مصنف نام و نسب بعنوان سیدنا امیرِ معاویہؓ کے حق میں وارد شدہ احادیث پر محدثین کا تبصرہ لکھتے ہیں:
چونکہ خارجی فضائلِ اہلِ بیتؓ کی احادیث کو موضوع اور ضعیف قرار دیتے ہیں، اس لیے مناسب ہے کہ جن احادیث کو وہ صحت کا اعلیٰ معیار سمجھتے ہیں، ان احادیث کے متعلق محدثین کی رائے بھی پیش کر دی جائے۔
چنانچہ علامہ ابنِ حجر عسقلانیؒ شارحِ بخاری تبصرہ فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
اسحاق بن راہویہؒ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: لم یصح فی فضائل معاویۃ شیء حضرت امیرِ معاویہ بن ابی سفیانؓ کے فضائل کی روایات میں سے کوئی روایت صحیح نہیں ہے۔ اور اسحاق بن راہویہؒ، نسائی وغیرہما نے بھی اسی بات کو پختہ کیا ہے۔ چنانچہ اس روایت کو امام جلال الدین السیوطیؒ نے بھی نقل کیا ہے۔
(نام و نسب: صفحہ 514، 515)
الجواب: جہاں تک فضائل اور محبتِ اہلِ بیتؓ کی بات ہے تو اہلِ سنت نے کبھی ان کے بارے میں دو رائے نہیں رکھیں بلکہ ہمیشہ ان کی محبت و عقیدت کو حرزِ جان بنایا ہے، ان کے در کی غلامی اور ان کی کفش برداری کو اپنے لیے باعثِ فخر و سعادت سمجھا ہے۔ اہلِ سنت کی کتبِ حدیث میں سے شاید ہی کوئی کتاب ہو جس میں مناقبِ اہلِ بیتؓ اور فضائلِ سیدنا علیؓ، فضائلِ سیدہ فاطمہؓ اور فضائلِ سیدنا حسنینؓ کے ابواب قائم نہ کیے گئے ہوں۔
الحمدللہ، حضراتِ اہلِ بیتؓ سے محبت ضروریاتِ مذہبِ اہلِ سنت میں سے ہے اور ہمارا یہ مؤقف کتاب و سنت اور سیرتِ صحابہؓ کی مجموعی آواز پر مبنی ہے۔
مفتیِ اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب قدس سرہ (متوفی 1396ھ) لکھتے ہیں:
رسول اللہﷺ کی تعظیم و محبت کا ساری کائنات سے زائد ہونا جزوِ ایمان بلکہ مدارِ ایمان ہے، اور اس کے لیے لازم ہے کہ جس کو جس قدر نسبتِ قریبہ رسول اللہﷺ سے ہے، اس کی تعظیم و محبت بھی اسی پیمانے سے واجب و لازم ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسان کی صلبی اولاد کو سب سے زیادہ نسبتِ قربت حاصل ہے، اس لیے ان کی محبت بلاشبہ جزوِ ایمان ہے۔ مگر اس کے یہ معنیٰ نہیں کہ ازواجِ مطہراتؓ اور دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، جن کو رسول اللہﷺ کے ساتھ متعدد قسم کی نسبتیںِ قربت اور قرابت کی حاصل ہیں، ان کو فراموش کر دیں۔
خلاصہ یہ کہ حبِ اہلِ بیتؓ و آلِ رسولﷺ کا مسئلہ اُمت میں کبھی زیرِ اختلاف نہیں رہا۔ باجماع و اتفاق ان کی محبت و عظمت لازم ہے۔ اختلافات وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں دوسروں کی عظمتوں پر حملہ کیا جاتا ہے۔ ورنہ آلِ رسولﷺ ہونے کی حیثیت سے عام سادات، خواہ ان کا سلسلۂ نسب کتنا ہی بعید ہو، ان کی محبت و عظمت عینِ سعادت و اجر و ثواب ہے۔
(معارف القرآن: جلد7 صفحہ 691، 692 تحت سورۃ الشوریٰ: آیت23)
جہاں تک محبتِ اہلِ بیتؓ کی بات ہے تو اس میں ہم مصنف کے اس شعر سے صد فی صد متفق ہیں:
خواہ میری یہ فراست ہے کہ نادانی ہے
حبِ اولادِ نبیﷺ، شرطِ مسلمانی ہے
لیکن جہاں تک مصنف کے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی عدمِ فضیلت کے اثبات پر دیئے گئے حوالے کا تعلق ہے، تو یہ قول بعض بزرگوں کا ہے، نہ تو یہ حدیث ہے، نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے، نہ کسی تابعی کا قول ہے، اور نہ ہی جمہورِ علمائے امت اس قول پر متفق ہیں۔ ممکن ہے ان بزرگوں کو صحیح روایات نہ ملی ہوں۔ کسی محدث کا کسی حدیث سے لاعلم ہونا حدیث کے غیر موجود ہونے پر دلالت نہیں کرتا۔
خود مصنف کے ممدوح جناب احمد یار خان نعیمی گجراتی (متوفی 1391ھ) فرماتے ہیں:
کسی محدث کا حدیث سے بے خبر رہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ حدیث موجود ہی نہ ہو۔
(سیدنا امیرِ معاویہؓ: صفحہ89 دوسرا باب، حضرت امیرِ معاویہؓ پر اعتراضات و جوابات اعتراض نمبر 12)
مصنف کا سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ پر عدمِ فضیلت کا الزام لگانا کوئی نئی تحقیق نہیں، بلکہ شروع ہی سے بغضِ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے مریض، حبِ سیدنا علیؓ کے دھوکے میں سیدنا امیرِ معاویہؓ پر یہ الزام دھرتے رہے ہیں۔ اس کا نام ہرگز حبِ حضرت علیؓ نہیں۔ علمائے کرام رحمہم اللہ نے اس کے جوابات بھی ارشاد فرمائے ہیں۔