کیا سونے کے نصاب کو زکوٰة کا معیار قرار دیا جا سکتا ہے؟ -…

کیا سونے کے نصاب کو زکوٰة کا معیار قرار دیا جا سکتا ہے؟

  دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

صفحہ 1 از 3

کیا سونے کے نصاب کو زکوٰة کا معیار قرار دیا جا سکتا ہے؟

دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

سوال نمبر:172023

سوال: زکوٰة کا نصاب عموماً چھ سو بارہ گرام چاندی یا اس کی مالیت بتایا جاتا ہے، یہ نصاب موجودہ زمانے کے اعتبار سے بہت کم معلوم ہوتا ہے، عموماً بیوہ عورتوں کے پاس کچھ زیورات سونے چاندی کے ہوتے ہی ہیں جن کی مجموعی مالیت چاندی کے نصاب کو پہنچ جاتی ہے،دوسری طرف بعض علماء کا خیال ہے کہ صرف سونے کے نصاب کو زکوٰۃ کے لیے معیار بنانا چاہیے، چاندی کا نصاب نہیں، اس سلسلے میں علمائے دارالافتاء دیوبند کا کیا مؤقف ہے، اگر تفصیلی جواب مرحمت فرمائیں تو عین کرم ہوگا۔ 

جواب نمبر: 172023

بسم الله الرحمٰن الرحيم

شریعت نے سونے، چاندی میں سے کوئی نصاب بہ طور معیار متعین نہیں کیا ہے اور اب بھی بعض صورتوں میں سونے کا نصاب ہی معتبر ہوتا ہے، البتہ احوال زمانہ کے اختلاف کے نتیجہ میں اصول اور دلائل شرع کی بنیاد پر وجوبِ زکوٰة کی اکثر صورتوں میں چاندی کا نصاب معتبر ہوتا ہے اور چونکہ چاندی، سونا ہر ایک کا نصاب شریعت کی طرف از خود متعین ہے اور کسی ایک کو اپنی طرف سے معیار قرار دینے میں چاندی کے نصاب کا کالعدم ہونا لازم آتا ہے اور منصوص چیزوں میں تبدیلی جائز نہیں اس لیے جو علماء وجوبِ زکوٰة کی تمام صورتوں میں سونے کے نصاب کو معیار قرار دینے کی رائے رکھتے ہیں، ان کی رائے صحیح نہیں دار الافتاء دار العلوم دیوبند اور اکابر علمائے دیوبند کا متفقہ مؤقف یہی ہے کہ جن صورتوں میں چاندی کا نصاب معتبر ہوتا ہے، ان میں ہم اپنی طرف سے زکوٰة ساقط کرنے کے لیے سونے کے نصاب کو معیار قرار نہیں دے سکتے، مسئلہ کی مزید تشریح کے لیے عرض ہے

شریعت میں سات قسم کے اموال میں زکوٰة واجب ہوتی ہے اور ان میں سے اکثر کا نصاب مختلف ہے

پہلی قسم: اونٹ،

دوسری قسم: گائے بیل(اسی حکم میں بھینس ہے)،

تیسری قسم: بکرا بکری،

چوتھی قسم: سونا،

پانچویں قسم: چاندی،

چھٹی قسم: مالِ تجارت،

ساتویں قسم: کرنسی ان میں سے پہلی تین قسم کے اموال کا نصاب بھی الگ ہے اور ہر ایک مستقل ہے، کسی کا دوسرے کے ساتھ ضم نہیں ہوتا، اسی طرح ان میں سے کسی کا سونا، چاندی وغیرہ کے ساتھ بھی ضم نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کا آپس میں کسی کے ساتھ ضم ہوتا ہے۔

اور سونا و چاندی دونوں کا نصاب تو الگ الگ ہے، البتہ ان کا آپس میں ضم ہوتا ہے، اور یہ ائمہ احناف کے نزدیک متفق علیہ ہے ، البتہ امام صاحب ضم بالقیمہ کے قائل ہیں، جبکہ صاحبین ضم بالاجزاء کے، اور اس سلسلہ میں دلائل کی روشنی میں راجح و مفتی بہ قول امام ابو حنیفہؒ کا ہے، صاحبین کا قول مرجوح و غیر مفتی بہ ہے جیسا کہ مختلف فقہائے احناف نے صراحت فرمائی ہے۔

اور دونوں میں ضم کا حکم اس وجہ سے ہے کہ دونوں ثمنیت(قیمت)میں متحد ہیں۔

اور مالِ تجارت کا شریعت میں کوئی مستقل نصاب نہیں ہے، بلکہ مالِ تجارت، سونا اور چاندی تینوں، مال نامی ہونے میں متفق ہیں، اگرچہ سونا، چاندی خلقتاً و وضعاً نامی ہیں اور مالِ تجارت جعلاً، اس لیے مالِ تجارت سونا یا چاندی میں سے کسی کے نصاب کو پہنچ جائے، زکوٰة واجب ہوگی اور چونکہ مالِ تجارت کا ان دونوں کے ساتھ الحاق صفت نمو کی وجہ سے ہے اور صفت نمو دونوں میں ہے، اس لیے نصاب اور مقدار زکوٰة میں سونا یا چاندی کے نصاب میں سے کوئی ایک لازمی طور پر متعین نہ ہوگا، بلکہ جس کسی سے بھی نصاب مکمل ہو جائے گا، زکوٰة واجب ہوگی، اس میں ائمہ احناف میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے اور مالِ تجارت کی زکوٰة میں لا علی التعیین سونا یا چاندی کے نصاب کی مالیت کا اعتبار ہوتا ہے، خواہ آدمی کے پاس مالِ تجارت کے ساتھ حقیقت میں سونا یا چاندی کا کچھ نصاب ہو یا نہ ہو۔

اور مالِ تجارت کی تقویم کے مسئلہ میں فقہ حنفی میں جو چار اقوال کی شکل میں اختلاف ہے، وہ اس صورت میں جب ہر تقویم میں مالِ تجارت نصاب کے بہ قدر ہو، اور اگر چاندی سے قیمت لگانے میں مالِ تجارت نصاب کو پہنچتا ہے اور سونے سے قیمت لگانے میں نصاب کو نہیں پہنچتا تو فقہائے احناف کی صراحت کے مطابق اس صورت میں ائمہ احناف کے نزدیک بالاتفاق مالِ تجارت کی قیمت چاندی سے لگانا ضروری ہوگا، سونے سے اس کی قیمت لگا کر وجوبِ زکوٰة سے فرار اختیار کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔

یہ وضاحت اس لیے کی گئی کہ بعض حضرات کو اختلاف کو صحیح طور پر نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی فہمی ہوئی ہے اور انہوں نے یہ سمجھا ہے کہ تقویم کا اختلاف نفس وجوبِ زکوٰة میں بھی ہے، جبکہ ایسا سمجھنا غلط ہے، خود اختلاف ذکر کرنے والے فقہائے احناف نے بھی اس کی وضاحت فرمائی ہے۔

چنانچہ مبسوط سرخسی میں مسئلہ تقویم میں روایة النوادر کی دلیل کے ذیل میں فرماتے ہیں:

ألا تری أنہ لوکان یتقومہ بأحد النقدین یتم النصاب مبسوط سرخسی وبالآخر لا یتم فإنہ یقوم بما یتم بہ النصاب لمنفعة الفقراء

(المبسوط للسرخسي، جلد 2 صفحہ191،ط، دار المعرفة بیروت)

شرح مختصر الطحاوی للجصاص(جلد، 2 صفحہ، 206) میں بھی ایسا ہی ہے:

چنانچہ امام جصاصؒ سونے چاندی کو آپس میں ایک دوسرے کو ضم کرنے کے مسئلہ میں ضم بالقیمة کی دلیل بہ طور استشہاد پیش فرماتے ہیں سامانِ تجارت کی قیمت دراہم و دنانیر میں اس نقد سے لگائی جائے گی جس سے نصاب مکمل ہو، اس سے نہیں لگائی جائے گی، جس سے نصاب مکمل نہ ہو مساکین کی رعایت میں کیونکہ وہ شخص اس قدر مال سے غنی ہے۔ 

ألا تری أن عروض التجارة تقوم علی ھذا الاعتبار فإن قومت بالدراھم کمل النصاب وإن قومت بالدنانیر لم یکمل فقوموھا بالدراھم حظاً للمساکین إذ کان غنیاً بھذا القدر من المال۔

عنایہ شرح ہدایہ میں بہ حوالہ نہایہ اس مسئلہ کو متفق علیہ نقل کیا گیا ہے چنانچہ فرماتے ہیں:

ألاتری أنہ إن کان یقومہا بأحد النقدین یتم النصاب وبالآخر لایتم یقوم بمایتم بالاتفاق احتیاطاً لحق الفقراء فکذلک ھذا کذا فی النھایة

(العنایة شرح الھدایة،مع الفتح جلد، 1صفحہ 527ط:مصر)

الجوہرة النیرة میں اس مسئلہ کو اجماعی قرار دیا گیا ہے، چنانچہ فرماتے ہیں:

والخلاف فیما اذاکانت تبلغ بکلا النقدین نصاباً،أما إذا بلغت بأحدھما قومہا بالبالغ إجماعاً

(الجوھرة النیرة: جلد، 1 صفحہ، 478)

صفحہ 1 از 3