سیدنا علی رضی اللہ عنہ صلح حدیبیہ اور بیعت رضوان میں
علی محمد محمد الصلابیغزوۂ حدیبیہ میں صلح کی بات آنے سے پہلے چند غلام مکہ سے چل کر رسول اللہﷺ سے آملے، جب ان کے مالکوں کو اس کی اطلاع ملی تو انھوں نے رسول اللہﷺ کے پاس خط لکھا کہ ان غلاموں کو ہمارے حوالہ کر دیں، لیکن آپﷺ نے اس سے انکار کر دیا اور کہا:
یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ لَتَنْتَہَنَّ أَوْ لَیَبْعَثَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ مَن یَّضْرِبُ رِقَا بَکُمْ بِالسَّیْفِ عَلَی الدَّیْنِ قَدِ امْتَحَنَ اللّٰہُ قَلْبَہُ عَلَی الْاِیْمَانِ
’’اے قریش کے لوگو! تم اپنی حرکت سے باز آجاؤ ورنہ اس بات کے لیے تیار رہو کہ اللہ تعالیٰ تم پر ضرور باضرور ایسے شخص کو مسلط کرے گا جو صرف اسلام کی خاطر تلوار سے تمھاری گردنیں مارے گا، اللہ نے اس کے دل کی ایمانی صداقت کو اچھی طرح آزما لیا ہے۔
‘‘صحابہ کرام نے حسرت سے پوچھا : اے اللہ کے رسولﷺ وہ کون ہے؟ دراصل ان میں ہر ایک یہی امید لگائے بیٹھا تھا کہ وہی اس عظیم ترین بشارت نبوی پر فائز ہو، آپﷺ نے فرمایا: ’’ہُوَ خَاصِفُ النَّعْلِ‘‘ وہ جو کہ جوتے میں پیوند لگانے والے ہیں، آپﷺ کی مراد سیدنا علیؓ تھے، جن کو آپﷺ نے اپنا جوتا پیوند کاری کے لیے دیا تھا۔
(مرویا ت غزوۃ الحدیبیۃ: حافظ الحکمی۔ حدیث اپنی مجموعی اسانید کے ساتھ صحیح ہے دیکھیے: خلافۃ علی بن أبی طالب: عبدالحمید علی ناصر: صفحہ 30)
جب مسلمانوں اور مشرکین قریش کے درمیان صلح پر اتفاق ہوا تو صلح نامہ تحریر کرنے کی سعادت حضرت علیؓ کو ملی، چنانچہ حضرت علیؓ نے جب صلح نامہ لکھتے ہوئے ’’محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لکھا، تو مشرکوں نے اعتراض کیا کہ محمد کے ساتھ ’’رسول اللہ‘‘ نہ لکھا جائے، کیونکہ اگر ہم آپ کو رسول اللہ مانتے تو آپ سے جنگ نہ کرتے، آپﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا: ’’اُمْحہ‘‘ اسے مٹا دو۔ حضرت علیؓ نے کہا میں نہیں مٹا سکتا ہوں لیکن آپﷺ نے اپنے ہاتھوں سے اسے مٹا دیا، اور اس بات پر مصالحت ہوئی کہ آئندہ سال آپ (ﷺ) اپنے ساتھیوں کے ساتھ تین دنوں کے لیے مکہ میں داخل ہو سکتے ہیں بشرطیکہ ان کی تلواریں میان میں ہوں۔
(صحیح مسلم: جلد 3 صفحہ 1409، خصائص علي النسائی: تحقیق أحمد البلوشی: صفحہ 203)
صاف ظاہر ہے کہ حضرت علیؓ محض عظمت و محبت رسول کے دفاع میں ’’رسول اللہ‘‘ کا لفظ مٹانے کو تیار نہ تھے۔
(الانتصار للصحب والآل: الرحیلی: صفحہ 262 تا 274)۔
متعصب رافضیوں نے غزوۂ حدیبیہ میں سیدنا عمر بن خطابؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ کے موقف کو اپنی ہدف کا نشانہ بنایا ہے، جس میں صلح کے معاملہ کو لے کر سیدنا عمرؓ اور نبی کریمﷺ کے درمیان ہونے والی گفتگو اور اعلان رسول کے باوجود پہلی فرصت میں سرمنڈانے اور قربانی کرنے میں صحابہ کرامؓ کی شش وپنج اور تاخیر کو خوب اچھالا ہے، حالانکہ اصحابِ رسول اللہﷺ میں سے خواہ وہ حضرت عمرؓ ہوں یا صلح حدیبیہ میں شریک ہونے والے دوسرے صحابہ کرامؓ؛ اُن میں کسی کا بھی موقف قابل اعتراض نہیں ہے۔
دراصل واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے خواب میں دیکھا تھا کہ مکہ میں داخل ہوئے ہیں اور بیت اللہ کا طواف کیا ہے۔ آپﷺ نے مدینہ میں قیام کے دوران ہی اس خواب سے اپنے صحابہؓ کو مطلع کر دیا اور جب غزوۂ حدیبیہ کے سال صحابہ کرامؓ نے آپﷺ کے ساتھ مکہ کی طرف کوچ کیا تو سب کو یقین ہو گیا کہ یہ مہم آپﷺ کے خواب کی تعبیر ہے چنانچہ وہاں پہنچ کر سب کچھ ہونے کے بعد جب طرفین میں صلح پر اتفاق ہو گیا، جس میں ایک بات یہ بھی تھی کہ مسلمان اس سال واپس لوٹ جائیں، اور آئندہ سال آ کر عمرہ کریں گے، توصحابۂ کرامؓ پر یہ بات سخت گراں گزری۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 4 صفحہ 170، تاریخ الطبری: جلد 2 صفحہ 635)۔
ان میں حضرت عمر فاروقؓ جو کہ حق کے سلسلہ میں سخت گیری اور شدید موقف کے لیے مشہور تھے، آپﷺ سے وجہ پوچھنے لگے اور بار بار اسے چھیڑتے رہے، ایسی کوئی بات نہ تھی کہ سیدنا عمر فاروقؓ کو رسول اللہﷺ کی صداقت پر شک تھا یا آپﷺ کے فیصلہ پر کوئی اعتراض، بلکہ ایک بات جو ان کے دل و دماغ میں بیٹھ چکی تھی کہ مسلمانوں کا مکہ میں دخول ہو گا اور خانہ کعبہ کا طواف کریں گے، آپ اسی چیز کی تفصیل و وضاحت چاہتے تھے اور اس کوشش میں لگے رہے کہ آپﷺ کو دخول مکہ پر ابھاریں اور مدینہ واپس نہ جائیں، اس لیے کہ اسی عمل میں دین الہٰی کے لیے عزت و غلبہ اور مشرکوں کے لیے ذلت ورسوائی مخفی تھی۔
(الانتصار للصحب والآل: صفحہ 264)۔
امام نووی رحمۃاللہ علیہ لکھتے ہیں کہ علماء کی نظر میں سیدنا عمر فاروقؓ کا استفسار اور نبی کریم سے ہونے والی گفتگو کسی شک پر مبنی نہ تھی، بلکہ جو حقیقت حضرت فاروق اعظمؓ کی نگاہوں سے پوشیدہ تھی آپؓ اس کی وضاحت چاہتے تھے، حضرت فاروق اعظمؓ اپنی فطرت کے مطابق کفر کی تذلیل اور اسلام کے ظہور کے خواہاں تھے۔
(شرح صحیح مسلم: جلد 12 صفحہ 141)۔
اس مسئلہ میں آپﷺ نے اجتہاد سے کام لیا تھا اور اس لب و لہجہ کے پیچھے حضرت محمدﷺ کی شدتِ حق پسندی، دین اسلام کی تائیدی قوت اور ایمانی غیرت کار فرماتھی، اس کے ساتھ ہی فرمان الٰہی: فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ (سورۃ آل عمران آیت 159)
(ترجمہ: آپ ان سے درگزر کریں اور ان کے لیے استغفار کریں اور کام کا مشورہ ان سے کیا کریں۔) پیروی کرتے ہوئے صحابہ کرامؓ کو جس شورائیت اور اظہار رائے کا عادی بنایا تھا، یہ تکرار بھی اسی کا ایک حصہ تھی، آپﷺ صحابہؓ سے مشورہ لیا کرتے تھے، ان کی رائے قبول بھی کرتے تھے۔ غزوۂ بدر کی تمہید میں آپﷺ نے قافلہ ابو سفیان کو چھیڑنے کے لیے صحابہؓ سے مشورہ کیا اور اس پر عمل کیا، غزوۂ اُحد کے لیے مشورہ کیا کہ مدینہ میں رہ کر لڑی جائے یا باہر نکل کر، اکثریت نے مشورہ دیا کہ مدینہ کے باہر لڑی جائے اس لیے آپﷺ نے باہر جا کر ان سے لڑائی کی، غزوۂ خندق کے موقع پر صحابہؓ سے مشورہ کیا کہ اگر اس ایک سال کے لیے مدینہ کی ایک تہائی کھجوروں پر مشرکین دشمنوں سے مصالحت کر لی جائے تو کیسا ہے، سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما نے اس رائے کو پسند نہ کیا اور آپﷺ نے انھیں کی بات مان لی۔ غزوۂ حدیبیہ کے موقع پر صحابہ کرامؓ سے مشورہ کیا کہ اگر اچانک مشرکین کی آل اولاد پر حملہ کر دیا جائے تو کیسا ہوگا، ابوبکر صدیقؓ نے کہا :ہم جنگ کرنے نہیں آئے ہیں بلکہ عمرہ کرنے آئے ہیں بہرحال اس طرح کے بےشمار واقعات سیر ت کی کتب میں محفوظ ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر: جلد 1 صفحہ 420)۔
خلاصہ یہ کہ حضرت عمر فاروقؓ اپنی رائے میں اس بات کو ترجیح دینا چاہتے تھے کہ اللہ کے رسولﷺ قریش سے معرکہ آرائی کی میری بات مان لیں، اس لیے بار بار اس سلسلہ میں کبھی اللہ کے رسولﷺ اور کبھی ابوبکر صدیقؓ سے حجت کرتے رہے لیکن جب دیکھا کہ دونوں ہی صلح کی قرار داد پر متفق ہیں تو حضرت عمرؓ نے اصرار کرنا ہی چھوڑ دیا اور اپنی رائے واپس لے لی، اللہ کے رسولﷺ نے بھی حضرت عمر فاروقؓ سے در گزر کیا، کیونکہ آپﷺ کو حضرت عمرؓ کی صداقت، اور نیک نیتی پر یقین تھا۔
(الانتصار للصحب والآل: صفحہ 266، روافض کی تردید میں یہ افضل ترین کتاب ہے۔)
رہا یہ اعتراض کہ اعلان رسول کے باوجود صحابہ کرامؓ سرمنڈوانے اور ہدی ذبح کرنے سے اس وقت تک رکے رہے جب تک کہ اللہ کے رسولﷺ نے ہدی کو ذبح نہ کیا اور سر نہیں منڈوا لیا، حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ کے اس طرزِ عمل میں فرمان رسولﷺ کی مخالفت نہ تھی، بلکہ اس کی چند توجیہات ہیں۔
حافظ ابن حجر رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:
• صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ توقف ممکن ہے اس وجہ سے رہا ہو کہ انھوں نے فرمان نبویﷺ کو ندب پر محمول کیا ہو کہ جن کا کرنے والا ثواب کا مستحق ہوگا اور چھوڑنے والا گناہ گار نہ ہوگا۔
• یا اس امید میں رہے ہوں کہ ممکن ہے بظاہر اس جانبدارانہ صلح کی تردید کے لیے وحی الہٰی کا نزول ہو جائے۔
• یا ممکن ہے آپﷺ خود مکہ نہ جائیں اور صرف
صحابہؓ کو اس سال مناسک کی تکمیل کے لیے مکہ جانے کی اجازت دے دیں۔ ان تمام خیالات اور احتمالات کا پیدا ہونا بعید از قیاس نہیں، کیونکہ نزولِ شریعت کا زمانہ تھا، اور احکام منسوخ ہوا کرتے تھے۔
•یا اس بات کا بھی احتمال ہے کہ اس مقام پر اس وقت کی پیچیدہ صورتِ حال نے انھیں فوری توجہ سے غافل کر دیا ہو، وہ افکار و ہموم میں ڈوبے رہے ہوں، کیونکہ نفسیاتی طور سے انھیں اہانت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، حالانکہ انھیں اپنے اوپر یقین اور اعتماد تھا کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں اور طاقت وغلبہ کے بل بوتے عمرہ مکمل کرلیں گے۔
• یا تعمیل حکم میں اس لیے تاخیر کی کہ آپﷺ کا یہ حکم مطلق ہے جس کی فی الفور بجاآوری ضروری نہیں ہے۔
•یا ان تمام احتمالات کو ہر ایک نے اپنے اپنے اعتبار سے سمجھا۔
(فتح الباری: جلد 5 صفحہ 347)
بعض روایات میں ہے کہ جب رسول اکرمﷺ نے دیکھا کہ صحابہؓ میرے حکم کی فوری تعمیل نہیں کر رہے ہیں تو آپﷺ سیدہ ام سلمہؓ کے پاس گئے اور ان سے صورت حال کا ذکر کیا، حضرت ام سلمہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابھی انھیں کچھ مت کہئے، جانبدارانہ صلح اور بغیر کسی فتح کے لوٹنا ان پر بھی آپ ہی کی طرح گراں گزرا ہے۔
(فتح الباری: جلد 5 صفحہ 345)
آپﷺ کو مشورہ دیا جیسا کہ صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ آپﷺ جائیں اور کسی سے بغیر کچھ گفتگو کیے ہوئے اپنے اونٹ کو نحر کریں، اور سر مونڈنے والے کو بلا کر سرمنڈوا لیں، چنانچہ آپﷺ نے یہ مشورہ پسند کیا اور باہر جا کر کسی سے کوئی گفتگو کیے بغیر اونٹ کو نحر کیا اور سرمونڈنے والے کو بلا کر سرمنڈوایا، جب صحابہؓ نے آپﷺ کو ایسا کرتے دیکھا تو سب نے ہدی کے جانور کو ذبح کیے۔‘‘ (فتح الباری: جلد 5 صفحہ 345) ۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہؓ نے صحابہ کے بارے میں یہ سوچا کہ شاید وہ لوگ فرمان نبوی کو اپنے حق میں رخصت پر محمول کر رہے ہیں اور خود اللہ کے رسول عزیمت پر عمل کرتے ہوئے احرام کی حالت میں باقی رہنا چاہتے ہیں، چنانچہ اسی نظریہ کے تحت آپ نے رسول اکرمﷺ کو خود پہلے حلال ہونے کا مشورہ دیا، تاکہ آپﷺ کے بارے میں کوئی دوسرا احتمال باقی نہ رہے۔ اس کی نظیر اس واقعہ میں ہے جو فتح مکہ کے وقت پیش آیا۔ رمضان کا مہینا تھا، حالت سفر میں آپﷺ صحابہ کو روزہ توڑ دینے کا حکم فرمایا، لیکن وہ روزہ کی حالت میں باقی رہے یہاں تک کہ رسول اللہﷺ نے پیالہ اٹھایا اور نوش فرمایا۔ جب صحابہ کرامؓ نے آپﷺ کو پیتے ہوئے دیکھا تو سبھی نے پانی پی کر روزہ توڑ دیا۔
(دیکھئے: صحیح البخاری: کتاب الشروط: 2732) ۔
آخر الذکر توجیہ سب سے عمدہ ہے اور یہی مقام صحابہ کے موافق ہے، یقیناً ان کی نگاہوں میں احرام کی بڑی عظمت تھی اور عمرہ ادا کر کے ہی واپس جانا چاہتے تھے، لیکن جب آپﷺ نے انھیں حلال ہونے کا حکم دیا اور خود حلال نہ ہوئے، تو انھوں سوچا کہ شاید ہم پر شفقت کھا کر آپﷺ یہ حکم دے رہے ہیں، جیسا کہ ان کے ساتھ عموماً آپ کا ایسا ہی برتاؤ ہوتا تھا، لہٰذا جس کام کے لیے انھیں رخصت دی گئی اس میں نبی کریمﷺ کی پیروی کو ترجیح تھی، لیکن جب یہ دیکھ لیا کہ آپ حلال ہوگئے ہیں تو انھیں یقین آ گیا کہ ہمارے حق میں بھی یہی افضل ہے اور پھر تعمیل حکم میں جلدی کی، بالکل اسی طرح کا واقعہ حجۃ الوداع میں بھی پیش آیا۔ چنانچہ جب لوگ مکہ پہنچے اور طواف و سعی سے فارغ ہوگئے تو رسول اللہﷺ نے انھیں حکم فرمایا کہ احرام کھول کر حلال ہوجائیں اور اسے عمرہ میں تبدیل کر لیں، حج کی تعظیم و احترام میں صحابہ کرامؓ پر یہ بات بہت گراں گزری اور کہنے لگے کہ کیا ہم عرفات اس حالت میں جائیں کہ ہماری شرمگاہوں سے منی کے قطرات ٹپک رہے ہوں۔ رسول اللہﷺ کو جب اس کی خبر ملی تو آپ نے فرمایا:
اَیُّہَا النَّاسُ اَحَلُّوْا فَلَوْ لَا الْہَدْیُ الَّذِیْ مَعِیَ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلْتُمْ۔
’’لوگو!حلال ہوجاؤ اگر میں ہدی اپنے ساتھ نہ لایا ہوتا تو تمھاری طرح میں بھی حلال ہوجاتا۔‘‘
راوی حدیث جابرؓ فرماتے ہیں: پھر ہم نے احرام کھول دینے اور سمع و اطاعت کا مظاہرہ کیا۔
(صحیح البخاری: الاعتصام: 7367)
یہ سب اس لیے ہوا کہ صحابہ کرام رسول اللہﷺ کے مکمل اسوہ کو اختیار کرنے اور خیر کے انتہائی حریص تھے۔
(الانتصار للصحب والآل: صفحہ 268) ۔
صلح حدیبیہ سے متعلق سیدنا عمر فاروقؓ کے بار بار اعتراض پر نبی کریمﷺ کا خاموش موقف بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے، وہ یہ کہ حکام، امراۓ، علماء اور دیگر مبلغین اسلام جن کے ہاتھوں میں اسلامی قیادت ہے انھیں کشادہ دل ہونا چاہیے، کسی کی رائے کو بغور سننا اور سوچنا چاہیے، مفاد عامہ کے حق میں رائے دہی کی اہلیت رکھنے والے ہر فرد کو اظہارِ رائے کا موقع دینا چاہیے نہ یہ کہ ان کے لیے قید خانوں کے دروازے کھول دیے جائیں اور ان کے منہ پر تالے لگا دیے جائیں۔
صلح حدیبیہ کے اہم موقع پر آپﷺ نے یہ واضح کر دیا کہ اسلامی معاشرہ میں اظہار رائے کی آزادی کو ضمانت دی جائے اور مسلم معاشرہ میں ہر فرد کو اظہارِ رائے کی آزادی ہے، اگرچہ یہ رائے حاکم وقت یا خلیفہ پر نکتہ چینی ہی کیوں نہ ہو، مسلم فردکو حق ہے کہ وہ اپنا نظریہ پیش کرے لیکن شرط یہ ہے کہ یہ سب کچھ امن وامان کے ماحول میں ہو، دہشت گردی اور بغاوت کا سہارا نہ لیا جائے کہ جو آزادی فکر و رائے کا گلا گھونٹتا ہے۔ اگر رسول اللہﷺ حضرت عمرؓ کے ساتھ یہ موقف اختیار کر سکتے ہیں تو حاکم وقت سے کسی رائے میں مخالفت رکھنا بدرجۂ اولی کوئی عیب کی بات نہیں ہے اور کوئی ایسا جرم نہیں ہے جو موجب سزا ہو، اور مخالفت کرنے والوں کو جیل خانوں کی تہ میں دھکیل دیا جائے۔
(غزوۃ الحدیبیۃ: أبوفارس: صفحہ 134، 135)۔
اسی طرح غزوۂ حدیبیہ میں نبی اکرمﷺ کا موقف ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ آپﷺ ناخوشگوار حالات میں کتنے مشفقانہ انداز میں اپنے صحابہ کرامؓ کی تربیت کرتے تھے۔ اس موقع پر دیگر اصحابِ رسولﷺ کے ساتھ حضرت علیؓ نے بھی شرف و عظمت کا یہ تاج الہٰی پہنا:
لَـقَدۡ رَضِىَ اللّٰهُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ يُبَايِعُوۡنَكَ تَحۡتَ الشَّجَرَةِ۞(سورۃ الفتح آیت 18)
ترجمہ:) یقیناً اللہ ان مومنوں سے بڑا خوش ہوا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَنْ یَدْخُلَ أَحَدُ النَّارَ بَایَعَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 4840، صحیح مسلم: حدیث نمبر 1856)۔
’’جس نے اس درخت کے نیچے بیعت کی وہ ہرگز ہرگز جہنم میں نہ جائے گا۔‘‘
سیدنا علیؓ اور آپ کے دیگر رفقاء مثلاً ابوبکر و عمر وغیرہ رضی اللہ عنہم اس سے قبل بدر میں امتیازی نشان اور شرف عظیم حاصل کر چکے تھے۔ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:
وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ اللّٰہَ اطَّلَعَ عَلَی أَہْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ۔
(صحیح البخاری: 3983، صحیح مسلم: 2494)۔
’’تمھیں کیا معلوم اللہ نے اہل بدر پر نظر کرم کی اور فرمایا: جو چاہو کرو میں نے تمھیں بخش دیا ہے۔‘‘