سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور امت مسلمہ - دفاعِ اہلِ…

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور امت مسلمہ

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 1 از 2

سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ جہاں نبی کریمﷺ کے پھول تھے وہیں امت مسلمہ کے بھی پھول ہیں۔ جو شخص بھی سنت نبویہ سے محبت کرنے والا اور سیرت نبویﷺ پر چلنے والا ہے، اسے سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرنا ناگزیر ہے۔ چنانچہ اہل سنت و الجماعت نبی کریمﷺ کی سنت کی اتباع میں حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتے ہیں، کیونکہ ان دونوں سے نبی کریمﷺ محبت فرماتے بھی تھے اور ان سے محبت کرنے کا حکم بھی دیتے تھے۔ یہ بات بدیہی ہے کہ جو نبی کریمﷺ کی سیرت پر عامل نہیں اور پھر حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے محبت کا دعوے دار بھی ہے، تو وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا اور اس کا گمان باطل ہے۔ نبی کریمﷺ نے میت پر رونے چلانے، نوحہ کرنے، منہ اور سر پیٹنے، گریبان چاک کرنے اور ماتم کرنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ یہ سب کچھ رب کی تقدیر پر اعتراض اور رب پر ناراضی کا اظہار ہے۔ اس میں نبی کریمﷺ کے اس ارشاد کی صریح مخالفت ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:

’’جس نے (مرنے والے کے غم میں) رخساروں کو پیٹا اور گریبان چاک کیا وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘ (صحیح البخاری: 1232 صحیح مسلم: 103 ہم میں سے نہیں: یعنی وہ ہم اہل سنت میں سے نہیں جو ہماری سیرت پر چلتا ہے۔ رخسار پیٹنا اور گریبان چاک کرنا، اسی طرح اہلِ جاہلیت مرنے والے کے بارے میں یہ کہا کرتے تھے: او ہمارے سہارے! او ہمارے رکھوالے … وغیرہ)

اور فرمایا:

’’میری امت میں چار باتیں امر جاہلیت میں سے ہیں، یہ ان کو نہ چھوڑیں گے: (1) حسب نسب پر فخر (2) نسبوں میں طعن (3) ستاروں سے بارش مانگنا (4) اور نوحہ کرنا۔‘‘

نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:

’’لوگوں میں دو باتیں ایسی ہیں جو کفر کی ہیں ، نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔‘‘ (صحیح مسلم: 67 لیکن افسوس کہ اعدائے صحابہ ان باتوں کے بالکل برعکس کرتے ہیں، جیسا کہ عصر حاضر کے نشری پروگراموں میں کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ خود شیعی روایات کے خلاف ہے۔ چنانچہ ابن بابویہ قمی ’’من لا یحضرہ الفقیہ: صفحہ 39‘‘ پر لکھتے ہیں: نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے: ’’نوحہ کرنا جاہلیت کا فعل ہے۔‘‘ اور علامہ محمد باقر مجلسی ’’بحار الانوار: جلد، 82 صفحہ 103‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’نوحہ کرنا جاہلیت کا عمل ہے۔‘‘)

نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:

’’نوحہ کرنا جاہلیت کا کام ہے، جو نوحہ کرنے والی بغیر توبہ کیے مر جاتی ہے رب تعالیٰ اس کے لیے تارکول کا ایک لباس اور جہنم کی لپٹوں کی ایک قمیص بناتے ہیں۔‘‘ (سنن ابن ماجہ: 1581 کتب شیعہ یومِ عاشوراء کے روزہ کی فضیلت کو بیان کرتی ہیں۔ چنانچہ طوسی (الاستبصار: جلد، 2 صفحہ 134) میں اور الحر العاملی (وسائل الشیعۃ: جلد، 7 صفحہ 337) میں ابو عبداللہ کے واسطے سے ان کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’محرم کی نویں اور دسویں تاریخ کا روزہ رکھو کہ یہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔‘‘ ان نصوص پر عمل کہاں ہے؟ اور حب آل بیت اب کہاں چلی گئی؟ کہ عاشوراء کے دن حب آل بیت کے نام پر ان جاہلی رسموں کا اہتمام تو کیا جاتا ہے، جن کے ارتکاب سے نبی کریمﷺ نے منع فرمایا ہے، لیکن ان نصوص پر عمل نہیں کیا جاتا، جنہیں خود شیعہ معتبر کتب بیان کرتی ہیں اور ان سب رسموں سے مقصود لوگوں کو سنت نبویہ اور آل بیت کے صحیح منہج سے ہٹانا ہے)

لیکن ہمیں اعدائے صحابہ رضی اللہ عنہم کی زندگیوں میں سنت کی شدید مخالفت اور جاہلیت کی ان باتوں پر شدید اصرار نظر آتا ہے۔ ایک مسلمان سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور آپ کے رفقاء پر ہونے والے مظالم اور ان مقدس ہستیوں کو پیش آنے والے مصائب کو یاد کرتا ہے، تو وہ وہی کہتا ہے جس کے کہنے کا اسے رب تعالیٰ نے حکم دیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْ ٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَo (البقرۃ: 156)

’’وہ لوگ کہ جب انھیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے توکہتے ہیں بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ‘‘

ان اعدائے صحابہ نے اسلام کے خلاف جنگ برپا کرنے اور سنت نبویہ کو برباد کرنے کے لیے نبی کریمﷺ کی سیرت کے خلاف چلنے کا عزم کر رکھا ہے۔ ان کے دلوں میں نبی کریمﷺ، آل بیت اطہار رضی اللہ عنہم اور ان سے محبت کرنے والے سلف صالحین ائمہ مسلمین اور اخیار و ابرار کا بغض ہے۔

جناب علی بن حسین یا محمد بن علی یا جعفر بن محمد یا موسیٰ بن جعفر یا آلِ بیت اخیار کے ائمہ میں سے کسی ایک کے بارے میں نہیں سنا گیا اور نہ کسی تاریخی روایت سے اس بات کا علم ہوتا ہے، خواہ وہ تاریخی روایت کتنی ہی ضعیف کیوں نہ ہو کہ ان حضرات میں سے کسی نے سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر سینہ کوبی کی ہو یا ماتم کیا ہو، یا چہرے پیٹے ہوں یا گریبان چاک کیے ہوں، یا ان کے عرس اور چالیسویں منائے ہوں اور ان میں زنجیر زنی کے خلافِ سنت مظاہر بھی دکھلائے ہوں؟ ہرگز بھی نہیں۔ یہ تو وہ ائمہ ہیں، جن کی اقتدا کی جاتی ہے اور ان ائمہ کی پاکیزہ ہستیاں ان بدعات و سیئات سے خالی اور پاک ہیں۔

لہٰذا جو ان کی مخالفت کرے گا دراصل وہی آل بیت کا دشمن، میراث نبوت پر حاسد اور دین محمدیﷺ کے بدلنے کے درپے ہے۔

ان حضرات نے امیر المومنین سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا دعویٰ اور اعلان کیا، لیکن عملی طور پر ان کے عقیدہ و عمل کی مخالفت کی، انہیں آزردہ کیا، ان پر بددعا کی، حتیٰ کہ ان کے قتل تک کی سازش کی۔ حیرت کی بات ہے کہ اس سب کے باوجود یہ اعدائے صحابہ آج تک آل بیت سے محبت کا دعویٰ اور ان کی سیرت کی مخالفت کرتے چلے آ رہے ہیں۔

ان لوگوں (اہل کوفہ) نے مدائن کے قریب ’’ساباط‘‘ کے مقام پر سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ کو بھی دھوکے سے قتل کرنے کی سازش کی، لیکن رب تعالیٰ نے انہیں بچا لیا۔ اسی لیے سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ نے نہایت تیزی کے ساتھ ان کے مکر و فریب کے بنے جالوں کو ادھیڑ کر رکھ دیا اور امت کی وحدت اور شیرازہ بندی کے لیے سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی اور خلافت سے دست بردار ہو کر ان کے ناپاک ارادوں کو پیوند خاک کردیا۔

صفحہ 1 از 2