سیدنا علی رضی اللہ عنہ صلح حدیبیہ اور بیعت رضوان میں -…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ صلح حدیبیہ اور بیعت رضوان میں

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

غزوۂ حدیبیہ میں صلح کی بات آنے سے پہلے چند غلام مکہ سے چل کر رسول اللہﷺ سے آملے، جب ان کے مالکوں کو اس کی اطلاع ملی تو انھوں نے رسول اللہﷺ کے پاس خط لکھا کہ ان غلاموں کو ہمارے حوالہ کر دیں، لیکن آپﷺ نے اس سے انکار کر دیا اور کہا: 

یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ لَتَنْتَہَنَّ أَوْ لَیَبْعَثَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ مَن یَّضْرِبُ رِقَا بَکُمْ بِالسَّیْفِ عَلَی الدَّیْنِ قَدِ امْتَحَنَ اللّٰہُ قَلْبَہُ عَلَی الْاِیْمَانِ

 ’’اے قریش کے لوگو! تم اپنی حرکت سے باز آجاؤ ورنہ اس بات کے لیے تیار رہو کہ اللہ تعالیٰ تم پر ضرور باضرور ایسے شخص کو مسلط کرے گا جو صرف اسلام کی خاطر تلوار سے تمھاری گردنیں مارے گا، اللہ نے اس کے دل کی ایمانی صداقت کو اچھی طرح آزما لیا ہے۔ 

‘‘صحابہ کرام نے حسرت سے پوچھا : اے اللہ کے رسولﷺ وہ کون ہے؟ دراصل ان میں ہر ایک یہی امید لگائے بیٹھا تھا کہ وہی اس عظیم ترین بشارت نبوی پر فائز ہو، آپﷺ نے فرمایا: ’’ہُوَ خَاصِفُ النَّعْلِ‘‘ وہ جو کہ جوتے میں پیوند لگانے والے ہیں، آپﷺ کی مراد سیدنا علیؓ تھے، جن کو آپﷺ نے اپنا جوتا پیوند کاری کے لیے دیا تھا۔ 

(مرویا ت غزوۃ الحدیبیۃ: حافظ الحکمی۔ حدیث اپنی مجموعی اسانید کے ساتھ صحیح ہے دیکھیے: خلافۃ علی بن أبی طالب: عبدالحمید علی ناصر: صفحہ 30)

جب مسلمانوں اور مشرکین قریش کے درمیان صلح پر اتفاق ہوا تو صلح نامہ تحریر کرنے کی سعادت حضرت علیؓ کو ملی، چنانچہ حضرت علیؓ نے جب صلح نامہ لکھتے ہوئے ’’محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لکھا، تو مشرکوں نے اعتراض کیا کہ محمد کے ساتھ ’’رسول اللہ‘‘ نہ لکھا جائے، کیونکہ اگر ہم آپ کو رسول اللہ مانتے تو آپ سے جنگ نہ کرتے، آپﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا: ’’اُمْحہ‘‘ اسے مٹا دو۔ حضرت علیؓ نے کہا میں نہیں مٹا سکتا ہوں لیکن آپﷺ نے اپنے ہاتھوں سے اسے مٹا دیا، اور اس بات پر مصالحت ہوئی کہ آئندہ سال آپ (ﷺ) اپنے ساتھیوں کے ساتھ تین دنوں کے لیے مکہ میں داخل ہو سکتے ہیں بشرطیکہ ان کی تلواریں میان میں ہوں۔

(صحیح مسلم: جلد 3 صفحہ 1409، خصائص علي النسائی: تحقیق أحمد البلوشی: صفحہ 203) 

صاف ظاہر ہے کہ حضرت علیؓ محض عظمت و محبت رسول کے دفاع میں ’’رسول اللہ‘‘ کا لفظ مٹانے کو تیار نہ تھے۔ 

(الانتصار للصحب والآل: الرحیلی: صفحہ 262 تا 274)۔

متعصب رافضیوں نے غزوۂ حدیبیہ میں سیدنا عمر بن خطابؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ کے موقف کو اپنی ہدف کا نشانہ بنایا ہے، جس میں صلح کے معاملہ کو لے کر سیدنا عمرؓ اور نبی کریمﷺ کے درمیان ہونے والی گفتگو اور اعلان رسول کے باوجود پہلی فرصت میں سرمنڈانے اور قربانی کرنے میں صحابہ کرامؓ کی شش وپنج اور تاخیر کو خوب اچھالا ہے، حالانکہ اصحابِ رسول اللہﷺ میں سے خواہ وہ حضرت عمرؓ ہوں یا صلح حدیبیہ میں شریک ہونے والے دوسرے صحابہ کرامؓ؛ اُن میں کسی کا بھی موقف قابل اعتراض نہیں ہے۔

 دراصل واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے خواب میں دیکھا تھا کہ مکہ میں داخل ہوئے ہیں اور بیت اللہ کا طواف کیا ہے۔ آپﷺ نے مدینہ میں قیام کے دوران ہی اس خواب سے اپنے صحابہؓ کو مطلع کر دیا اور جب غزوۂ حدیبیہ کے سال صحابہ کرامؓ نے آپﷺ کے ساتھ مکہ کی طرف کوچ کیا تو سب کو یقین ہو گیا کہ یہ مہم آپﷺ کے خواب کی تعبیر ہے چنانچہ وہاں پہنچ کر سب کچھ ہونے کے بعد جب طرفین میں صلح پر اتفاق ہو گیا، جس میں ایک بات یہ بھی تھی کہ مسلمان اس سال واپس لوٹ جائیں، اور آئندہ سال آ کر عمرہ کریں گے، توصحابۂ کرامؓ پر یہ بات سخت گراں گزری۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 4 صفحہ 170، تاریخ الطبری: جلد 2 صفحہ 635)۔

ان میں حضرت عمر فاروقؓ جو کہ حق کے سلسلہ میں سخت گیری اور شدید موقف کے لیے مشہور تھے، آپﷺ سے وجہ پوچھنے لگے اور بار بار اسے چھیڑتے رہے، ایسی کوئی بات نہ تھی کہ سیدنا عمر فاروقؓ کو رسول اللہﷺ کی صداقت پر شک تھا یا آپﷺ کے فیصلہ پر کوئی اعتراض، بلکہ ایک بات جو ان کے دل و دماغ میں بیٹھ چکی تھی کہ مسلمانوں کا مکہ میں دخول ہو گا اور خانہ کعبہ کا طواف کریں گے، آپ اسی چیز کی تفصیل و وضاحت چاہتے تھے اور اس کوشش میں لگے رہے کہ آپﷺ کو دخول مکہ پر ابھاریں اور مدینہ واپس نہ جائیں، اس لیے کہ اسی عمل میں دین الہٰی کے لیے عزت و غلبہ اور مشرکوں کے لیے ذلت ورسوائی مخفی تھی۔ 

(الانتصار للصحب والآل: صفحہ 264)۔

امام نووی رحمۃاللہ علیہ لکھتے ہیں کہ علماء کی نظر میں سیدنا عمر فاروقؓ کا استفسار اور نبی کریم سے ہونے والی گفتگو کسی شک پر مبنی نہ تھی، بلکہ جو حقیقت حضرت فاروق اعظمؓ کی نگاہوں سے پوشیدہ تھی آپؓ اس کی وضاحت چاہتے تھے، حضرت فاروق اعظمؓ اپنی فطرت کے مطابق کفر کی تذلیل اور اسلام کے ظہور کے خواہاں تھے۔

(شرح صحیح مسلم: جلد 12 صفحہ 141)۔

اس مسئلہ میں آپﷺ نے اجتہاد سے کام لیا تھا اور اس لب و لہجہ کے پیچھے حضرت محمدﷺ کی شدتِ حق پسندی، دین اسلام کی تائیدی قوت اور ایمانی غیرت کار فرماتھی، اس کے ساتھ ہی فرمان الٰہی: فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ (سورۃ آل عمران آیت 159)

صفحہ 1 از 3