اس واقعہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیا سیکھا اور کیا پایا
علی محمد محمد الصلابیحضرت علیؓ نے پہلا سبق یہ سیکھا کہ ایسی
قوتیں جو آپﷺ کے لیے مدد کی پیش کش کر چکی تھیں، انھیں آپ نے اس کے بدلہ ایسی کوئی بھی ضمانت دینے سے انکار کردیا جس میں کسی کو یقینی طور سے قیادت یا حکومت دی جائے گی یا اسلام کی دعوت کی مدد اور تائید کا انھیں کوئی معاوضہ ملے گا، اس لیے کہ دعوت اسلام دراصل اللہ کی طرف دعوت ہے، جو اس دعوت کی تصدیق کرے اور اس کی مدد کے لیے مستعد رہے، اس کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ اللہ کے لیے مخلص ہو اور اسی کی رضا چاہتا ہو، کیوں کہ یہی وہ بنیادی مقاصد ہیں جن کے لیے قربانیاں دی جاتی ہیں، کوئی شخص دعوت اسلام اس لالچ میں قبول نہ کرے کہ اس سے ہمارا قد لمبا ہوجائے گا یا سرداری مل جائے گی۔ دراصل بنیادی مقصد کی اصلاح پر اس قدر زور اس لیے ہے کہ انسان جس مقصد کو سامنے رکھتا ہے وہی اس کی حرکت و نشاط کی اصل محرک ہوتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ دعوت اسلام کی مدد و تائید کے پیچھے جو مقصد کارفرما ہے وہ ہر طرح کی دنیاوی اور مادی مصلحتوں سے پاک ہو تاکہ ہمیشہ کی تائید یقینی رہے اور ہر انحراف سے حفاظت کی ضمانت ہو اور پختہ و کامل اعتماد ہو کہ اسلام کی دعوت کو قبول کر لینے والا اس کی تقویت کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا اور اس راستہ میں قربانیاں دینے کو تیار رہے گا۔
(الجہاد والقتال فی السیاسۃ الشرعیۃ: جلد 1 صفحہ 42)۔
چنانچہ کوئی بھی شخص جو داعیانِ حق کی جماعت سے خود کو منسلک رکھنا چاہتا ہے، اس پر لازم ہے کہ اس دعوت کا رکن بننے کے عوض کسی منصب، یا دنیاوی مفاد کے حصول کی شرط نہ لگائے، اس لیے کہ یہ دعوت محض اللہ کے لیے ہے اور اس کا انجام اسی کے ہاتھ میں ہے، جہاں چاہتا ہے وہاں اسے ظاہر و بلند کرتا ہے اور جو اس دعوت کے میدان میں اترتا ہے وہ بھی شروع میں صرف اللہ کی رضا چاہتا ہے اور اس کے جھنڈے کو بلند رکھنے کے لیے کام کرتا ہے، لیکن اگر اس میدان میں اترنے والے کی نیت صرف اور صرف حصول منصب ہے تو یہ بڑی خطرناک بات ہے، جو اس کے باطنی فساد و بگاڑ کی چغلی کرتی ہے۔
(وقفات تربویۃ من السیرۃ النبویۃ: عبدالحمید البلالی: صفحہ 72)۔
اور اسی لیے یحییٰ بن معاذ الرازی نے کہا ہے کہ ’’تم جس شخص میں قیادت و منصب طلبی کی بو محسوس کرو جان لو کہ وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔‘‘ (صفۃ الصفوۃ: جلد 4 صفحہ 94)
• سیدنا علیؓ نے دوسرا سبق یہ سیکھا کہ رسول اللہﷺ کو اپنی دعوت کے استحکام کے لے سرداران قبائل عرب سے ایسی مدد مطلوب تھی جو کسی طرح کے بین الاقوامی معاہدوں سے مربوط نہ ہو کہ وہ معاہدے دعوت اسلام کی راہ میں رکاوٹ بنیں اور پھر ان سے چھٹکارا پانا مشکل ہو جائے، یہ سب احتیاطی اقدامات اس لیے تھے کہ حالات ابھی نازک تھے اور دعوت اسلام کو ابھی انھوں نے جلد ہی گود لیا تھا، یہ ممکن تھا کہ معاہدہ کردہ ممالک کی طرف سے دعوت اسلام کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کی کسی سازش کا سامنا کرنا پڑے اور اس کے مفادات چیلنجوں کی زد میں آجائیں۔
(الجہاد والقتال فی السیاسۃ الشرعیۃ: جلد 1 صفحہ 421)۔
بے شک مشروط حمایت یا جزئی تائید سے دعوت اسلام کا اصل مقصد حاصل نہیں ہو رہا تھا، کیوں کہ اگر شاہ کسریٰ رسول اللہﷺ کو گرفتار کرنا چاہتا تو بنوشیبان کے لوگ کسریٰ سے جنگ مول نہ لیتے، اسی طرح اگر وہ آپﷺ اور آپ کے پیروکاروں کے خلاف جنگ چھیڑتا تو بھی یہ لوگ اس کے خلاف تلوار نہ اٹھاتے، بہرحال اس طرح طرفین کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔
(التحالف السیاسی فی الإسلام: منیر الغضبان: صفحہ 53)۔
• ’’اللہ کے دین کا حقیقی معاون وہی ہو سکتا ہے جو اسے ہر اعتبار سے جانچ پرکھ لے ‘‘یہ نبی کریمﷺ کی طرف سے مثنیٰ بن حارثہ کے لیے جواب تھا، ایسے وقت میں جب کہ انھوں نے سرزمین فارس کے علاوہ سرزمین عرب پر نبی کریمﷺ کے لیے مدد کی پیش کش کی تھی، مگر جسے گہری سیاست کی تہوں تک اترنا ہو، وہ اس واقعہ سے اچھی طرح معلوم کر لے گا کہ نبی کریمﷺ کی اسلامی نگاہ اتنی عمیق اور دور رس تھی کہ اس جیسی کوئی مثال نہیں ملتی۔
(التحالف السیاسی فی الإسلام: منیر الغضبان: صفحہ 64)۔
• سیدنا علیؓ نے مثنیٰ اور ان کی قوم پر جب کہ وہ اسلام لے آئے اسلام کے عمدہ و اعلیٰ اثرات دیکھے اور یہ بھی دیکھا کہ قبیلۂ بنوشیبان نے کس طرح سے کسریٰ کی مخالفت کا بوجھ اٹھایا، یہی مثنیٰ بن حارثہ عہد صدیقی میں فاتحین عراق کے سرخیلوں میں سے ایک رہے، درحقیقت دین اسلام پر کامل ایمان ہی وہ چیز تھی جس نے فارسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے جسم و جان میں جرأت و بےباکی کی روح پھونک رکھی تھی۔
یہ بعض دروس و عبر تھے جنھیں سیدنا علیؓ نے بنی شیبان کے ساتھ رسول اللہﷺ کے مذاکرات سے سیکھا تھا۔