فصل: جھوٹ کی پہچان کے ذرائع : - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل: جھوٹ کی پہچان کے ذرائع :

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 2

فصل: جھوٹ کی پہچان کے ذرائع :

یعنی : ان طریقوں کے بیان میں جن سے منقولات میں جھوٹ کا ہونا معلوم ہوجاتا ہے۔

ان میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ اس مشہور اور متواتر طریقہ سے معلوم واقعہ کے خلاف نقل کیا جائے۔ مثال کے طور پر ہم جانتے ہیں کہ: مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعوی کیا تھا۔ اور بنی حنیفہ کی بہت بڑی تعداد نے اس کی اتباع کی تھی؛ اس وہ جہ وہ لوگ مرتد ٹھہرے تھے کہ وہ اس جھوٹے نبی پر ایمان لے آئے تھے۔

اور یہ کہ ابو لؤلؤ ؛ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قاتل ؛ مجوسی کافر تھا۔ اور ابو ہرمزان مجوسی تھا؛ پھر مسلمان ہوگیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے جانشین رہے او رلوگوں کو اس ساری مدت میں نمازیں پڑھاتے رہے۔

یہ کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں دفن کیا گیا ہے۔ جیسا کہ جو کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان غزوات کے بارے میں معلوم ہوتا ہے جن میں جنگ کی نوبت آئی تھی ؛ جیساکہ غزوہ بدر؛ غزوہ احد؛غزوہ خندق؛غزوہ خیبر؛غزوہ فتح مکہ؛غزوہ طائف؛ اور وہ غزوات جن میں قتال کی نوبت نہیں آئی جیسے :؛غزوہ تبوک اور اس کے علاوہ دوسرے غزوات ۔ اور جوکچھ قرآن کا حصہ ان غزوات میں نازل ہوا ہے ؛ جیسا کہ سورت انفال کے نزول کا سبب غزوہ بدر تھا۔ اورسورت آل عمران کا آخری حصہ ؛غزوہ احد کے بارے میں ؛اور اس کا پہلا حصہ نجران کے عیسائیوں کے بارے میں ؛ اور سورت حشر غزوہ بنی نضیر کے بارے میں ؛اور سورت احزاب غزوہ خندق کے بارے میں ؛اور سورت فتح صلح حدیبیہ کے بارے میں ؛ اور سورت توبہ غزوہ تبوک اور اس کے امثال دیگر واقعات کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ۔

جب غزوات کے بارے میں کوئی ایسی چیزروایت کی جائے جس کا خلاف واقع ہونا معلوم ہو تو اس سے اس روایت کا جھوٹ ہونا معلوم ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ اس رافضی مصنف نے بھی روایت کیا ہے۔ اس کے امثال دوسرے روافض اور دوسرے لوگ بھی غزوات کے بارے میں ایسی چیزیں روایت کرتے ہیں جن کا جھوٹ ہونا ظاہری طور پر معلوم ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس سے قبل اس پر تنبیہ گزر چکی ہے۔ اور مثلاً یہ معلوم ہوجائے کہ نزول قرآن کا وقت معلوم ہوجائے کہ [کونسی آیات ]کب [اور کہاں ]نازل ہوئی ہیں ؟جیسا کہ یہ معلوم ہے کہ سورت بقرہ ؛ آل عمران؛ مائدہ اور انفال اور برأت [توبہ] ہجرت کے بعد مدینہ میں نازل ہوئی ہیں ۔ اور یہ کہ انعام ؛ اعراف؛ یونس ؛ ہود؛ یوسف؛کہف اور طہ ؛ مریم ؛ اوراقتربت الساعہ ؛ اور ھل اتی علی الانسان اور دوسری سورتیں ہجرت سے پہلے مکہ میں نازل ہوئی ہیں ۔ اور یہ کہ معراج کا واقعہ مکہ مکرمہ میں پیش آیا تھا۔ اور اصحاب صفہ مدینہ طیبہ میں تھے۔ اور اہل صفہ جملہ طور پر ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی جنگ نہیں لڑی۔ یہ کوئی متعین لوگ نہیں تھے۔ بلکہ صفہ ایک جگہ تھی جہاں پر یہ غریب الدیاراجنبی لوگ جمع ہوا کرتے تھے جن کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوا کرتا۔اورجو لوگ ان میں داخل ہوئے تھے ان میں حضرت سعد بن ابی وقاص؛ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما اور دوسرے نیکوکار اہل ایمان شامل تھے۔ اور جیساکہ قبیلہ عرینہ کے لوگ جو اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگئے تھے؛ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے لوگ بھیجے؛ [جو انہیں پکڑ لائے]۔ پھر ان کے ہاتھ اورپاؤں کاٹ دیے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں ۔ اور انہیں حرہ کے پتھروں میں پھینک دیا گیا۔ وہ پانی مانگتے ؛ مگر انہیں پانی نہ دیا جاتا۔ اور اس طرح کے دوسرے واقعات بھی ہیں جو کہ معلوم شدہ ہیں ۔

جب کوئی جاہل ان کے خلاف روایت کرے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔

صفحہ 1 از 2