی، دشمن ذلیل ہوا سلطنت پھیل گئی اور جاہلی رگیں پھڑک رہی تھیں تو دیکھا کہ مہاجرین و انصار اور قریش و دیگر لوگ ان پر قیادت کر رہے ہیں تو ان نفوس نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا، اور یہ سب کچھ حضرت عثمان غنیؓ کے دورِ خلافت میں پیش آیا آپ کے گورنروں پر طعن و تشنیع شروع ہوا، بات بات پر ان پر تنقیدیں ہونے لگیں، ان کی اطاعت سے گریز کرنے لگے، ان کی معزولی و تبدیلی کا مطالبہ ہونے لگا اور حضرت عثمان غنیؓ پر نکیر کرنے لگے۔ ان کے متبعین میں یہ بات پھیل گئی پھر وہ اپنے اپنے مقام پر ظلم کی باتیں کرنے لگے اور اس کی خبریں مدینہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پہنچیں شکوک و شبہات کو عام ہونے کا موقع ملا اور حضرت عثمان غنیؓ کی معزولی کی باتیں عام ہو گئیں۔ اس صورتِ حال میں حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے بعض امراء کو معزل کر دیا، اور صورت حال کا صحیح جائزہ لینے کے لیے لوگوں کو صوبوں میں روانہ کیا تاکہ صحیح رپورٹ پیش کریں۔ یہ لوگ جائزہ لے کر واپس ہوئے اور یہ رپورٹ پیش کی کہ صورت حال بالکل صحیح ہے، افواہیں غلط ہیں، کوئی قابل اعتراض چیز نہیں دیکھی گئی، اور عوام و خواص کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔
(تاریخ ابن خلدون: جلد 2 صفحہ 477)