نکاح متعہ کی حرمت
علی محمد الصلابینکاح متعہ کی حرمت اور اس پر سختی کے سلسلے میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کئی آثار و روایات وارد ہیں۔ آپؓ اسے زنا قرار دیتے تھے کہ اگر شادی شدہ شخص اس کا مرتکب ہو تو وہ رجم کا مستحق ہے۔ اس سلسلے میں آپؓ کی شدت کو دیکھ کر بعض لوگوں نے یہاں تک گمان کر لیا کہ ’’نکاحِ متعہ‘‘ کو حرام قرار دینے والے دراصل حضرت عمرؓ ہیں نہ کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ چنانچہ ابو نضرہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حج تمتع کا حکم دیتے تھے جب کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما اس سے منع کرتے تھے۔ میں نے اس بات کو جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: ہمارے سامنے بات ہوئی تھی ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ حج تمتع کیا تھا، پھر جب حضرت عمرؓ نے خلافت سنبھالی تو فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لیے جو چاہتا تھا اور جس طرح چاہتا تھا حلال کرتا تھا، قرآن کا نزول مکمل ہو چکا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے جس طرح حج و عمرہ پورا کرنے کا حکم دیا اسے پورا کرو، اور عورتوں سے نکاح متعہ کرنے سے دور رہتے ہوئے ہمیشگی کی شادی کرو۔ اگر کسی آدمی نے کسی عورت سے متعینہ مدت کے لیے نکاح یعنی نکاح متعہ کیا اور پکڑا گیا تو میں ضرور بالضرور اسے سنگسار کروں گا۔
(صحیح مسلم: الحج: حدیث1217)
پس اس اثر سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد نبویﷺ میں متعہ جائز تھا اور جس نے اسے حرام قرار دیا وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں۔ مزید برآں صحیح مسلم اور مصنف عبدالرزاق میں اور کئی آثار ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد نبویﷺ اور عہد صدیقی میں متعہ حلال تھا اور جس نے اسے سب سے پہلے حرام قرار دیا وہ امیر المؤمنین عمر فاروقؓ ہیں، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ نکاح متعہ کو حرام قرار دینے والے درحقیقت اللہ تعالیٰ کے رسولﷺ ہیں اور جو صحابہ نکاح متعہ کے جواز کے قائل تھے انہیں اس کی قطعی ممانعت کا نبوی فرمان نہیں پہنچا تھا اسی طرح متاخرین میں سے ابو ہلال عسکری (الأوائل: جلد 1 صفحہ 238، 239) اور رفیق العظم (أشہر مشاہیر الإسلام: جلد 2 صفحہ 432۔ القضاء فی عہد عمر بن الخطاب: جلد 2 صفحہ 756) جیسے لوگوں کا بلا کسی شرعی دلیل کے یہ کہنا کہ ’’نکاحِ متعہ‘‘ کو حرام قرار دینے والے پہلے فرد سیدنا عمر بن خطابؓ ہیں، سراسر غلطی اور ادلۂ شرعیہ سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔ ’’نکاح متعہ‘‘ کی حرمت پر سختی سے کاربند ہونے کے لیے حضرت عمر فاروقؓ کے سامنے جو احادیث نبویہﷺ بطور دلیل تھیں ان میں سے چند ایک کو یہاں ذکر کیا جا رہا ہے، ان احادیث سے یہ بات بھی ثابت ہو رہی ہے کہ اسے حرام کرنے والے اللہ کے رسولﷺ ہیں نہ کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ۔
1۔ امام مسلمؒ نے اپنی سند سے مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: عام اوطاس
(اوطاس‘‘طائف کی ایک وادی کا نام ہے، معرکہ اوطاس اور فتح مکہ ایک ہی سال یعنی 9ھ میں پیش آیا۔ شرح النووی علی الصحیح مسلم: جلد 9 صفحہ 184) میں رسول اللہﷺ نے ہمیں تین دن ’’نکاحِ متعہ‘‘ کی اجازت دی، پھر اس سے منع کر دیا۔
(صحیح مسلم: النکاح: نکاح المتعۃ و بیان انہ ابیح ثم نسخ ثم ابیح ثم نسخ واستقر تحریمہ الی یوم القیامۃ: جلد 2 صفحہ 1033، رقم الحدیث: جلد 18 صفحہ 1405)
2۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی سند سے سبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسولﷺ نے ہمیں نکاحِ متعہ کی اجازت دی، تو میں اور میرا ایک ساتھی بنو عامر کی ایک عورت کے پاس گئے، وہ گویا لمبی گردن والی جوان اونٹنی تھی یعنی حسن اور جسمانی ساخت میں مکمل تھی ہم نے نکاح متعہ کے لیے اس سے پیش کش کی۔ اس نے کہا: تم کیا دو گے؟ میں نے کہا: اپنی چادر اور میرے ساتھی نے کہا: اپنی چادر، میرے ساتھی کی چادر مجھ سے بہتر تھی اور میں اس سے زیادہ نوجوان تھا۔ (مسلم کی دوسری روایت میں ہے کہ وہ ساتھی تھوڑا بدشکل بھی تھا۔) جب وہ میرے ساتھی کی چادر دیکھتی تو وہ اسے لبھاتا اور جب میری طرف دیکھتی تو میں اسے لبھاتا۔ پھر اس نے کہا: تم اور تمہاری چادر میرے لیے کافی ہے۔ چنانچہ میں تین دن اس کے ساتھ رہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا: مَنْ کَانَ عِنْدَہٗ شَیْئٌ مِنْ ہٰذِہِ النِّسَائِ الَّتِیْ یَتَمَنَّعُ فَلْیُخَلِّ سَبِیْلَہَا۔
(صحیح مسلم مع النووی: جلد 9 صفحہ 184، 185)
ترجمہ:’’جس کے پاس نکاح متعہ کی کوئی عورت ہو وہ اسے چھوڑ دے۔‘‘
3: امام مسلمؒ نے اپنی ہی سند سے سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے تو آپﷺ نے فرمایا:
یَااَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ قَدْ کُنْتُ اَذِنْتُ لَکُمْ فِی الْاِسْتَمْتَاعِ مِنَ النِّسَائِ وَاِنَّ اللّٰہَ قَدْ حَرَّمَ ذٰلِکَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَمَنْ کَانَ عِنْدَہٗ شَیْئٌ فَلْیُخَلِّ سَبِیْلَہٗ وَلَا تَأْخُذُوْا مِمَّا آتَیْتُمُوْہُنَّ شَیْئًا
(صحیح مسلم: النکاح: حدیث: جلد 21 صفحہ 1406)
ترجمہ:’’اے لوگو! میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی تھی، لیکن اب بے شک اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت تک کے لیے حرام کر دیا ہے۔ لہٰذا جس کے پاس اس طرح کی کوئی عورت ہو تو اسے چاہیے کہ چھوڑ دے اور جو کچھ تم نے ان کو عوض میں دے دیا ہے اسے واپس نہ لو۔‘‘
4۔ امام مسلمؒ نے اپنی سند سے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں سنا کہ وہ عورتوں سے متعہ کرنے کے بارے میں نرم رویہ اپناتے ہیں، تو ان سے کہا: اے ابن عباس! اس سے باز آ جاؤ، رسول اللہﷺ نے غزوۂ خیبر کے موقع پر اس سے اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔
(صحیح مسلم: النکاح: جلد 2 صفحہ 1027، حدیث: جلد 3 صفحہ 1407)
خلاصۂ کلام یہ کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے من مانے طریقے سے نکاح متعہ کو حرام نہیں قرار دیا تھا، بلکہ نبیﷺ کی سنت کی پیروی کی تھی، اس لیے کہ رسول اللہﷺ نے 8ھ فتح مکہ کے موقع پر اسے ہمیشہ کے لیے حرام قرار دیا۔ دراصل 7ھ میں اسے غزوۂ خیبر کے موقع پر آپﷺ نے حرام قرار دیا تھا، لیکن فتح مکہ کے موقع پر پندرہ دنوں کے لیے اس کی دوبارہ اجازت دی تھی اور اس کے بعد ہمیشہ کے لیے اسے حرام قرار دے دیا۔
(القضاء فی عہد عمر بن الخطاب: جلد 2 صفحہ 756)