امر خلافت پر دو نظریے (اہلسنت و اہل تشیع) ایک اعتراض کا رد…

امر خلافت پر دو نظریے (اہلسنت و اہل تشیع) ایک اعتراض کا رد

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 3

پہلے شیعہ تحریر اور اعتراض


امر خلافت کے متعلق ذرا اس تحریر کو پڑھیے۔
عقد خلافت بندوں کے ہاتھ میں ہے
یا
عقد خلافت امر الٰہی سے متحقق ہوتا ہے۔
یہ دو نظریات ہیں،
اولذکر کے پاس کوئی دلیل ہو یا نہ ہو، امر واقعہ یہ ہے کہ اکثریت کی طرف سے پہلے نظریے کو ہی ترجیح دی گئی ہے، دور حاضر میں اتفاق سے کفار و مشرکین بھی اسی نظریہ پر ہیں،
اب عقل کا کہنا یہ ہے کہ ترجیح بلا مرجح محال است
جب مرجوح کے متعلق سوال اٹھتا ہے تو پہلے نظریہ سے متمسک حضرات تجربے کو پیش کرتے ہیں، جبکہ تجربہ سے استدلال مصادرہ علیٰ المطلوب کہلاتا ہے۔ اسکا فائدہ کوئی نہیں،
کیونکہ کفر سے بھی نظام حکومت چلایا جاسکتا ہے، یعنی اگر کافر اپنی اکثریت کا فائدہ اٹھا کر حکومت بنا لیں تو وہ بنا سکتے ہیں۔ ایران کی ہی مثال لے لیجیے، جو آپکے نزدیک کافر ملک ہے، اور وہاں سپریم اتھارٹی ایک آیت اللہ صاحب ہیں جو شیعہ مسلک سے ہیں، انڈیا میں مودی جی ہیں اسی طرح باقی دنیا میں یہود و نصاری حاکم ہیں، اور وہ اپنا حق حکومت اسی دلیل پر جتاتے ہیں جس دلیل پر فریق اول اہل سقیفہ کو مصاب قرار دیتا ہے۔ ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔
اس میں اسلام کا امتیاز زائل ہوتا ہے؟ اس نظریہ نے خود اپنی شکست تسلیم کرلی، کفار و مشرکین تعداد میں زیادہ ہیں، فلہذا مادی طور پر انکی رائے کو تلقی بالقبول حاصل ہے۔ اس مقام پر پہلے نظریہ سے متمسک گروہ کا ایک پوائنٹ کم ہوجاتا ہے۔ اسلام میں اسکی گنجائش نہیں ہے، اسلام نے تمام ملتوں اور اقوام کا حق حکومت مسترد کرتے ہوئے لا الہ الا للہ کا نعرہ متعارف کروایا ہے۔ دنیا پر حکومت کا حق، عنداللہ اسلام کے لیے ہے۔ اور جو اس بات کو تسلیم نہیں کرتا وہ غاصب حقوق المسلمین ہے۔
،،
اب دوسرے فریق کی سنیے، انکا کہنا ہے کہ عقد خلافت منصوص من اللہ ج ہے، اور اس پر قران کی کئی محکم آیات موجود ہیں، مثلاً


وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ


سورۃ نور کی اس آیت مبارکہ میں اللہ جل شانہ مومنین سے خلافت ارضیٰ کا وعدہ فرما رہا ہے، اور ساتھ میں یہ بھی فرما رہا ہے کہ موعودہ خلافت کس طرح سے منعقد ہوگی آیت کے الفاظ ملاحظہ کیجیے،


كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ


ایک دفعہ پھر پڑھیے


كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ


، جس طرح تم سے پہلے والوں کو خلیفہ بنایا تھا،
(کمنٹ ذرا لمبا ہورہا ہے برحال آپ پڑھیے اور فریق مخالف کی سنیے تاکہ اچھے سے جواب دے سکیں)
اب اس امت سے پہلے والوں کو خلافت ارضی کیسے عطاء ہوئی تھی؟ اسکا طریقہ انعقاد کیا تھا؟؟ ان سوالوں کے جوابات اگر آپ اپنی گراؤنڈ پر دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں، البتہ فریق مخالف نے انکے جوابات بھی قران ہی سے دیے ہیں، مثلاً


1۔ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً
2۔ يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ
3۔ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ


ان آیات سے بخوبی متشرح ہوجاتا ہے کہ عقد خلافت الٰہی امر ہے، اور مومنین کے لیے جس موعودہ خلافت کا ذکر قران میں کیا جارہا ہے وہ انہی سابقہ خلافتوں کی طرح سے منصوص من اللہ ہے۔ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ صرف اسی صورت میں صادق آتا ہے
بصورت دیگراں لازم ہے کہ آپ قران یا حدیث سے سقیفہ کے طرز کی مثال پیش کریں؟؟؟؟
اگر آپ ایسا پیش کرنے سے قاصر ہیں تو آپکا مخالف دوسرے نظریے کو ہی مصاب سمجھتا ہے، کیونکہ حق حکومت کا ثابت ہوجانا ہی کافی ہے، ضروری نہیں کہ حکومت مل بھی جائے، کیونکہ جتنی دیر حکومت مومنین کے غیر کے پاس رہے گی مومنین مظلوم اور دوسرا فریق ظالم و غاصب ہوگا۔ مظلوم ہونا عیب نہیں اور نہ ہی مظلوم ہونا سلب حق کی دلیل ہے۔
آج کفار و مشرکین اگر اکثریت کی بنیاد پر وسائل پر غالب ہیں تو صرف اسی معنیٰ میں ظالم و غاصب ہیں جو ہم نے بیان کیا۔
ایک آخری بات،
عقد خلافت تو ایک بڑا امر ہے اللہ ج کی سنت میں تو ایک بادشاہ مقرر کرنے کی گنجائش بھی بندوں کو نہیں دی گئی۔
اور یہ بات سابقہ امتوں میں معروف تھی، اسی لیے بنی اسرایئل اپنے نبیؑ کے پاس درخواست لیکر آئے تھے کہ ہم پر کسی کو "ملک" مقرر کردیں تاکہ ہم اسکی معیت میں جہاد کرسکیں،
نبیؑ نے انہیں بتایا کہ تم پر طالوت علیہ سلام کو مقرر کیا گیا ہے، جس کو انہوں نے مسترد کیا اور کہا کہ ہم میں سے کسی کو مقرر کیا جائے، چنانچہ ان کے اس اجماع اور رائے اور مشورہ کو بلکل بھی خاطر میں نہیں لایا گیا اور اسے مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہم نے طالوت ع کو تم پر علم و جسم میں فوقیت دی ہے۔ اسی لیے حق حکومت اسی کا ہے۔اس واقعہ سے اجماع و شوری اور رائے سے قائم کردہ نظریہ کی حیثیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
شکریہ،
اسکا جواب ضرور دیجیے گا۔ سلام من اتبع الھدی

الجواب:

  امر خلافت کے متعلق اس تحریر میں دو نظریے اور چند آیات بیان کر کے شیعہ نظریہ ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔

1:  عقد خلافت بندوں کے ہاتھوں میں ہے۔ (اہلسنت نظریہ)

2:  عقد خلافت امر الہی سے متحقق ہوتا ہے۔ (اہل تشیع نظریہ)

معترض نے تسلیم کیا ہے کہ پہلا نظریہ امت مسلمہ کی اکثریت نے قبول کیا یعنی اس پر اجماع ہے۔

ساتھ ہی یہ کہہ کر اجماع کا انکار کیا ہے کہ کفار بھی اکثریت کے مطابق حکومت کرتے ہیں یعنی ان کے نزدیک کفار کا ہر عمل غلط ہی ہوگا چاہے وہ اچھے کام ہی کیوں نہ ہوں۔

پہلے ہم شیعہ کے ان دلائل کا رد پیش کرتے ہیں جنہیں نظریہ 2 کی تائید میں پیش کیا گیا ہے۔  

آیت استخلاف پیش کرکے اس جملے پر زور دیا گیا ہے

“ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ”

جس طرح تم سے پہلے والوں کو خلیفہ بنایا تھا،

صفحہ 1 از 3