نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ - ردِ رافضیت |…

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 4

نبی اکرم ﷺ کی نمازِ جنازہ

آج کل شیعہ حضرات کی طرف سے یہ سوال بہت کثرت سے پوچھا جاتا ہے کہ نبی کریمﷺ کا جنازہ کس نے پڑھایا تھا؟ 

اس سوال سے دراصل یہ بات ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے کہ صحابہ کرام بالخصوص صدیق وفاروق رضوان اللہ علیہم اجمعین کو معاذاللہ خلافت کے لالچ میں آپ کے جنازہ کی بھی فکر نہ تھی۔ آپﷺ کی وفات صحابہ کرامؓ کے لئے اس قدر اندوہ ناک تھی کہ بہت سے صحابہؓ کو اس کا کسی طور یقین نہ آتا تھا۔ وفات کے شدید دکھ کے پیش نظر یہ پہلو اسلامی لٹریچر میں کبھی تفصیل یا رغبت سے زیر بحث نہیں آتا. بہر طور اس الزام اور شبہ کے ازالہ کے لئے اور دفاع صحابہؓ کی غرض سے درج ذیل مضمون پیش خدمت ہے. 

نبی کریم ﷺ کی نماز جنازہ میں صحابہ کرامؓ کی شرکت اور شیعہ کا جھوٹ

پہلی روایت

حضرت ابوعسیب سے مروی ہے کہ 

انہ شھد الصلاۃ علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قالوا کیف نصلی علیہ قال ادخلو ارسالا ارسالا قال فکانوا یدخلون من ھذا الباب فیصلون علیہ ثم یخرجون من الباب الآخر

وہ نبی کریم ﷺ کی نماز جنازہ میں حاضر ہوئے تو صحابہ کرامؓ نے پوچھا کہ آپ ﷺ کی نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اس پر صحابہ کرامؓ نے (باہمی مشاورت سے) کہا : تم ٹولیوں کی شکل میں شامل ہو جاؤ۔ چنانچہ صحابہ کرامؓ ایک دروازے سے داخل ہوتے اور آپ ﷺ کی نماز جنازہ پڑھتے، پھر دوسرے دروازے سے نکل جاتے تھے۔

(مسند احمد بن حنبل، اول مسند من البصریین، حدیث ابی عسیب رضی اللہ عنہ) 

دوسری روایت

عن جعفر عن ابیہ قال لم یؤم علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم امام و کانوا یدخلون افواجا یصلون و یخرجون

جعفر اپنے والد امام باقر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺپر کسی نے امامت نہیں کرائی۔ لوگ جماعت جماعت اندر جاتے، نماز پڑھ کر واپس لوٹ جاتے تھے۔

کنز العمال ج7، ص 146، روایت نمبر18855 

تیسری روایت

عن ابن جریج عن عطاء قال بلغنا ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم حین مات ، اقبل الناس یدخلون فیصلون علیہ و یخرجون و یدخل آخرون کذلک 

ابن جریج حضرت عطاء سے روایت کرتے ہیں کہ ہم کو خبر ملی ہے کہ جب نبی ﷺ کی وفات ہو گئی ، تو لوگ داخل ہوتے اور نماز پڑھ کر نکل جاتے تھے۔ پھر یونہی دوسرے لوگ داخل ہوتے۔

(کنز العمال روایت نمبر 18850) 

چوتھی روایت

عن سعید بن المسیب قال لما توفی رسول اللہ علیہ وسلم وضع علی سریرہ فکان الناس یدخلون علیہ زمرا زمرا یصلون علیہ و یخرجون و لم یؤمھم احد و توفی یوم الاثنین و دفن یوم الثلاثاء

حضرت سعید بن المسیب سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی تو آپ کو چارپائی پر لٹایا گیا ، لوگ جماعت جماعت آپ کے پاس داخل ہو رہے تھے ، نماز پڑھتے اور نکل جاتے۔ امامت کا منصب کوئی نہ اٹھا رہا تھا۔ آپ پیر کے روز وفات فرما گئے اور منگل کے روز مدفون ہوئے۔

(کنز العمال روایت نمبر 18847) 

پانچویں راویت

عبداللہ بن محمد بن عبداللہ بن عمر بن ابی طالب اپنے والد محمد بن عبداللہ سے، اور وہ اپنے دادا عمر بن ابی طالب سے اور وہ حضرت علی سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضور ﷺ کو چارپائی پر لٹایا گیا تو حضرت علیؓ نے ارشاد فرمایا : یہ تمہارے امام ہیں، زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی، پس پھر لوگ گروہ گروہ آتے تھے اور صف بہ صف کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے۔ ان کا کوئی امام نہ تھا۔۔۔ حتٰی کہ پہلے لوگوں نے نماز پڑھی، پھر عورتوں نے اور پھر بچوں نے۔

(کنز العمال ر وایت نمبر 18794) 

چھٹی روایت

جعفر ؒ بن محمد اپنے والد امام باقر ؒ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ پر بغیر امام کے نماز پڑھی گئی۔ مسلمان آپ پر جماعت جماعت داخل ہوتے تھے اور نماز پڑھتے تھے۔ جب نماز سے فارغ ہو گئے تو حضرت عمرؓ نے فرمایا : اب جنازہ کو اس کے اہل کے پاس تنہا چھوڑ دو۔

(کنز العمال روایت نمبر 18770) 

ساتویں روایت

عمرہ بنت عبدالرحمان حضور ﷺ کی بیویوں سے روایت کرتی ہیں کہ صحابہ کرام حضور ﷺ کی وفات کے موقع پر کہنے لگے، حضور ﷺ کی قبر کیسے بنائیں؟ کیا اس کو مسجد بنا دیں؟ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا : اللہ پاک یہود و نصارٰی پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔ صحابہؓ نے پوچھا : پھر آپ کی قبر کیسی بنائیں؟ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا : ایک شخص مدینہ کا لحدی (بغلی) قبر بناتا ہے، اور ایک شخص مکہ کا شق(سیدھی) قبر بناتا ہے۔پس اے اللہ، تیرے نزدیک جو محبوب قبر ہو، اس کے بنانے والے کو مطلع کر دے۔ وہ تیرے نبیﷺ کی قبر بنا دے۔ پس ابوطلحہؓ جو لحدی قبر بناتے تھے، ان کو اطلاع ہوگئی۔ حضرت ابوبکرؓ نے ان کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے لئے قبر بنائیں۔ چنانچہ پھر آپ کو لحدی قبر میں دفن کیا گیا اور اس پر کچی اینٹیں پاٹ دی گئیں۔ 

(کنز العمال روایت نمبر 18762) 

آٹھویں روایت

حضرت عروہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی تو آپ کے صحابہؓ آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ آپ کو کہاں دفن کریں۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ آپ کو اسی جگہ دفن کر دو جہاں اللہ نے ان کی روح قبض فرمائی ہے۔ پس آپ کو بستر سمیت اس جگہ سے ہٹایا گیا اور اس کے نیچے قبر کھود کر آپ کو دفن کیا گیا۔

(کنز العمال روایت نمبر 18742) 

نویں روایت

حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ہم نے کہا

یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، من یغسلک ؟قال رجال اھل بیتی ۔۔۔ قلنا یا رسول اللہ ، فمن یدخل قبرک ؟قال رجال اھل بیتی مع ملائکۃ کثیرۃ 

یا رسول اللہ ﷺ ، آپ کو کون غسل دے گا؟ آپ نے فرمایا : میرے اہل بیت۔۔۔ ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ کو قبر میں کون داخل کرے گا؟ آپ نے فرمایا کہ میرے اہل بیت جن کے ساتھ بہت سے فرشتے ہوں گے۔ 

(حلیۃ الاولیاء، من الطبقۃ الاولی من التابعین، مرۃ بن شراحیل) 

دسویں روایت

موسی بن محمد بن ابراہیم سے مروی ہے کہ

انہ لما توفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و وضع علی سریرہ، دخل ابوبکر و عمر و معھما نفر من المھاجرین والانصار ، قدر ما یسع البیت و قالا : السلام علیک ایھاالنبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، وسلم المھاجرون والانصار کما سلم ابوبکر، ثم صفوا صفوفا ، لا یؤمھم علیہ احد ۔۔۔ وھما فی الصف الاول

صفحہ 1 از 4