مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے معاملہ میں امت کا عقیدہ اور…

مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے معاملہ میں امت کا عقیدہ اور عمل

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 7

مشاجراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے معاملہ میں امت کا عقیدہ اور عمل

لفظ ’’مشاجرہ‘‘ شجر سے مشتق ہے جس کے اصل معنی تنے دار درخت کے ہیں جس کی شاخیں اطراف میں پھیلتی ہیں باہمی اختلافات و نزاع کو اسی مناسبت سے مشاجرہ کہاجاتا ہے کہ درخت کی شاخیں بھی ایک دوسری سے ٹکراتی اور ایک دوسرے کی طرف بڑھتی ہیں۔ حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان جو اختلافات پیش آئے اور کھلی جنگوں تک کی نوبت پہنچ گئی، علماء امت نے ان کی باہمی حروب اور اختلافات کو جنگ و جدال سے تعبیر نہیں کیا بلکہ ازروئے ادب ’’مشاجرہ‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے؛ کیونکہ درخت کی شاخوں کا ایک دوسرے میں گھسنا اور ٹکرانا مجموعی حیثیت سے کوئی عیب نہیں؛ بلکہ درخت کی زینت اور کمال ہے۔
ایک سوال اور جواب:
اسلام میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا درجہ اور مقام جو اوپر قرآن و سنت کی نصوص اور اجماعِ امت اور اکابر علماء کی تصریحات سے ثابت ہو چکا ہے اس کے بعد ایک قدرتی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب کے سب واجب التعظیم اورعدل و ثقہ و متقی و پرہیزگار ہیں تو اگر ان کے آپس میں کسی مسئلہ میں اختلاف پیش آ جائے تو ہمارے لیے طریق کار کیا ہونا چاہیے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ دو متضاد اقوال میں دونوں کو صحیح سمجھ کر دونوں ہی کو معمول نہیں بنایا جا سکتا۔ عمل کرنے کے لیے کسی ایک کو اختیار کرنا دوسرے کو چھوڑنا لازم ہے تو اس ترک و اختیار کا معیار کیا ہونا چاہیے۔ نیز اس میں دونوں طرف کے بزرگوں کا ادب و احترام اور تعظیم کیسے قائم رہے گی؛ جب کہ ایک کے قول کو مرجوح قرار دے کر چھوڑا جائے گا۔
خصوصاً یہ سوال ان معاملات میں زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جن میں ان حضرات کا اختلاف باہمی جنگ و خون ریزی تک پہنچ گیا۔ ان میں ظاہر ہے کہ کوئی ایک فریق حق پر ہے، دوسرا خطا پر، اس خطا و صواب کے معاملے کو طے کرنا عمل و عقیدہ کے لیے ضروری ہے۔ مگر اس صورت میں دونوں فریق کی یکساں تعظیم و احترام کیسے قائم رکھا جا سکتا ہے؟ جس کو خطا پر قرار دیا جائے اس کی تنقیص ایک لازمی امر ہے۔ 
جواب یہ ہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ دو مختلف اقوال میں سے ایک کو حق یا راجح اور دوسرے کو خطا یا مرجوح قرار دینے میں کسی ایک فریق کی تنقیص لازم ہے۔ اسلافِ اُمت نے ان دونوں کاموں کو اس طرح جمع کیا ہے کہ عمل اور عقیدہ کے لیے کسی ایک فریق کے قول کو شریعت کے مسلمہ اصولِ اجتہاد کے مطابق اختیار اور دوسرے کو ترک کیا۔ لیکن جس کے قول کو ترک کیا ہے اس کی ذات اور شخصیت کے متعلق کوئی ایک جملہ بھی ایسا نہیں کہا جس سے ان کی تنقیص ہوتی ہو۔ خصوصاً مشاجراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تو جس طرح امت کا اس پر اجماع ہے کہ دونوں فریق کی تعظیم واجب اور دونوں فریق میں سے کسی کو برا کہنا ناجائز ہے، اسی طرح اس پر بھی اجماع ہے کہ جنگِ جمل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے ان کا مقابلہ کرنے والے خطا پر، اسی طرح جنگِ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے اور ان کے مقابل سیدنا امیرِ معاویہؓ اور ان کے اصحابِ کرام رضی اللہ عنہم خطا پر البتہ ان کی خطاؤں کو اجتہادی خطا قرار دیا جو شرعاً گناہ نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہو۔ بلکہ اصولِ اجتہاد کے مطابق اپنی کوشش صرف کرنے کے بعد بھی اگر ان سے خطا ہو گئی تو ایسے خطا کرنے والے بھی ثواب سے محروم نہیں ہوتے ایک اجر ان کو بھی ملتا ہے۔
باجماعِ امت ان حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس اختلاف کو بھی اسی طرح کا اجتہادی اختلاف قرار دیا گیا ہے جس سے کسی فریق کے حضرات کی شخصیتیں مجروح نہیں ہوتیں۔
اس طرح ایک طرف خطا و صواب کو بھی واضح کر دیا گیا، دوسری طرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مقام اور درجہ کا پورا احترام بھی ملحوظ رکھا گیا اور مشاجراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں کف لسان اور سکوت کو مسلم قرار دے کر اس کی تاکید کی گئی کہ بلا وجہ ان روایات وحکایات میں خوض کرنا جائز نہیں جو باہمی جنگ کے دوران ایک دوسرے کے متعلق نقل کی گئی ہیں۔ ملاحظہ ہوں مشاجراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں سلف صالحین کے اقوال ذیل:
تفسیرِ قرطبی سورہ حجرات میں آیت وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا کے تحت مشاجراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر سلف صالحین کے اقوال کے ساتھ بہترین تحقیق فرمائی ہے جو انہیں کی طویل عبارت میں لکھی جاتی ہے۔
صفحہ 1 از 7