حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن و سنت کی نظر میں -…

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن و سنت کی نظر میں

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 3

حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن و سنت کی نظر میں:

خلاصہ کائنات، فخرِ موجودات، باعثِ کُن فکان، محبوبِ ربِ دو جہاں، سیدِ انس وجن، سرورِ کونین، تاجدارِ عرب و عجم حضرت محمد مصطفیٰﷺ درس گاہ کے بلاواسطہ اور براہِ راست شاگرد، مسجدِ نبوی کے تربیت یافتہ، وحی ربانی قرآن مقدس کے اولین مخاطب حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت وہ مقدس وپاکیزہ جماعت ہے جو اپنی بے شمار اور اَن گنت خصوصیات اور فضائل ومناقب میں تمام سابقہ ولاحقہ اقوام واُمم میں بے نظیر اور فقید المثال ہے نہ اولین میں اس برگزیدہ طبقہ کی نظیر و مثال ہے اور نہ آخرین میں کوئی قوم و امت اس جماعت کے ہم رُتبہ ہو سکتی ہے، یہی وہ طبقہ ہے جو زمانہ جاہلیت قبل ایمان میں اگرچہ معاصی اور گناہوں میں مبتلا تھے لیکن ایمان قبول کرنے اور ہدایت خداوندی سے مستفیض ہونے کے بعد رحمان و رحیم اور پروردگارِ عالم سے اتنے قریب ہوگئے کہ مردود شیطان دیکھتے ہی دُم دباکر بھاگ جاتا تھا۔

خلاصہ یہ ہے کہ حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا وہ مقدس گروہ قرآن و سنت، مذہب و شریعت اور تہذیب و تمدن کا رنگ قبول کرنے والا اور اپنی تمام تر سابقہ بے ڈھنگی روش اور طور طریقوں کو یکسر چھوڑ کر رحمانی زندگی اور سیرتِ نبوی کی ایسی جیتی جاگتی تصویر بن گیا کہ کہنے والا کہنے پر مجبور ہوگیا کہ:

خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے

کیا نظر تھی جس نے مُردوں کو مسیحا کردیا

اور خود کائنات کا پالن ہار ان کی تعریف وتوصیف بیان کرتا ہے، دنیاوی زندگی اور حیاتِ فانی ہی میں اپنی رضامندی اوران کی مغفرت کا اعلان کرتا ہے۔ اپنے خاص مقامِ رحمت جنت کی بشارت وخوش خبری سُناتا ہے، ارشاد باری ہے:

1: رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ‌ الخ۔

(سورۃ المائدہ: آیت، 119)

اللہ تعالیٰ ان سے خوش ہو گیا اور وہ اللہ سے، دوسرے مقام پر ان کے ہدایت یافتہ اور بامراد ہونے کو یوں بیان فرماتا ہے:

2: اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنۡ رَّبِّهِمۡ‌ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏۞

(سورۃ البقرہ: آیت، 5)

ایک موقع پر حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایمان کی قبولیت کو اور پھر ان کے ایمان کو معیار اور کسوٹی کا درجہ دیتے ہوئے ارشاد ہے:

3: اٰمِنُوۡا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ الخ

(سورۃ البقرہ: آیت، 13)

ایمان قبول کرو جیسا کہ لوگوں نے ایمان قبول کیا، اور کبھی حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے باہمی ربط وتعلق اور محبت والفت کا نقشہ کھینچتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

4: رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ ‌الخ۔

(سورۃ الفتح: آیت، 48)

وہ باہم نہایت مہربان اور شفقت کرنے والے ہیں۔ حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے قلوب تقوی وطہارت میں نہایت مزکّٰی و مصفّٰی تھے، اسی کو قرآن یوں بیان کرتا ہے:

5: اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ امۡتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ لِلتَّقۡوٰى‌ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّاَجۡرٌ عَظِيۡمٌ۞

(سورۃ الحجرات: آیت، 3)

وہی ہیں جن کے دلوں کو جانچ لیا ہے اللہ نے ادب کے واسطے ان کے لیے معافی ہے اور ثواب بڑا اور دشمنانِ اسلام اور کفار ومشرکین کے مقابلے میں ان کی مضبوطی اور طاقت کو قرآنِ کریم ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔

6: اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ الخ۔

(سورۃ الفتح: آیت، 48)

زور آور ہیں کافروں پر۔ معصیت وگناہ سے اس گروہ کی نفرت وکراہت کو کلام پاک ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔

7: وَكَرَّهَ اِلَيۡكُمُ الۡكُفۡرَ وَالۡفُسُوۡقَ وَالۡعِصۡيَانَ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ۞

(سورۃ الحجرات: آیت، 7)

اور نفرت ڈال دی تمہارے دل میں کفر اور گناہ اور نافرمانی کی وہ لوگ وہی ہیں نیک راہ پر۔

اور شارحِ قرآن کریم، مبینِ مُرادِ خداوندی، مہبط وحی حضرت نبی پاکﷺ نے بھی صادق و مصدوق ارشادات اور فرمودات میں حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل و مناقب اور ان ذواتِ قدسی صفات کی تعریف و توصیف خوب خوب بیان فرمائی ہے۔ خلیفہ ثانی فاروقِ اعظم عمرؓ سے روایت ہے: 

8: قال رسول اللہﷺ أکرموا أصحابي فإنہم خیارکم ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم الخ۔ 

میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اعزاز واکرام کرو کیونکہ وہ تم سے بہتر ہیں پھر ان کے بعد والے پھر ان کے بعد والے۔ دوسری روایت حضرت جابرؓ سے ہے۔

9: عَنْ جَابِرٍؓ عَنِ النَّبِیﷺ قال: لا تَمْسَ النَّارُ مُسْلِماً راٰنِی أو رأی من راٰنِی۔

آگ اس شخص کو نہ چھو پائے گی جس نے مجھے دیکھا یا میرے صحابی کو دیکھا ہوگا۔ ایک روایت حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے:

10: عن ابن عمرؓ قال قال رسول اللہﷺ إذا رأیتم الَّذِیْنَ یَسُبُّوْنَ أصْحَابِیْ فَقُوْلُوْا: لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلٰی شَرِّکُمْ۔

جب ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے ساتھیوں کو برا بھلا کہہ رہے ہوں تو یوں کہو کہ اللہ کی لعنت تمہارے شرپر۔ اسی طرح ایک روایت حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے۔

11: قال النَّبِیﷺ: لا تسبوا اَصْحَابِی فَلَوْ أنَّ أحَدَکُمْ اَنْفَقَ مِثْلَ أحُدٍ ذَہَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أحَدِہِمْ وَلاَ نَصِیْفَہٗ۔

 تم لوگ میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا بھلا مت کہو کیونکہ وہ تم سے بہت افضل ہیں اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا راہِ خدا میں خرچ کرے گا تب بھی وہ ان کے ایک مُد یا نصف مُد کو نہیں پہنچ پائے گا۔ ایک روایت حضرت عمران بن حصینؓ سے روایت ہے۔

12: عَن عمران بن حصینؓ قال قال رسول اللہﷺ: خَیْرُ اُمَّتِی قَرْنِی ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ الخ۔

میری امت میں سب سے بہتر لوگ میرے زمانے کے لوگ پھر ان کے بعد والے پھر ان کے بعد والے۔

صفحہ 1 از 3