شیعہ اور عقیدہ ختم نبوت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اور عقیدہ ختم نبوت

  مولانا عطاء الرحمٰن ثاقب شہیدؒ

صفحہ 1 از 5

عقیدہ ختم نبوت پر ایمان کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں کہلا سکتا، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جا چکا ہے اور ان کی سرگرمیوں پر بھی ایک حد تک پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

قادیانی ختمِ نبوت کے منکر ہیں ان کے نزدیک سلسلہ نبوت منقطع نہیں ہوا بلکہ وہ جاری و ساری ہے اگرچہ وہ ظلی و بروزی کی تقسیم کرتے ہیں تاہم اس تقسیم کا کتاب و سنت میں کوئی وجود نہیں۔

قادیانیوں سے بھی پہلے جس مکتبہ فکر نے ’’امامت‘‘ کے نام پر ختمِ نبوت کا انکار کیا وہ شیعہ مکتبہ فکر ہے۔ ان کے نزدیک "امامت‘‘ کا وہی مفہوم ہے جو مسلمانوں کے نزدیک ’’نبوت‘‘ کا ہے۔ میں نے اس انتہائی نازک اور حساس موضوع پر قلم کو جنبش نہیں دی تاوقتیکہ میں نے علامہ احسان الہٰی ظہیر شہیدؒ کی تصنیفات کے علاوہ خود شیعہ مراجع و مصادر کا بغور مطالعہ نہیں کر لیا۔ مختلف شیعی کتب کے مطالعہ کے بعد جب میرے پاس دلائل و براہین کی اتنی بڑی تعداد جمع ہو گئی جن پر ایک ایسی عمارت ایستادہ کی جاسکے کہ جس میں بیٹھے ہوئے حریف کو دلائل کے سامنے سر تسلیم خم کیے بغیر کوئی چارہ کار اور راہِ فرار نہ ہو تب میں نے اللہ کے فضل سے اس موضوع پر اپنے قلم کو حرکت دینے کی جسارت کی مجھے امید ہے کہ ان شاءاللہ العزیز یہ مقالہ قارئین کی بھر پور التفات و توجہ حاصل کرے گا۔

اس فکر کہ جس پر شیعہ مذہب کی عمارت اور اس نظر کے درمیان کہ جس پر شریعت اسلامیہ کی عمارت ایستادہ ہے ایک واضح فرق یہ ہے کہ اسلام کے برعکس شیعہ مذہب میں ختم نبوت کا کوئی تصور نہیں۔

شاید قارئین کرام اتنی عبارت پڑھ کر میرے اوپر انتہا پسندی اور تصرف کا حکم لگا دیں مگر جب وہ ان کثیر التعداد دلائل کا مطالعہ کریں گے جو اس مقالہ میں بیان کیے گئے ہیں تو یقیناً انہیں اپنی رائے تبدیل کرنے کے سوا کوئی مفسر نہیں ہو گا انہیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ میں نے اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر عمل کیا ہے:

 وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰٓى اَ لَّا تَعۡدِلُوۡا‌ اِعۡدِلُوۡا هُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى‌ وَاتَّقُوا اللّٰهَ‌ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ۞ (سورۃ المائدة: آیت 8)

ترجمہ: اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم بےانصافی کرو۔ انصاف سے کام لو، یہی طریقہ تقویٰ سے قریب تر ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ یقیناً تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔

تمہیں کسی قوم کی مخالفت عدل و انصاف سے روگردانی پر مجبور نہ کرے اختلاف کے باوجود عدل و انصاف کرنا تمہاری ذمہ داری ہے اور تقویٰ کا بھی یہی تقاضا ہے۔

ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ اہل سنت کے ساتھ خود شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے اکثر حضرات کو بھی شیعہ مذہب کے عقائد اور اس کی تاریخ کا علم نہیں ہے۔ وہ اپنی سادہ لوحی کی بنا پر یہ سمجھتے ہیں کہ شاید سیدنا حسینؓ کی شہادت کے ذکر پہ آنسو بہا لینے، ماتم اور تعزیہ نکال لینے کا نام ہی شیعہ مذہب ہے، ہمیں یقین ہے کہ اگر خود شیعہ حضرات کو بھی شیعی عقائد کا علم ہو جائے تو یقیناً وہ اس مذہب سے توبہ کرنے میں ہی اپنی عاقبت کی بہتری خیال کریں گے۔ امام العصر علامہ احسان الہٰی ظہیر شہیدؒ کا شیعہ قوم پر یہ احسان عظیم ہے کہ آپ نے اپنی تصنیفات اور محاضرات کے ذریعے شیعہ مذہب کی اصلیت اور تاریخی حیثیت واضح کی تاکہ شیعہ قوم کا وہ طبقہ جو صرف اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے شیعہ عقائد کو اختیار کیے ہوئے ہے حقیقت سے آگاہ ہو کر اس مذہب سے توبہ کر کے اپنی عاقبت سنوارنے کی طرف توجہ دے سکے کہ جس مذہب کا اس دین سے کوئی تعلق نہیں جو اللہ تعالیٰ نے جبرئیل امین علیہ السلام کے واسطے سے سیدنا محمد رسول اللہﷺ پہ نازل فرمایا تھا۔

عقیدہ ختم نبوت سے انکار بھی ان عقائد میں سے ہے جن کا اہل سنت کے ساتھ ساتھ خود شیعہ اکثریت کو بھی علم نہیں۔ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے کہ جس سے آگاہی کے بعد شیعہ قوم کے صاحبِ بصیرت طبقے سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اس مذہب سے اپنا تعلق ختم کرلے۔

شیعہ قوم اپنے بارہ اماموں کو ان صفات سے متصف کرتی ہے جو کہ نبوت کا خاصہ ہیں۔

1: ان کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہونا۔

2: ان کا معصوم عن الخطاء ہونا۔

3: ان کی اطاعت کا فرض ہونا۔

4: ان پر وحی اور فرشتوں کا نزول ہونا۔

یہ چاروں صفات اگر کسی بھی انسان میں مان لی جائیں تو اس میں اور انبیائے کرام میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا جب کوئی شخص کسی کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ

1: وہ اللہ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لیے مبعوث ہے۔

2: وہ معصوم من الخطا ہے۔

3: اس کی اطاعت فرض ہے۔

4: اس پر وحی نازل ہوتی ہے۔

تو گویا کہ وہ اسے اللہ کا نبی خیال کرتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے مبعوث کیا ہے۔

شیعہ مذہب میں بارہ اماموں کو یہ چاروں حیثیتیں حاصل ہیں چنانچہ اس مذہب میں محمد رسول اللہﷺ آخری نبی نہ تھے اور نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ بلکہ ’’امامت‘‘ کے لبادے میں نبوت جاری و ساری ہے اور بارہ امام بارہ امام نہیں بلکہ بارہ نہیں تھے۔ اب ہم ان چاروں صفات یعنی بعثت، عصمت، وجوب اطاعت اور نزول وحی کو خود شیعہ کتب کی روشنی میں بیان کرتے ہیں کہ شیعہ مذہب کے مطابق باره امام ان چاروں صفات سے متصف ہیں۔

بعثت:مشہور شیعہ عالم جسے شیعہ قوم نے ’’خاتم المحدثین‘‘ کا لقب دے رکھا ہے یعنی ملا باقر مجلسی‘‘ اپنی مشہور کتاب ’’حق الیقین‘‘ میں لکھتا ہے۔

’’بارہ امام اللہ کی طرف سے منصوص یعنی مبعوث ہیں۔‘‘(حق القین: 47)

شیعہ قوم کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بارہ اماموں کو بذریعہ نص یا کہہ لیجیے آرڈنینس کے ذریعے نامزد کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نص نازل ہوئی تھی جس میں اماموں کو نامزد کیا گیا تھا۔ اس نص کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ پہلے امام تھے اور محمد بن الحسن العسکری آخری امام۔ چنانچہ شیعوں کے ’’شیخ صدوق ‘‘ ابن بابویہ قمی محمد بن یعقوب کلینی اور مشہور شیعہ عالم طوسی نے اپنی کتب میں روایت بیان کی ہے کہ:

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ پر وفات سے قبل ایک کتاب نازل فرمائی اور کہا:

صفحہ 1 از 5