مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں امت کا عقیدہ اور عمل -…

مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں امت کا عقیدہ اور عمل

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 1 از 7

مشاجرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں امت کا عقیدہ اور عمل

لفظ ’’مشاجرہ‘‘ شجر سے مشتق ہے جس کے اصل معنیٰ تنے دار درخت کے ہیں جس کی شاخیں اطراف میں پھیلتی ہیں باہمی اختلافات ونزاع کو اسی مناسبت سے مشاجرہ کہا جاتا ہے کہ درخت کی شاخیں بھی ایک دوسری سے ٹکراتی اور ایک دوسرے کی طرف بڑھتی ہیں۔ حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان جو اختلافات پیش آئے اور کھلی جنگوں تک کی نوبت پہنچ گئی، علماءِ امت نے ان کی باہمی حروب اور اختلافات کو جنگ و جدال سے تعبیر نہیں کیا بلکہ ازروئے ادب ’’مشاجرہ‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے کیونکہ درخت کی شاخوں کا ایک دوسرے میں گھسنا اور ٹکرانا مجموعی حیثیت سے کوئی عیب نہیں بلکہ درخت کی زینت اور کمال ہے۔

ایک سوال اور جواب:

اسلام میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا درجہ اور مقام جو اوپر قرآن و سنت کی نصوص اور اجماعِ امت اور اکابر علماء کی تصریحات سے ثابت ہو چکا ہے اس کے بعد ایک قدرتی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سب کے سب واجب التعظیم اور عدل و ثقہ و متقی و پرہیزگار ہیں تو اگر ان کے آپس میں کسی مسئلہ میں اختلاف پیش آ جائے تو ہمارے لیے طریق کار کیا ہونا چاہیئے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ دو متضاد اقوال میں دونوں کو صحیح سمجھ کر دونوں ہی کو معمول نہیں بنایا جا سکتا۔ عمل کرنے کے لیے کسی ایک کو اختیار کرنا دوسرے کو چھوڑنا لازم ہے تو اس ترک و اختیار کا معیار کیا ہونا چاہیئے۔ نیز اس میں دونوں طرف کے بزرگوں کا ادب و احترام اور تعظیم کیسے قائم رہے گی جب کہ ایک کے قول کو مرجوح قرار دے کر چھوڑا جائے گا۔

خصوصاً یہ سوال ان معاملات میں زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جن میں ان حضرات کا اختلاف باہمی جنگ و خونریزی تک پہنچ گیا۔ ان میں ظاہر ہے کہ کوئی ایک فریق حق پر ہے، دوسرا خطا پر، اس خطا و صواب کے معاملے کو طے کرنا عمل و عقیدہ کے لیے ضروری ہے مگر اس صورت میں دونوں فریق کی یکساں تعظیم و احترام کیسے قائم رکھا جاسکتا ہے؟ جس کو خطا پر قرار دیا جائے اس کی تنقیص ایک لازمی امر ہے۔ 

جواب: یہ ہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ دو مختلف اقوال میں سے ایک کو حق یا راجح اور دوسرے کو خطا یا مرجوح قرار دینے میں کسی ایک فریق کی تنقیص لازم ہے۔ اسلافِ اُمت نے ان دونوں کاموں کو اس طرح جمع کیا ہے کہ عمل اور عقیدہ کے لیے کسی ایک فریق کے قول کو شریعت کے مسلمہ اصولِ اجتہاد کے مطابق اختیار اور دوسرے کو ترک کیا لیکن جس کے قول کو ترک کیا ہے اس کی ذات اور شخصیت کے متعلق کوئی ایک جملہ بھی ایسا نہیں کہا جس سے ان کی تنقیص ہوتی ہو۔ خصوصاً مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں تو جس طرح امت کا اس پر اجماع ہے کہ دونوں فریق کی تعظیم واجب اور دونوں فریق میں سے کسی کو برا کہنا ناجائز ہے، اسی طرح اس پر بھی اجماع ہے کہ جنگِ جمل میں سیدنا علیؓ حق پر تھے ان کا مقابلہ کرنے والے خطا پر، اسی طرح جنگِ صفین میں سیدنا علیؓ حق پر تھے اور ان کے مقابل سیدنا معاویہؓ اور ان کے اصحاب خطا پر البتہ ان کی خطائوں کو اجتہادی خطا قرار دیا جو شرعاً گناہ نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہو؛ بلکہ اصولِ اجتہاد کے مطابق اپنی کوشش صرف کرنے کے بعد بھی اگر ان سے خطا ہوگئی تو ایسے خطا کرنے والے بھی ثواب سے محروم نہیں ہوتے ایک اجر ان کو بھی ملتا ہے۔

باجماعِ امت ان حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس اختلاف کو بھی اسی طرح کا اجتہادی اختلاف قرار دیا گیا ہے جس سے کسی فریق کے حضرات کی شخصیتیں مجروح نہیں ہوتیں۔

اس طرح ایک طرف خطا و صواب کو بھی واضح کر دیا گیا، دوسری طرف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقام اور درجہ کا پورا احترام بھی ملحوظ رکھا گیا اور مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں کف لسان اور سکوت کو اسلم قرار دے کر اس کی تاکید کی گئی کہ بلاوجہ ان روایات و حکایات میں خوض کرنا جائز نہیں جو باہمی جنگ کے دوران ایک دوسرے کے متعلق نقل کی گئی ہیں۔

ملاحظہ ہوں مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں سلف صالحین کے اقوال ذیل:

تفسیر قرطبی سورۃ الحجرات میں آیت وإن طائفتان من المؤمنین اقتتلوا کے تحت مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر سلفِ صالحین کے اقوال کے ساتھ بہترین تحقیق فرمائی ہے جو انہیں کی طویل عبارت میں لکھی جاتی ہے۔

صفحہ 1 از 7