مودت القربی مصنفہ سید علی ھمدانی
محمد علیمودت القربیٰ مصنفہ سید علی ہمدانی
مودة القربیٰ اصل تو عربی میں تصنیف ہوئی پھر اس کی شروعات اور خواشی بھی لکھے گئے بالآخر خیر خواہوں نے مفید عام بنانے کے لیے اس کا ترجمہ بھی کیا اس کے مطالعہ سے ہر صاحب مطالعہ بآسانی سمجھ جاتا ہے کہ اس کا مصنف شیعہ ہے کیونکہ عقائد شیعہ سے یہ کتاب بھری پڑی ہے لیکن تقیہ کا کارنامہ دیکھیے کہ ایسے کٹر شیعہ کی کتاب کا ترجمہ جب شائع کیا گیا تو اس کے ٹائٹل پر یہ الفاظ لکھ کر دھوکہ دینے کی قبیح کوشش کی گئی "زاد العقبیٰ ترجمہ مودة القربیٰ مؤلفہ سید علی ھمدانی شافعی سنی المذہب" یہ انداز صرف اس لیے اختیار کیا گیا تاکہ اسے پڑھنے والا اسے اہلِ سنت کی کتاب سمجھے اور اس میں درج نظریات کی بھی سنیوں کے عقائد جان کر ان پر کاربند ہونے کی کوشش کرے اس کے ترجمہ کرنے والے کا نام مولوی سید شریف حسین شیعی ہے بھلا اس شریف آدمی سے کوئی پوچھے کہ اگر صاحب مودت القربیٰ اہلِ سنت کا عالم ہے تو تمہیں کس کتے نے کاٹا تھا کہ اپنے مخالف کی کتاب کا ترجمہ کرنے بیٹھ گئے اور ایک کریلا دوسرا نیم چڑھا کے مصداق اسے چھاپنے کی سعادت امامیہ کتب خانہ لاہور نے حاصل کی ان آثار و علامات سے جاننے والے پہچان جاتے ہیں کہ اندرون خانہ کیا تھا اور بیرون خانہ کیا ظاہر کیا گیا؟ اس کتاب سے ایک حوالہ کہ جس کے ذریعے اسے اہلِ سنت کی معتبر کتاب کہا گیا ہے ملاحظہ ہو پھر اس کے بارے میں تحقیق پیش خدمت ہوگی۔
قولِ مقبول
سیدہ فاطمۃؓ کے حق مہر کا بیان
اہلِ سنت کی معتبر کتاب مودت القربیٰ
عن ابنِ عباسؓ قال رسول اللهﷺ لعلیؓ یا علیؓ ان اللہ تبارك وتعالیٰ زوجك فاطمہؓ وجعل صداقھا الارض فمن مشی علیھا مبغضا لك مشی حراما
(مودةُ القربیٰ: صفحہ 108)
ترجمہ: سیدنا ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ نبی پاکﷺ نے سیدنا علیؓ سے فرمایا کے اللہ تعالیٰ نے تیری شادی میری بیٹی سیدہ فاطمہؓ سے کی ہے اور میری بچی کا حق مہر خدا نے تمام زمین کو قرار دیا ہے جو آپ سے بغض رکھتے ہوئے زمین پر چلے گا تو اس کے لیے زمین پر چلنا حرام ہے۔ (قولِ مقبول فی اثبات وحدت بنتِ رسولﷺ: صفحہ 92 تا 95 )
جواب: مودة القربیٰ اور اس کے مصنف کے بارے میں تحقیق کے وہ کس مذہب سے متعلق ہے تو ہم وہی دو طریقہ اپنا رہے ہیں ایک یہ کہ اس کتاب کے چند اِقتباسات پیش کریں گے اور دوسرا طریقہ یہ کہ اس کے مصنف کے بارے میں خود شیعہ علماء کی زبانی چند حوالہ جات پیش کر کے قارئین کرام کو حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں لیجیے پہلے چند اِقتباسات ملاحظہ ہوں:
صاحب مودة القربیٰ ہمدانی کا تشیع اس کی تحریرات کے آئینہ میں
اِقتباس 1: عن ابی جعفر الباقرعلیہ السلام فی قولہ یا ایھاالذین آمنو ادخلوافی السلم کافۃ الایہ یعنی ولایة علی والاوصیاء من بعدہ
(زاد العقبیٰ اردو ترجمہ مودة القربیٰ: صفحہ 54 )
ترجمہ: اور جعفر محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ آیتِ کریمہ یا ایہا الذین امنو ادخلو فی السلم کافة
اے ایمان والو سب کے سب سِلم میں داخل ہو جاؤ میں سِلم سے مراد علی اور ان کے اوصیاء علیہ السلام کی ولایت ہے جو علی کے بعد ہوئے۔
(زاد العقبیٰ اردو ترجمہ مودت القربیٰ: صفحہ نمبر 54 )
اِقتباس 2: عن علی ابنِ حسین علیھماالسلام عن ابنِ عمر قال مر سلیمان الفارسی وھو یرید ان یعود رجلا و نحن جلوس فی حلقہ و فینا رجل یقول لو شئت لانباءتکم بافضل ھذہ الامة بعد نبینا وافضل من ھذین الرجلین ابی بکر و عمر فقام سلیمان فقال اما واللہ لو شیئت لانباتکم الخ (صفحہ 62)
ترجمہ: علی بِن حسین علیہ السلام نے ابنِ عمر سے روایت کی ہے کہ سلیمان فارسی کسی شخص کی عیادت کے ادارے سے سے جا رہے تھے کہ ان کا گزر ہم پر سے ہوا اور ہم آدمیوں کے حلقہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور ہم میں سے ایک شخص کہہ رہا تھا کہ اگر میں چاہوں تو تم کو ایسے شخص کے حال سے خبردار کروں جو ہمارے پیغمبر کے بعد اس کی ساری امت سے افضل ہے اور ان دونوں شخصوں ابوبکر و عمر سے برتر اور بہتر ہے پھر اس نے سلمان سے درخواست کی تب سلمان نے کہا آگاہ کروں جو رسول خدا کی قسم اگر میں چاہوں تو بےشک میں تم کو ایسے شخص کے حال سے آگاہ کروں جو رسول خدا کے بعد اس ان تمام امت سے افضل ہے اور وہ ان دونوں شخصوں ابوبکر و عمر سے بہتر ہے یہ کہہ کر سلیمان روانہ ہوئے تب لوگوں نے ان سے کہا اے ابو عبداللہ! تم نے بیان نہ کیا سلیمان بولے کہ میں نے آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ نزع کی حالت میں تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ نے کسی شخص کو اپنا وصی مقرر کردیا ہے فرمایا اے سلیمان کیا تم اوصیاء کو جانتے ہو میں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں فرمایا حضرت آدمؑ کے وصی حضرت شیثؑ تھے اور وہ تمام اولاد آدم سے جو ان کے بعد باقی رہی بہتر تھے حضرت نوحؑ کے وصی حضرت سامؑ تھے جو ان سب سے افضل تھے جن کو حضرت نوحؑ نے اپنے بعد چھوڑا اور حضرت موسیؑ کے وصی حضرت یوشعؑ تھے اور وہ ان سب سے افضل تھے جو حضرت موسیؑ کے بعد باقی رہے اور حضرت سلیمانؑ کے وصی حضرت آصف بِن برخیاؑ اور وہ ان تمام لوگوں سے جن کو حضرت سلیمانؑ نے اپنے بعد چھوڑا بہتر تھے اور حضرت عیسیؑ کے وصی حضرت شمعون بِن فرخیاؑ تھے جو ان تمام لوگوں سے بہتر تھے جو حضرت عیسیؑ کے بعد باقی رہے اور میں نے علی بن ابی طالب کو اپنا وصی کیا ہے اور وہ سب لوگوں سے جن کو میں نے اپنے بعد چھوڑتا ہوں بہتر اور افضل ہیں۔
( زادالعقبیٰ ترجمہ مودة القربیٰ: صفحہ 62 تا 63)
توضیح: آیت کریمہ میں سِلم سے مراد ولایت علی اور ولایت اذا اہلِ بیت لے کر مصنف نے اپنی شیعت کا اظہار کر دیا اور اس کے ساتھ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو وصی رسول اللہﷺ کا عقیدہ بلکہ تمام آئمہ اہلِ بیت کو وصی کون کہتا ہے تو معلوم ہوا کہ ولایت سیدنا علیؓ افضلیت مطلقاً وصی رسولﷺ وغیرہ کے عقائد صاحب مودة القربیٰ نے بیان کیے ہیں اور سبھی جانتے ہیں کہ مذکورہ عقائد اہلِ تشیع کے ہیں سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ سے سیدنا علیؓ کی افضلیت بھی عقائد شیعوں میں سے ہے ان عقائد سے علی ہمدانی صاحب مودة القربیٰ کا اہلِ تشیع میں سے ہونا واضح ہو گیا۔
اِقتباس 3: عن ابی ذر قال قال رسول الله علی باب علمی ومبین لامتی وبغضہ نفاق والنظر الیہ رافة وموته عبادۃ رواہ ابو نعیم باسنادہ
(ذادلعقبیٰ: صفحہ 65)
ترجمہ: سیدنا ابوذر غفاریؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول خدا نے فرمایا کہ علی میرا علم کا دروازہ ہے اور میرے بعد میری امت کے لیے اس شریعت کا بیان کرنے والا ہے جس کے ساتھ خدا نے مجھ کو بھیجا ہے اس کی محبت ایمان ہے اور اس کی دشمنی نفاق ہے اور اس کی طرف نظر کرنا رفعت و مہربانی ہے اور اس کی دوستی عبادت ہے حافظ ابو نعیم نے اپنے اسناد سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔
اِقتباس نمبر 4 عن ابنِ عباس قال قال رسول الله انہ علی وشیعتہ ھم الفائزون یوم القیامة (زاد العقبیٰ: صفحہ 85)
ترجمہ: ابنِ عباس سے مروی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا کہ قیامت کے دن علی اور اس کے شیعہ ہی نجات و دستکاری پائیں گے۔
اِقتباس نمبر 5: وعن عبابہ ابنِ ربیعی قال قال رسول الله انا سید النبین وعلی سید الوصیین وان الاوصیاء بعدی اثنا عشر اولھم علی واٰخرھم قائم المھدی ( زاد العقبی صفحہ 90)
ترجمہ: عباس ابنِ ربیعی سے روایت ہے کہ جناب رسول خدا نے فرمایا کہ میں تمام پیغمبروں کا سردار ہوں اور علی تمام اوصیاء کا سردار ہے میرے بعد 12 وصی ہوں گے اور ان میں سے اول علی ہے اور آخری قائم آل محمد مہدی آخر الزمان علیہ السلام ہے
اقتباس نمبر 6: وعن اصبغ بِن نباتہ عن عبد الله بنِ عباس قال سمعت رسول الله یقول انا وعلی والحسن والحسین وتسعة من ولد الحسین مطھرون معصومون (زاد العقبیٰ صفحہ 90)
ترجمہ: اور اصبغ بِن نباتہ نے عبداللہ بن عباس سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول خدا سے سنا ہے کہ فرماتے تھے کہ میں اور علی اور حسن و حسین اور نو امام جو اولاد حسین سے ہوں گے پاک و پاکیزہ اور گناہوں سے معصوم محفوظ ہیں۔
اِقتباس نمبر 7: وعن عبد الله جویشقة بِن مرة العیری عن جدہ قال اتی عمر بِن خطاب رجلان فسئلاہ عن طلاق الامۃ فانتھی الی حلقة فیھا رجل اصلع فقال یا اصلع ما تری فی طلاق الامة الخ
ترجمہ: عبداللہ جویشقہ بِن مرہ عیری نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ عمر بن خطاب کے پاس دو شخص طلاق کنیز کا مسئلہ پوچھنے آئے تب عمر آدمیوں کے ایک حلقہ کے پاس گئے جس میں ایک اصلع شخص موجود تھا اس سے کہا کہ اے اصلع طلاق کنیز کی بابت تیری کیا رائے ہے اس نے انگلیوں سے جواب دیا اور کلمے کی انگلی سے اشارہ کیا اس وقت عمر ابن خطاب اور ان دونوں شخصوں کی طرف متوجہ ہوئے ان میں سے ایک بولا سبحان اللہ ہم تیرے پاس آئے تھے اور تو امیر المؤمنین ہے اور تجھ سے ایک مسئلہ پوچھا تھا اور تو ایک ایسے شخص کے پاس آیا جس نے خدا کی قسم تجھ سے بات تک بھی نہ کی یہ سن کر عمر نے ان سے کہا تو جانتا ہے یہ شخص کون ہے اور وہ دونوں بولے نہیں عمر نے کہا یہ علی بن ابی طالب ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول خدا سے سنا ہے کہ وہ حضرت فرماتے تھے کہ اگر آسمان اور زمین کے رہنے والوں کے ایمان کے ترازو ایک پلڑے میں رکھا جاۓ اور علی کا ایمان دوسرے پلڑے میں رکھ کر دونوں کو تولا جائے تو علی بن ابی طالب کا ایمان ہی سب سے بھاری ہوگا۔
(زاد العقبیٰ: صفحہ 68 تا 69)
توضیح: کے مندرجہ بالا حوالہ جات میں صاحب مودت القربیٰ کے عقیدہ کے مطابق سیدنا علی المرتضیؓ کے علم کے برابر کوئی دوسرا نہیں ہے ان کی موجودگی میں کسی کو امامت زیب نہیں دیتی بروز حشر کامیابی صرف شیعان علی کو ہوگی سیدنا علی المرتضیٰؓ اور ان کے بعد تمام ائمہ اہلِ بیت معصوم ہیں اس لیے ہم انہی کی اتباع کرتے ہیں قارئین کرام یہ عقائد و نظریات رکھنے والا یقیناً اہلِ تشیع میں ہو سکتا ہے کسی سنی کو یہ عقائد زیب نہیں دیتے ان حوالہ جات کے ہوتے ہوئے نجفی کا صاحب مودت القربیٰ کو اہلِ سنت میں سے گردانہ یا تو اس کی پرلے درجے کی جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے اگر یہی وجہ ہے تو حقیقت آشکار ہو جانے پر نجفی کو اپنے لکھے اور کیے پر معافی مانگنی چاہیے اگر یہ نہیں ہے تو پھر یہ سب کچھ دین کو بیچنے کے مترادف ہے اور عوام کو دھوکہ اور فریب دینا ہے اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق وما یخدعون الا انفسھم وما یشعرون خود ہی اس فریب کا شکار ہوگیا اب صاحب مودت القربیٰ کے بارے میں دوسرا طریقہ اپناتے ہیں یعنی شیعہ محققین کی کتب سے اس کے عقائد و نظریات کے بارے میں حوالہ جات پیش کیے جاتے ہیں ملاحظہ ہو:
صاحب مودة القربیٰ کے شیعہ ہونے پر شیعہ علماء کی نصوص سے قطعیہ
الزریعہ: المودۃ فی القربی للسید علی الھمدانی المتوفی سنة ست وثمانین وسبعمائة 786طبعت مع ینابیع المودة وایضا مستقلا فی سنة 1310وافراد القاضی نوراللہ المرعشی رسالة فی اثبات تشیعہ کما من فی 11، 9 و ترجمہ: فی المجالس (الذریعہ الی تصانیف الشیعہ: جلد 23صفحہ 255 مطبوعہ بیروت)
ترجمہ: سید علی ہمدانی متوفی 786ء کی کتاب مودت فی القربیٰ سن 1310 میں ینابیع المودة کے ساتھ ایک جلد میں چھپی اور قاضی نور اللہ مرعشی نے اس کے شیعہ ہونے پر ایک مستقل رسالہ لکھا ہے مجالس المؤمنین میں علی ہمدانی کا تذکرہ موجود ہے۔
الزریعہ:اخلاق محرم للسید علی بن شھاب الدین بن محمد الحسینی الھمدانی المتوفی 786 نسبہ الیہ فی کشف الظنون ترجمہ تلمیذۃ السید نور الدین جعفرالبدخشی فی کتابہ خلاصة المناقب الذی اورد شطرا منہ القاضی نور الله فی مجالس المؤمنین
(الزریعہ: جلد 1 صفحہ 377)
ترجمہ: اخلاق محرم سید علی بن شہاب الدین ہمدانی کی تصنیف سے جو 786 میں فوت ہوا کشف الظنون میں اس کتاب کی نسبت اسی مصنف کی طرح کی گئی ہے کہ ہمدانی کے شاگرد سید نور الدین جعفر بدحشی نے خلاصۃ المناقب میں بھی اس کے حالات لکھے ہیں اس سے کچھ باتیں قاضی نور اللہ نے مجالس المؤمنین میں بھی درج کی ہیں۔
الزریعہ: دیوان سید علی ھمدانی او شعرہ ھو ابنِ شھاب العارف الشھیر السیاح فی الربع المسکون ثلاث مرات وتوفی 776
(الزریعہ: جلد 3/9صفحہ 765)
ترجمہ: سید علی ہمدانی کا دیوان یا شعروں کا مجموعہ ہمدانی مذکور ابنِ شہاب الدین ہے اور مشہور سیاح تھا تین مرتبہ پوری دنیا کی سیاحت کی آخر میں 776 ہجری میں فوت ہو گیا۔
الزریعہ:رسالة فی اثبات تشیع السید علی بِن شھاب الدین محمد الھمدانی للقاضی نوراللہ الشتری ذکرھا بعض الموثقین
(الزریعہ: جلد 11 صفحہ 9)
ترجمہ: سید علی بن شہاب الدین ہمدانی کا مذہب شیعہ ثابت کرنے کے لیے نور اللہ شتری نے ایک رسالہ لکھا بعض موثقین نے اس کا ذکر کیا ہے۔
مجالس المؤمنین: التحریر الموحد الربانی السید علی الھمدانیی
متوفی 3 ربع مسکون راسیر کردہ مولانا نور الدین جعفری بدحشی کہ ازا فاضل تلامذہ اوست در کتاب خلاصہ المناقب ذکر نمودہ فرمودہ اند کے خدائی تعالیٰ مرا توفیق محبت و متابعت آل طہ ویٰسین کرامت نمودہ ورخصت موافقت غیر ایشاں نفرمودہ
قال رسول اللہ ان اللہ عزوجل عرض حب علی و فاطمۃ وزریتھما علی البریة فمن بارد منھم بالاجابة جعل منھم الرسل ومن اجاب بعد ذالك جعل منھم الشیعة۔قالﷺ من احب ان یحیی حیوتی ویموت موتی ویدخل الجنۃ التی وعدنی ربی فلیتول علی بن ابی طالب وذریعتہ الطاھرین آئمۃ الھدی قالﷺ لما عرج بی الی السماءِ رایت علی باب الجنة مکتوبا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِوعلی حبیب الله والحسن والحسین صفوة الله وفاطمۃ امة الله علی محبھم رحمتہ الله وعلی مبغھم لعنت الله وقالﷺ اذا کان یوم القیامۃ یقعد علی بِن ابی طالب علی الفردوس وھو جبل قد علی علی الجنة فوق عرش رب العالمین ومن سفحہ ینفجر انھار الجنۃ ویتفرق فی الجنان وھو جالس علی الکرسی من نور یجری من بین یدیہ التسنیم لا یجوز احد علی الصراط الامعہ براة بولایتہ ولایة اھل بیته یشرف علی الجنة فیدخل محبہ الجنة ومبغضیه النار
مصنف کی ایک رباعی
گرحب علی و ال بتولت نبود
امید شفاعت از رسولت نبود
گرطاعت حق جملہ بجا آری تو
بے مہر علی ہیچ قبولت نبود
(مجالس المؤمنین تالیف قاضی نور اللہ شوستری جلددوم صفحہ 138 تا 140 ذکر سید علی ھمدانی مطبوع تہران)
ترجمہ: سید علی ہمدانی نے تین مرتبہ چوتھے حصے زمین کی سیر کی مولانا نور الدین جعفر بدخشی نے جو اس کے لائق شاگردوں میں سے ایک ہیں کتاب خلاصۃ المناقب میں ان کا ذکر کیا کہ ہمدانی کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حضورﷺ کی آل کی متابعت اور محبت عطا فرمائی ان کے علاوہ کسی اور سے مجھے کوئی پیار نہیں ہے حضور نبی کریم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے علی و فاطمہ اور ان دونوں کی اولاد کی محبت تمام لوگوں پر پیش کی جن آدمیوں نے سب سے پہلے اسے قبول کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں پیغمبر بنا دیا اور جنہوں نے ان کے بعد قبول کیا ان میں سے شیعہ پیدا کیے آپﷺ کا قول ہے کہ جو شخص میری زندگی کی طرح زندگی اور میری موت کی طرح موت کا خواہشمند ہو وہ جنت میں جانے کا متمنی ہے جس کا مجھ سے میرے رب نے وعدہ کر رکھا ہے تو اسے چاہیے کہ علی بن ابی طالب اور ان کی ذریت سے پیار کرے جو کہ آئمہ طاہرین ہیں حضورﷺ نے فرمایا کہ جب مجھے معراج کرایا گیا تو میں نے جنت کے دروازے پر یہ کلمہ لکھا دیکھا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں علی اللہ کے حبیب ہیں حسن و حسین اللہ کے برگزیدہ ہیں فاطمہ اللہ کی بندی ہے ان سے محبت رکھنے والے پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور ان سے بغض رکھنے والے پر اللہ تعالیٰ کی لعنت حضور کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن علی فردوس پر بیٹھے ہوں گے جو جنت کے تمام طبقات سے بلند ہے اور اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے اس کے نیچے جنت کی نہریں جاری ہیں اور جنت کے مختلف درجات میں بہتی ہیں سیدنا علی وہاں ایک نور کی کرسی پر تشریف فرما ہیں سامنے سے تسنیم گزرتی ہے پل صراط سے کوئی شخص اس وقت گزر نہ سکے گا جب تک کہ اس کے پاس سیدنا علی کی ولایت کی پرچی نہ ہوگی اور آپ کے اہلِ بیت کا پروانہ نہ ہوگا سیدنا عل جنت کے اوپر سے دیکھ رہے ہوں گے سو آپ کے چاہنے والے جنت میں داخل ہو جائیں گے اور آپ سے بغض رکھنے والے دوزخ میں گر پڑیں گے۔
مصنف کی ایک رباعی ہے
اگر تیرے دل میں علی اور ان کی آل کی محبت نہیں
تو رسول کریمﷺ کی شفاعت کی امید مت رکھنا
اگر اللہ تعالیٰ کی تمام عبادات تو بجا لا چکا ہے
پھر بھی یہ سب کچھ علی کی محبت کے بغیر ہرگز تجھ سے قبول نہیں کیا جائے گا۔
توضیح: صاحب الذریعہ نے سید علی ہمدانی کو ان مصنفین میں سے شمار کیا جو شیعہ ہوئے نور اللہ شتری نے اس کے تشیع پر ایک مستقل رسالہ تحریر کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کو اس کے شیعہ ہونے میں تردد تھا کیونکہ یہ لوگ اکثر تقیہ باز ہوئے ہیں اس لیے کہ علامہ شوستری کی مجالس المؤمنین میں ان کے شیعہ ہونے کی تصریح کی اور پھر مستقل رسالہ بھی تحریر کیا علی ہمدانی نے جو احادیث ذکر کی ہیں جن میں سیدنا علی المرتضیٰؓ اور آپ کی آل کی ولایت کا اقرار اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے کرایا جو پہل کر گئے وہ پیغمبر بن گئے دوسرے نمبر پر آنے والے شیعہ ہو گئے جنت کے دروازے پر لکھا گیا کلمہ یہ تمام احادیث کہاں سے اسے ملی بہرحال ان احادیث میں اس نے شیعت کو کھل کر بیان کیا اور جو کسر باقی تھی وہ رباعی میں نکال دی ان حقائق کے ہوتے ہوئے اس سے اہلِ سنت کا فرد اور اس کی کتاب مودت القربیٰ کو اہلِ سنت کی معتبر کتاب قرار دینا لعنتیوں کا کام ہے تبرائی ہی ایسا کرتے چلے آئے ہیں۔
یہ تھی حقیقت جو بھی ہم نے آپ قارئین کرام کے سامنے پیش کر دی ہے اس کے بعد مودة القربیٰ اور اس کے مصنف کے بارے میں کوئی خفا نہیں رہتا اور اور صراحت کے ساتھ یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ وہ کٹر شیعہ تھا اور اس پر اسے فخر تھا اس کے شاگردوں کو اس پر ناز تھا۔
فاعتبروا یااولی الابصار