سقیفہ بنی ساعدہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سقیفہ بنی ساعدہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

سقیفہ بنی ساعدہ

جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو رسول اللہﷺ کی وفات کا علم ہو گیا تو انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے، یہ دو شنبہ 12 ربیع الاوّل 11 ہجری تھا، جس روز نبی کریمﷺ کی وفات ہوئی۔ اس اجتماع میں مسئلہ خلافت پر گفتگو ہوئی۔

(التاریخ الاسلامی: جلد، 9 صفحہ، 21)

انصار، قبیلہ خزرج کے رہنما سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے گرد جمع ہو گئے، انصار کے اس اجتماع کی خبر مہاجرین کو پہنچی، وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس مسئلہ خلافت پر غور و خوض کرنے کے لیے جمع تھے کہ کون اس منصب کو سنبھالے۔

(عصر الخلافۃ الراشدۃ للعمری: صفحہ، 40)

مہاجرین نے آپس میں کہا آؤ اپنے انصار برادران کے پاس چلتے ہیں اس حق میں ان کا بھی حصہ ہے۔

(عصر الخلافۃ الراشدۃ للعمری: صفحہ، 40)

 سیدنا عمرؓ فرماتے ہیں ہم انصار کی طرف چل پڑے، جب ہم ان سے قریب پہنچے، ان میں سے دو صالح آدمیوں (عویم بن ساعدہ اور معن بن عدی) سے ملاقات ہوئی۔ ان دونوں نے انصار کے عزائم سے ان کو مطلع کیا، پھر سوال کیا:

آپ لوگ کہاں جا رہے ہیں؟

ہم نے کہا ہم اپنے ان انصاری بھائیوں کے پاس جا رہے ہیں۔

ان دونوں نے کہا ان کے پاس جانا ضروری نہیں۔ آپ لوگ خود معاملہ طے کر لیں۔

میں نے کہا واللہ ہم ضرور ان کے پاس جائیں گے۔

ہم چلے یہاں تک کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں ان کے پاس پہنچے۔ دیکھا ایک شخص کمبل میں لپٹا ہوا ہے۔

میں نے کہا یہ کون ہیں؟

لوگوں نے جواب دیا یہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہیں۔

میں نے کہا ان کو کیا ہو گیا ہے؟

لوگوں نے بتایا ان کو بخار آرہا ہے۔

ہم وہاں تھوڑی دیر بیٹھے، اتنے میں ان کے خطیب نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد اپنی بات شروع کرتے ہوئے کہا

اما بعد! ہم اللہ کے انصار اور اسلام کے لشکر ہیں، اے مہاجرین! تم ایک مختصر سی جماعت ہو، تم میں سے کچھ لوگ اٹھے اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں خلافت سے بے دخل کر دیں۔

وہ شخص خاموش ہو گیا تو میں نے گفتگو کرنا چاہی۔ میں نے اپنی بات اچھے انداز میں تیار کر لی تھی، جسے میں سیدنا ابوبکرؓ کے سامنے پیش کرنا چاہتا تھا۔ ایک حد تک میں نے مسئلہ کا احاطہ کر لیا تھا۔ لیکن جب نے میں بولنا چاہا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا ٹھہرو۔ میں نے آپؓ کو ناراض کرنا پسند نہ کیا۔ پھر سيدنا ابوبکرؓ نے گفتگو شروع کی تو وہ مجھ سے زیادہ بردبار اور باوقار تھے۔ واللہ انہوں نے کوئی بات نہیں چھوڑی جو مجھے پسند تھی اور جو میں نے اپنے جی میں تیار کر رکھی تھی۔ انہوں نے فی البدیہ اس جیسی یا اس سے بہتر بات کہی۔ آپؓ نے اپنی بات ختم کی، پھر فرمایا

میں نے آپ لوگوں سے متعلق جو باتیں کہی ہیں اس کے آپ لوگ مستحق ہیں، لیکن خلافت و امارت قریش ہی کے لیے موزوں و معروف ہے۔ حسب و نسب اور گھرانے کے اعتبار سے وہ عرب میں افضل ہیں۔ میں تمہارے لیے ان دونوں میں سے ایک کو پسند کرتا ہوں جس کو چاہو منتخب کر کے بیعت کر لو۔

پھر میرا اور حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ کا ہاتھ پکڑا اور آپؓ ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے صرف یہ بات ناپسند آئی، واللہ میری گردن مار دی جاتی، یہ اس سے بہتر و محبوب ہے کہ میں ایسے لوگوں کا امیر بنوں جس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسے لوگ ہوں۔ اِلا یہ کہ موت کے وقت کوئی ایسی بات میرے جی میں آئے جو اس وقت نہیں پائی جا رہی ہے۔

انصار میں سے ایک شخص نے کہا میری بات کافی و شافی اور قابل اعتماد ہے، ایک امیر ہم میں سے اور ایک امیر تم میں سے۔

پھر شور و شغب زیادہ ہوا، آوازیں بلند ہوئیں، مجھے اختلاف رونما ہونے کا خوف دامن گیر ہو گیا۔

میں نے کہا سیدنا ابوبکرؓ ہاتھ بڑھائیے۔

میں نے آپؓ سے بیعت کی، پھر مہاجرین اور پھر انصار نے آپؓ سے بیعت کی۔

(البخاری: الحدود 6830)

مسند احمد کی روایت میں ہے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو فرمائی، انصار سے متعلق جو کچھ قرآن میں نازل ہوا ہے اور جو کچھ رسول اللہﷺ نے ان کی شان میں بیان کیا ہے سب کچھ ذکر کیا، اور فرمایا آپ لوگ جانتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا

اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی کو اختیار کریں تو میں اس وادی میں چلوں گا جہاں انصار چلیں گے۔

اے سيدنا سعدؓ! تمہیں معلوم ہے، تم بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہﷺ فرما رہے تھے

قریش ہی خلافت و امارت کے حقدار ہیں۔ نیک لوگ ان کے نیک لوگوں کے تابع اور برے لوگ ان کے برے لوگوں کے تابع ہیں۔

یہ سن کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا آپﷺ نے سچ فرمایا۔ ہم وزراء ہیں آپ لوگ امراء ہیں۔

(مسند احمد: جلد، 1 صفحہ، 5 الخلافۃ والخلفاء البہنساوی: ۵۰ صفحہ، 50)

اہم دروس و عبر اور فوائد:

1: سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور نفوس قدسیہ کے ساتھ آپؓ کا تعامل اور لوگوں کو مطمئن اور قائل کرنے کی قدرت:

مسند احمد کی روایت سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کس طرح انصار کے نفوس پر اثر انداز ہوئے اور ان کو مطمئن کر دیا کہ جو وہ سمجھے ہیں وہی حق ہے، اور مسلمانوں کو فتنے سے بچا لیا۔ انصار سے متعلق کتاب و سنت میں جو کچھ وارد ہوا ہے اس کو بیان کر کے ان کی تعریف کی۔ مخالف کی تعریف اسلامی منہج و طریق ہے۔ اس سے مقصود مخالف کے ساتھ انصاف کرنا اور اس کے غصہ کو ٹھنڈا کرنا، اس کے اندر سے انانیت اور غرور کے عوامل و اسباب کو نکالنا ہے تا کہ وہ حق کے ظاہر ہو جانے کے بعد اپنے آپ کو حق قبول کرنے کے لیے تیار پائے۔ رسول اللہﷺ کی سنت میں اس پر دلالت کرنے والی بہت سی مثالیں ہیں۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس ذریعہ سے اس نتیجہ پر پہنچے کہ انصار کے فضائل اگرچہ بہت زیادہ ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ خلافت کے بھی زیادہ حقدار ہیں، کیونکہ نبی کریمﷺ نے اس بات کی تنصیص فرما دی ہے کہ مہاجرین قریش اس امر میں مقدم ہیں۔

(التاریخ الاسلامی: جلد، 9 صفحہ، 24)

صفحہ 1 از 3