روافض کے برپا کیے گئے دیگر فسادات تو رہے ایک طرف، انہوں نے اہلِ سنت کے تصنیفی سرمایہ کے ساتھ جو ظلم کیا ہے، اس کا خلاصہ ہم حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ (متوفی 1239ھ) جنہیں مصنف نام و نسب مشہور اور مستند محدث و عالم کے لقب سے یاد کرتے ہیں
(نام و نسب: صفحہ481)
کی شہرہ آفاق تصنیف تحفہ اثناء عشریہ سے ہدیہ قارئین کر رہے ہیں ملاحظہ فرمائیں کس طرح روافض نے اہلِ سنت والجماعت کی کتابوں میں الحاقات کیے، اس میں اپنی روایات داخل کیں، اور عوام تو کیا خواص کو بھی دھوکے میں مبتلا کیا:
1: سولہواں دھوکہ:
یہ ہے کہ ان کے علماء نے تقیہ کا لبادہ اوڑھ کر اپنے آپ کو اہلِ سنت کے محدثین ظاہر کیا اور علمِ حدیث کو مشہور سنی محدثین سے حاصل کرنے میں مشغول ہو گئے، اور صحیح اسناد یاد و حفظ کیں۔ ظاہری زہد و تقویٰ سے اپنے آپ کو آراستہ و پیراستہ کیا جب ان کا اعتماد اہلِ علم پر بحال ہو گیا تو انہوں نے یہ حرکت شروع کی کہ صحیح اور حسن احادیث کی روایت کے ساتھ اپنے مذہب کی گھڑی ہوئی احادیث بھی خلط ملط کر دیں، جس سے عوام کیا، خواص بھی دھوکہ اور فریب کا شکار ہوئے لیکن الحمدللہ محدثین نے بہ کمال تحقیق و تفتیش انہیں تاڑ لیا۔
2: انیسواں دھوکہ:
یہ دیتے ہیں کہ اہلِ سنت کے معتبر رجالِ اسناد پر نظر رکھتے ہیں ان میں کسی کا نام یا لقب ان کے رجال میں سے کسی سے ملتا جلتا ہو تو اس کی حدیث اور روایت کو اسی کی سند سے منسوب کر دیتے ہیں اب چونکہ دونوں کا نام و لقب ایک ہوتا ہے، اس لیے تمیز مشکل ہو جاتی ہے۔
3: اکیسواں دھوکہ:
یہ دیتے ہیں کہ ایسی کتاب جس میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر لعن طعن ہو اور مذہبِ اہلِ سنت کا بطلان ہو، خود تصنیف کر کے اس کو اہلِ سنت کے کسی جلیل المرتبہ عالم کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔
4: بائیسواں دھوکہ:
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی برائیاں اور مذہبِ اہلِ سنت کا بطلان ایسی کتابوں سے نقل کرتے ہیں جو نہایت کمیاب اور نادر الوجود ہوتی ہیں۔
5: تیسواں دھوکہ:
کسی عالم کے بارے میں پہلے نہایت شد و مد سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ متعصب سُنی تھا اور بعض تو اس کو کٹر خارجی بتاتے ہیں، پھر اس کی طرف سے کوئی عبارت نقل کرتے ہیں جس سے اہلِ سنت کے مذہب کا بطلان اور امامیہ اثناءِ عشریہ کے مذہب کی تائید ہوتی ہے اور اس حرکت کی غرضِ مذمومہ یہ ہوتی ہے کہ دیکھنے والا غلط فہمی میں پڑے اور الجھن میں مبتلا ہو کر یہ سوچے کہ جب مصنف اتنا متعصب سنی ہوتے ہوئے ان روایات کو بیان کرتا ہے اور پھر ان کی تردید کے بجائے اس پر سکوت اختیار کرتا ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایات صحیح ہی ہیں۔
6: بتیسواں دھوکہ:
شیعہ علماء کی ایک جماعت بڑی سعی و کوشش سے اہلِ سنت کی تفاسیر اور سیرت کی ان کتابوں میں جو علماء و طلباء میں بہت کم معروف و مشہور ہوں، یا نادر الوجود ہوں، ایسی جھوٹی باتیں ملا دیتے ہیں جو شیعہ مذہب کی تائید اور اہلِ سنت کے مذہب کی تردید کرتی ہوں۔
7: چھتیسواں دھوکہ:
اہلِ سنت کے مقتداؤں کے اشعار میں الٹ پھیر اور جعل سازی بھی ان کی فریب کاری کا ایک طریقہ ہے ان اشعار کے ہم وزن و ہم قافیہ، ایک دو شعر اپنے مفید مطلب کے گھڑ کر ان کے اشعار میں شامل کر دیتے ہیں جن کا مضمون وضاحت سے شیعہ مذہب کی موافقت اور اہلِ سنت کے مذہب کی مخالفت کرتا ہے اس قسم کی حرکت اکثر و بیشتر اہلِ سنت کے مقبول شعرائے کرام کے کلام میں کرتے ہیں، مثلاً شیخ فرید الدین عطارؒ، شیخ واحدیؒ، شمس تبریزؒ، حکیم سنائیؒ، مولانا رومؒ، حافظ شیرازیؒ اور حضرت خواجہ قطب الدین دہلویؒ وغیرہ ان سے قطع نظر، امام شافعیؒ کے ساتھ بھی شیعوں نے یہی سلوک کیا ہے اور ان کے اشعار میں بھی اپنے گھڑے ہوئے اشعار خلط ملط کر دیے ہیں۔
(ملخص تحفہ اثناءِ عشریہ مترجم: باب دوم، فصل اوّل)
ہم نے صرف سات مکائد کا خلاصہ نذرِ قارئین کیا ہے جبکہ شاہ عبد العزیز قدس سرہ نے اسی باب میں شیعوں کے ایک سو سات دھوکوں اور فریب کی نشان دہی فرمائی ہے۔