اطاعت نبوی کا وجوب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنن کا التزام اور ان پر کاربند رہنا
علی محمد محمد الصلابی2: اطاعت نبوی کا وجوب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنن کا التزام اور ان پر کاربند رہنا
امیر المؤمنین علیؓ نے اطاعت رسولﷺ کے وجوب کی فضا میں پرورش پائی اور اس آیت کو غور سے یاد کیا اور سمجھا:
مَنۡ يُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰهَ وَمَنۡ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا۞ (سورۃ النساء آیت 80)
’’جو رسول کی فرماں برداری کرے تو بےشک اس نے اللہ کی فرماں برداری کی۔‘‘
اس آیت میں اللہ نے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کو ایک قرار دیا ہے اور رسول کی اطاعت کو اپنی اطاعت کے ساتھ واجب ٹھہرایا، گویا بندوں کو یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ کی اطاعت اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک کہ آپﷺ کی اطاعت نہ کی جائے اس سلسلہ میں بے شمار آیات وارد ہیں۔
(حقوق النبی علی امتہ: جلد 1 صفحہ 174)۔
امیر المؤمنین علیؓ نے رسول اللہﷺ سے تربیت پائی، آپﷺ کی اطاعت اور سنتوں پر عمل کے وجوب کو سیکھا اور اس بات پر عمل پیرا رہے کہ اللہ کی طرف سے رسولﷺ جو کچھ لے کر آئے اس کی اقتداء کرتے رہیں۔ اتباع نبوی سے متعلق نبی کریمﷺ سے بے شمار احادیث وارد ہیں، جو امت کی اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہیں کہ لوگ جب تک آپ کے بتائے ہوئے راستہ پر چلتے رہیں گے، آپﷺ کی اتباع کرتے رہیں گے اور آپﷺ کی سنن سے روشنی حاصل کرتے رہیں گے تب تک دنیا و آخرت کی سعادت ان کے حصہ میں آتی رہے گی اور اللہ کے فضل سے وہ کامیاب رہیں گے۔
اس موضوع سے متعلق بےشمار روایات اس اعتبار سے منفرد خصوصیات کی حامل ہیں کہ ان کی عبارتوں میں تنوع اور اسلوب میں انفرادیت ہے اور وہ تمثیلات نبوی پر بھی مشتمل ہیں، پس بلاشبہ یہ خصوصیات اطاعتِ نبوی کی اہمیت پر زور دیتی ہیں اور اس کی حقیقت کو واضح کرتی ہیں۔
مزید برآں وضاحت بھی ایسی کہ اس میں کسی تاویل یا تحریف کرنے والے کو اپنی من مانی تاویل اور فاسد رائے کو داخل کرنے کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے، نیز واضح رہے کہ اگرچہ ان احادیث کی عبارتوں میں تنوع ہے، اور انھیں متعدد اسلوب میں بیان کیا گیا ہے، لیکن مضمون اور مشمولات کے اعتبار سے تمام روایات متحد ہیں، اور سب کا خلاصہ یہ ہے کہ آپﷺ کی اطاعت اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کا اتباع واجب ہے، آپﷺ کی مخالفت اور نافرمانی حرام ہے اور اس کا انجام بہت برا ہے۔
(حقوق النبی علی أمتہ: جلد 1 صفحہ 86)۔
انھیں احادیث میں سے ایک یہ ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:
کُلُّ أُمَّتِيْ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ إِلَّا مَنْ أَبَی۔
’’میری امت کے سارے لوگ جنت میں داخل ہوں گے، سوائے اس کے جس نے (جنت میں جانے سے) انکار کیا۔‘‘
صحابہ نے عرض کیا: کون ہے (وہ بدبخت)جو انکار کرتا ہے، آپ نے فرمایا:
مَنْ أَطَاعَنِيْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَ مَنْ عَصَانِيْ فَقَدْ أَبَی۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 7280)۔
’’جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے میرا انکار کیا۔‘‘
پس رسول اللہﷺ کی اطاعت کا مطلب ہے، آپ کی سنت کی پیروی کرنا، دین الہٰی میں آپﷺ کی سنتوں کے خلاف کسی کی کوئی بات ہو تو اس کا انکار کر دینا اور سنتوں پر عمل نہ کرنے کے لیے کمزور تاویلات اور من گھڑت و بےسروپا دلائل کا سہارا نہ لینا۔ (صحیح ابن حبان: جلد 1 صفحہ 153)۔
سیدنا علیؓ ان صحابہ کرام میں سے ایک تھے جو اطاعتِ نبویﷺ کے بہت بڑے حریص تھے، چنانچہ آپﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’کسی کے قول کی وجہ سے میں سنتِ نبوی کو ہرگز نہیں چھوڑ سکتا۔‘‘ (فتح الباری: جلد 3 صفحہ 42)۔
اور فرمایا: ’’سنو! میں نبی نہیں ہوں اور نہ ہی میری طرف وحی نازل کی گئی ہے، لیکن میں اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کی کتاب اور رسول اللہﷺ کی سنت پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔‘‘
آپ سنت نبویﷺ پر عمل پیرا ہونے اور اس کی طرف دعوت دینے والے بےمثل نمونہ تھے۔
(الشفاء: القاضی عیاض: جلد 2 صفحہ 556)۔
سیدناحسین علیؓ کے تمام تر افعال اطاعت نبویﷺ کی اہمیت اور اتباعِ سنت کی عظمت کے اسی واضح تصور میں ڈوبے ہوتے تھے، آپ سنتِ نبویﷺ کا خاص اہتمام کرتے اور اسے قبول کرنے اور روایت کرنے میں تحقیق و تنقیح اور جستجو کرتے، سیدنا علیؓ کا قول ہے کہ ’’جب میں تمھیں اللہ کے رسول کی کوئی حدیث بتاؤں تو آسمان سے پھینک دیا جانا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ آپﷺ کی طرف جھوٹ بات منسوب کروں۔‘‘ (فتح الباری: جلد 6 صفحہ 158)۔
اور فرمایا: ’’جب میں نے اللہ کے رسولﷺ سے بذات خود کوئی حدیث سنی تو اللہ تعالیٰ نے جتنا چاہا مجھے اس سے فائدہ پہنچایا اور جب کسی شخص نے آپﷺ کی حدیث مجھ سے بیان کی تو میں نے اس سے قسم لی، اگر وہ قسم اُٹھا لیتا تو میں اس کی روایت کو مان لیتا۔‘‘
(سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر 1395)۔
حضرت علیؓ ان تمام اُمور سے برسرِپیکار رہتے، جو اتباعِ نبوی کے خلاف ہوں، چنانچہ ایک مرتبہ آپ نے فرمایا: ’’اگر دین کا دار و مدار عقل اور رائے پر ہوتا تو موزے کے نچلے حصہ کا مسح کرنا اوپر کے حصہ پر مسح کرنے سے بہتر ہوتا۔‘‘ (ابو داؤد: 162)۔