اذان میں حی علی خیر العمل کے الفاظ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

اذان میں حی علی خیر العمل کے الفاظ

  محمد عثمان رشید

صفحہ 1 از 3

اذان میں حی علی خیر العمل کے الفاظ

 اس کا اضافہ سیدنا عبدالله ابنِ عمر رضی الله عنہ اور سیدنا زین عابدینؒ علی بن حسینؓ نے کیا
مصنف ابنِ ابی شیبہؒ کی روایت ہے:
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَمُسْلِمِ بْنِ أَبِی مَرْيَمَ، أَنَّ عَلِی بْنَ حُسَيْنٍ، كَانَ يُؤَذِّنُ، فَإِذَا بَلَغَ حَیَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: حَیَّ عَلَى خَيْرِ الْعَمَلِ، وَيَقُولُ: هُوَ الْأَذَانُ الْأَوَّلُ
ترجمہ: سیدنا جعفرؒ اپنے والد اور مسلم بن ابی مریم سے وہ سیدنا علی بن حسینؓ کہ انہوں نے اذان دی پس جب حَیَّ علی الفلاح پر پہنچے تو کہا حی علی خیر العمل اور کہا کہ یہ اذان اول ہے۔
اسی کتاب میں ہے
حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِی أَذَانِهِ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، وَ رُبَّمَا قَالَ: حَیَّ عَلَى خَيْرِ الْعَمَلِ
سیدنا ابنِ عمرؓ جب اذان دیتے تو کہتے
الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ
اور کبھی کہتے
حَیَّ عَلَى خَيْرِ الْعَمَلِ
لیکن تواتر سے یہ الفاظ نقل نہیں ہوئے صرف سیدنا ابنِ عمرؓ اور سیدنا علی بن حسین کے لیے ملتا ہے کہ انہوں نے ان الفاظ کو اذان میں ادا کیا لیکن وہ کہتے ہیں یہ اذان اول ہے۔ اس کو بدعت نہیں کہنا چاہیے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بدعات کی شروعات نہیں ہوئیں
بیہقی سنن الکبریٰ میں کہتے ہیں
قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذِهِ اللفظةُ لَمْ تَثْبُتْ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا عَلَّمَ بِلَالًا وَأَبَا مَحْذُورَةَ وَنَحْنُ نَكْرَهُ الزِّيَادَةَ فِيهِ
ترجمہ: یہ الفاظ نبی کریمﷺ سےثابت نہیں جیسا کہ سیدنا بلالؓ اور سیدنا ابو مَحْذُورَةَؓ نے سکھائے اور ہم اس زیادت کا انکار کریں گے۔
علمِ حدیث کا اصول ہے کہ بعض اوقات زیادت ثقہ بھی قبول کی جاتی ہے لہٰذا بیہقی کا یہ کہنا مناسب نہیں صاف بات یہ ہے کہ یہ الفاظ تواتر سے نہیں ملے لہٰذا ان کو نہیں کہا جاتا
"عن ابی محذوره رضی الله عنه قال کنت غلاما فقال النبی صلی الله علیه وسلم: اجعل فی آخر اذانک حی علی خیر العمل."
علامه ذہبی ابوبکر احمد بن محمد بن السری بن ابی دارم الکوفی الرفضی کے ترجمہ
"عن الحمانی عن ابی بکر بن عیاش عن عبدالعزیز بن رفیع عن ابی محذوره رضی الله عنه قال کنت غلاما فقال النبیﷺ اجعل فی آخر اذانک حی علی خیر العمل."
(میزان الاعتدال: جلد، 1 صفحہ، 139)
اس کے مقابلے میں ایک صحیح روایت جس میں
"الصلاۃ خیر من النوم" کے الفاظ ذکر کیے ہیں
(التلخیص: جلد، 1 صفحہ، 363 معجم الکبیر: جلد، 7 صفحہ، 209 دارِقطنی فی السنن: جلد، 1 صفحہ، 237)
حی علی خیر العمل کا جو اضافہ ذہبی نے ذکر کیا ہے تو اس کو ابوبکر بن ابی دارم نے وضع کیا ہے۔
اسکے متعلق ائمہ محدثین کی تصراحات ملاحظہ فرمائیں:
حاکم: رافضی غیر ثقہ ابوبکر حاکم کے استاد ہیں۔
محمد بن احمد بن حماد الکوفی نے کہا ہے کہ اس نے متعدد روایات اپنے مذہب کی تائید میں وضع کی ہیں۔ اور علامہ ذہبی نے اس کو رافضی کذاب بتایا ہے۔ نیز اس کو شیخ ضال معثر کہتے ہیں۔
(میزان الاعتدال: جلد، 1 صفحہ، 139 سیر اعلام النبلاء: جلد، 15 صفحہ، 578)
اور لسان میں ابنِ حجرؒ نے اس کو کذاب خبیث اور حی علی خیر عمل کا اضافہ کرنے والا بتایا ہے۔
ایک روایت حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے جس میں حی علی خیر العمل کا ذکر ہے۔
(الکبیر للطبرانی: جلد، 1 صفحہ، 237 رقم 1071 السنن لکبریٰ للبیہقی: جلد، 1 صفحہ، 425)
اس کی سند یوں بیان ہوئی:
"عن یعقوب بن حمید بن کاسب عن عبدالرحمٰن بن سعد المؤذن عن عبدالله بن محمد بن عمار و عمار و عمر ابنی حفص بن عمر بن سعد عن ابائھم عن اجدادھم عن بلال..."
اس کی سند سخت ضعیف ہے:
1: یعقوب بن حمید بن کاسب مختلف فیہ راوی ہے اس کے بارے میں ابنِ معین کے مختلف اقوال ملتے ہیں۔
ابنِ معین نے اس کو ثقہ مامون ثقہ لیس بثقہ کذاب خبیث وغیره بتایا ہے۔
(تاریخ الدوری: جلد، 1 صفحہ، 681 الکامل جلد، 7 صفحہ، 2608 میزان: جلد، 4 صفحہ، 450 تاریخ ابنِ ابی خیثمہ جلد، 1 صفحہ، 296، 297 معرفہ الرجال ابنِ محرز جلد، 1 صفحہ، 52 ت، 20)
نسائی نے لیس بشی بتایا ہے۔
(الضعفاء: صفحہ، 245)
ابو زرعہ قلبی لا یسکن علی ابنِ کاسب
(جرح و تعدیل: جلد، 9 صفحہ، 206 نیز تہذیب الکمال: جلد، 23 صفحہ، 321)
ابوداؤد "راینا فی مسنده احادیث انکرناها فطالبناه بالاصول فدافعنا ثم اخرجھا بعد فوجدنا الاحادیث فی الاصول مغیرۃ بخط طری کنت مراسیل فاسندها وزاد فیھا"
(تہذیب لابنِ حجر: جلد، 4 صفحہ، 441 نیز الضعفاء للعقیلی: جلد، 4 صفحہ، 1550 ت، 2079)
ابو حاتم ضعیف الحدیث
(جرح و تعدیل: جلد، 9 صفحہ، 206 ت، 861)
ذہبی ضعیف.
(تلخیص المستدرک: جلد، 3 صفحہ، 196)
نیز سیر اعلام النبلاء میں حافظ محدث الکبیر لکھتے ہیں۔
ابنِ حجر صدوق ربما وهم
(تقریب: صفحہ، 7815)
بہرحال اس راوی میں حفظ کی وجہ سے کلام ہوا ہے ابنِ عدی کہتے ہیں کہ یہ کثیر روایات راوی ہے اور اس کی کثیر تعداد میں غریب روایات بھی ہیں۔
عقیلی کہتے ہیں:
لا یتابع علیه بھرحال لا باس به کما ذکر ابنِ عدی
تفصیلی ترجمہ کے لیے دیکھیں
(الکبیر للبخاری: جلد، 8 صفحہ، 401 الصغیر: جلد، 2 صفحہ، 374 الضعفاء: صفحہ، 451 جرح و تعدیل: جلد، 9 صفحہ، 206 الکامل: صفحہ، 357 الکمال: صفحہ، 1548 تذکرۃ الحفاظ: جلد، 3 صفحہ، 466، 467 العبر: جلد، 1 صفحہ، 436 میزان: جلد، 4 صفحہ، 450، 451 تہذیب للذہبی جلد، 4 صفحہ، 184 العقد الثمین: جلد، 7 صفحہ، 474 تہذیب لابنِ حجر: جلد، 11 صفحہ، 383 طبقات الحفاظ: صفحہ، 202 خلاصہ تہذیب الکمال: صفحہ، 436 شذرات الذہب جلد، 2 صفحہ، 99)
بہرحال جب اس کی غریب روایات بھی ہیں تو پھر متابع نہ ہونے کی وجہ سے کلام ہو سکتا ہے والله اعلم
اس کا دوسرا راوی عبدالرحمٰن بن سعد بن عمار بن سعد القرظ الموذن ہے جس کو ابنِ معین نے ضعیف کہا ہے۔
(تاریخ ابنِ ابی خیثمہ جلد، 2 صفحہ، 352 ت، 3334)
بخاری فیہ نظر
(تاریخ الکبیر: جلد، 5 صفحہ، 287 ت، 933)
ابو احمد الحاکم حدیثہ لیس بالقائم
(تہذیب لابنِ حجر: جلد، 2 صفحہ، 510)
صفحہ 1 از 3