مودت القربی مصنفہ سید علی ھمدانی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مودت القربی مصنفہ سید علی ھمدانی

  محمد علی

صفحہ 1 از 3

مودت القربیٰ مصنفہ سید علی ہمدانی 

مودة القربیٰ اصل تو عربی میں تصنیف ہوئی پھر اس کی شروعات اور خواشی بھی لکھے گئے بالآخر خیر خواہوں نے مفید عام بنانے کے لیے اس کا ترجمہ بھی کیا اس کے مطالعہ سے ہر صاحب مطالعہ بآسانی سمجھ جاتا ہے کہ اس کا مصنف شیعہ ہے کیونکہ عقائد شیعہ سے یہ کتاب بھری پڑی ہے لیکن تقیہ کا کارنامہ دیکھیے کہ ایسے کٹر شیعہ کی کتاب کا ترجمہ جب شائع کیا گیا تو اس کے ٹائٹل پر یہ الفاظ لکھ کر دھوکہ دینے کی قبیح کوشش کی گئی "زاد العقبیٰ ترجمہ مودة القربیٰ مؤلفہ سید علی ھمدانی شافعی سنی المذہب" یہ انداز صرف اس لیے اختیار کیا گیا تاکہ اسے پڑھنے والا اسے اہلِ سنت کی کتاب سمجھے اور اس میں درج نظریات کی بھی سنیوں کے عقائد جان کر ان پر کاربند ہونے کی کوشش کرے اس کے ترجمہ کرنے والے کا نام مولوی سید شریف حسین شیعی ہے بھلا اس شریف آدمی سے کوئی پوچھے کہ اگر صاحب مودت القربیٰ اہلِ سنت کا عالم ہے تو تمہیں کس کتے نے کاٹا تھا کہ اپنے مخالف کی کتاب کا ترجمہ کرنے بیٹھ گئے اور ایک کریلا دوسرا نیم چڑھا کے مصداق اسے چھاپنے کی سعادت امامیہ کتب خانہ لاہور نے حاصل کی ان آثار و علامات سے جاننے والے پہچان جاتے ہیں کہ اندرون خانہ کیا تھا اور بیرون خانہ کیا ظاہر کیا گیا؟ اس کتاب سے ایک حوالہ کہ جس کے ذریعے اسے اہلِ سنت کی معتبر کتاب کہا گیا ہے ملاحظہ ہو پھر اس کے بارے میں تحقیق پیش خدمت ہوگی۔

 قولِ مقبول

 سیدہ فاطمۃؓ کے حق مہر کا بیان

 اہلِ سنت کی معتبر کتاب مودت القربیٰ

عن ابنِ عباسؓ قال رسول اللهﷺ لعلیؓ یا علیؓ ان اللہ تبارك وتعالیٰ زوجك فاطمہؓ وجعل صداقھا الارض فمن مشی علیھا مبغضا لك مشی حراما

(مودةُ القربیٰ: صفحہ 108) 

 ترجمہ: سیدنا ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ نبی پاکﷺ نے سیدنا علیؓ سے فرمایا کے اللہ تعالیٰ نے تیری شادی میری بیٹی سیدہ فاطمہؓ سے کی ہے اور میری بچی کا حق مہر خدا نے تمام زمین کو قرار دیا ہے جو آپ سے بغض رکھتے ہوئے زمین پر چلے گا تو اس کے لیے زمین پر چلنا حرام ہے۔ (قولِ مقبول فی اثبات وحدت بنتِ رسولﷺ: صفحہ  92 تا 95 ) 

 جواب: مودة القربیٰ اور اس کے مصنف کے بارے میں تحقیق کے وہ کس مذہب سے متعلق ہے تو ہم وہی دو طریقہ اپنا رہے ہیں ایک یہ کہ اس کتاب کے چند اِقتباسات پیش کریں گے اور دوسرا طریقہ یہ کہ اس کے مصنف کے بارے میں خود شیعہ علماء کی زبانی چند حوالہ جات پیش کر کے قارئین کرام کو حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں لیجیے پہلے چند اِقتباسات ملاحظہ ہوں:

 صاحب مودة القربیٰ ہمدانی کا تشیع اس کی تحریرات کے آئینہ میں

 اِقتباس 1: عن ابی جعفر الباقرعلیہ السلام فی قولہ یا ایھاالذین آمنو ادخلوافی السلم کافۃ الایہ یعنی ولایة علی والاوصیاء من بعدہ 

(زاد العقبیٰ اردو ترجمہ مودة القربیٰ: صفحہ 54 )

 ترجمہ: اور جعفر محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ آیتِ کریمہ یا ایہا الذین امنو ادخلو فی السلم کافة

 اے ایمان والو سب کے سب سِلم میں داخل ہو جاؤ میں سِلم سے مراد علی اور ان کے اوصیاء علیہ السلام کی ولایت ہے جو علی کے بعد ہوئے۔

 (زاد العقبیٰ اردو ترجمہ مودت القربیٰ: صفحہ نمبر 54 )

 اِقتباس 2: عن علی ابنِ حسین علیھماالسلام عن ابنِ عمر قال مر سلیمان الفارسی وھو یرید ان یعود رجلا و نحن جلوس فی حلقہ و فینا رجل یقول لو شئت لانباءتکم بافضل ھذہ الامة بعد نبینا وافضل من ھذین الرجلین ابی بکر و عمر فقام سلیمان فقال اما واللہ لو شیئت لانباتکم الخ (صفحہ 62)

 ترجمہ: علی بِن حسین علیہ السلام نے ابنِ عمر سے روایت کی ہے کہ سلیمان فارسی کسی شخص کی عیادت کے ادارے سے سے جا رہے تھے کہ ان کا گزر ہم پر سے ہوا اور ہم آدمیوں کے حلقہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور ہم میں سے ایک شخص کہہ رہا تھا کہ اگر میں چاہوں تو تم کو ایسے شخص کے حال سے خبردار کروں جو ہمارے پیغمبر کے بعد اس کی ساری امت سے افضل ہے اور ان دونوں شخصوں  ابوبکر و عمر سے برتر اور بہتر ہے پھر اس نے سلمان سے درخواست کی تب سلمان نے کہا آگاہ کروں جو رسول خدا‎ کی قسم اگر میں چاہوں تو بےشک میں تم کو ایسے شخص کے حال سے آگاہ کروں جو رسول خدا‎ کے بعد اس ان تمام امت سے افضل ہے اور وہ ان دونوں شخصوں  ابوبکر و عمر سے بہتر ہے یہ کہہ کر سلیمان روانہ ہوئے تب لوگوں نے ان سے کہا اے ابو عبداللہ! تم نے بیان نہ کیا سلیمان بولے کہ میں نے آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ نزع کی حالت میں تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ‎ آپ نے کسی شخص کو اپنا وصی مقرر کردیا ہے فرمایا اے سلیمان کیا تم اوصیاء کو جانتے ہو میں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کا رسول‎ بہتر جانتے ہیں فرمایا حضرت آدمؑ کے وصی حضرت شیثؑ تھے اور وہ تمام اولاد آدم سے جو ان کے بعد باقی رہی بہتر تھے حضرت نوحؑ کے وصی حضرت سامؑ تھے جو ان سب سے افضل تھے جن کو حضرت نوحؑ نے اپنے بعد چھوڑا اور حضرت موسیؑ کے وصی حضرت یوشعؑ تھے اور وہ ان سب سے افضل تھے جو حضرت موسیؑ کے بعد باقی رہے اور حضرت سلیمانؑ کے وصی حضرت آصف بِن برخیاؑ اور وہ ان تمام لوگوں سے جن کو حضرت سلیمانؑ نے اپنے بعد چھوڑا بہتر تھے اور حضرت عیسیؑ کے وصی حضرت شمعون بِن فرخیاؑ تھے جو ان تمام لوگوں سے بہتر تھے جو حضرت عیسیؑ کے بعد باقی رہے اور میں نے علی بن ابی طالب کو اپنا وصی کیا ہے اور وہ سب لوگوں سے جن کو میں نے اپنے بعد چھوڑتا ہوں بہتر اور افضل ہیں۔

( زادالعقبیٰ ترجمہ مودة القربیٰ: صفحہ 62 تا 63) 

 توضیح: آیت کریمہ میں سِلم سے مراد ولایت علی اور ولایت اذا اہلِ بیت لے کر مصنف نے اپنی شیعت کا اظہار کر دیا اور اس کے ساتھ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو وصی رسول اللہﷺ کا عقیدہ بلکہ تمام آئمہ اہلِ بیت کو وصی کون کہتا ہے تو معلوم ہوا کہ ولایت سیدنا علیؓ افضلیت مطلقاً وصی رسولﷺ وغیرہ کے عقائد صاحب مودة القربیٰ نے بیان کیے ہیں اور سبھی جانتے ہیں کہ مذکورہ عقائد اہلِ تشیع کے ہیں سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ سے سیدنا علیؓ کی افضلیت بھی عقائد شیعوں میں سے ہے ان عقائد سے علی ہمدانی صاحب مودة القربیٰ کا اہلِ تشیع میں سے ہونا واضح ہو گیا۔

صفحہ 1 از 3