Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شام میں پوزیشن خراب ہونا

  علی محمد الصلابی

فتح شام پر مقرر اسلامی فوج کو مشکلات کا سامنا تھا کیونکہ ان کے مقابلہ میں رومی سلطنت کی فوج تھی جو قوت و کثرت میں امتیازی پوزیشن کی حامل تھی۔ انہوں نے اپنے شہری مراکز کی حفاظت کے لیے قلعہ بنا رکھے تھے اور فوج کی تنظیم میں کرادیس (یہ ایک جنگی اسلوب ہے جس کی تفصیل جنگ یرموک کے بیان میں آرہی ہے۔ (مترجم) کا اسلوب اختیار کیا تھا اور روم کی شام میں دو افواج تھیں، ایک فلسطین میں اور دوسری انطاکیہ میں، اور ان دونوں افواج نے درج ذیل طریقہ سے چھ مقامات پر اپنے مراکز بنا رکھے تھے:

انطاکیہ: رومی سلطنت کے دور میں یہ شام کا دارالسلطنت تھا۔

قنسرین: حماۃ اور حلب کے درمیان حلب کے جنوب مغرب میں پچیس کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہ شام کی سرحد ہے جو شمال مغرب میں فارس کے مقابل پڑتی ہے۔

حمص: اس کا عسکری نفوذ تدمر اور صحرائے شام تک پھیلا تھا، یہ شام کی سرحد ہے جو شمال مشرق میں فارس کے مقابل پڑتی ہے۔

عمان: بلقاء کا صدر مقام، یہاں مضبوط و محفوظ قلعہ تھا۔

أجنادین: یہ فلسطین کے جنوب میں روم کا عسکری مرکز تھا جو بلاد عرب کی مشرقی اور مغربی سرحدوں اور حدود مصر سے ملتا تھا۔

قیساریہ: یہ فلسطین کے شمال میں حیفا سے تیرہ کلو میٹر پر واقع ہے اور اس کے کھنڈر ابھی تک باقی ہیں۔

رومی ہائی کمان کا مرکز (ہیڈ آفس) انطاکیہ یا حمص تھا۔ جب ہرقل نے اسلامی افواج کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھا تو اس نے اپنی فوج کو حکم صادر کیا کہ اسلامی فوج کو تباہ کر دو اور اسلامی افواج سے مقابلہ کی منصوبہ بندی مندرجہ ذیل طریقہ سے کی گئی:

رومی افواج مسلمانوں کے سامنے سے پیچھے ہٹ جائیں اور شامی اور حجازی سرحدیں ان کے لیے چھوڑ دیں۔

پہلی فوج کے دستے فلسطین میں سرجون کی قیادت میں جمع ہو جائیں۔

دوسری فوج کے دستے انطاکیہ میں تھیوڈور کی قیادت میں جمع ہو جائیں۔

دونوں افواج ایک ساتھ حرکت میں آئیں اور یکے بعد دیگرے اسلامی فوج کے چاروں قائدین پر حملہ کریں، اس طرح اسلامی فوج کو ایک ایک کر کے صفایا کرنے میں آسانی ہو گی۔ اس منصوبہ کے تحت جسے ہرقل نے وضع کیا تھا رومی افواج مندرجہ ذیل ترتیب سے حرکت میں آئیں: 

(معارک خالد بن الولید: العمید یاسین سوید: صفحہ 77، 78 )

ہرقل نے اپنے بھائی تذارق کو نوے ہزار فوج کے ساتھ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ کیا۔

ابن توذر کو یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی طرف۔

قبقار بن ننطوس کو ساٹھ ہزار فوج کے ساتھ ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی طرف۔

دار قص کو شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کی طرف۔

(العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ عند المسلمین: صفحہ 147)

مسلمان رومی فوج سے متعلق دقیق معلومات، ان کے اغراض و مقاصد سے متعلق تفصیلات، نیز ہرقل کے تیار کردہ منصوبہ کی تفصیلات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ تفصیلات فراہم ہونے کے بعد مسلم قائدین نے مدینہ میں خلیفہ سے خط کتابت کی اور صورت حال سے آگاہ کیا۔

چنانچہ ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہرقل کے عزائم سے آگاہ کرتے ہوئے تحریر کیا، امین امت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا خط یہ ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

خلیفہ رسول عبداللہ ابوبکر کے نام، ابوعبیدہ بن جراح کی جانب سے۔

السلام علیک! میں اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔

اما بعد! میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں کہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت و غلبہ عطا فرمائے اور انہیں آسان فتح نصیب فرمائے۔ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ شاہ روم ہرقل شام کی ایک بستی انطاکیہ میں آکر قیام پذیر ہوا ہے اور اپنی سلطنت کے لوگوں کو بلا کر جمع کر لیا ہے اور وہ بڑی کثیر تعداد میں جمع ہو گئے ہیں لہٰذا میں نے مناسب سمجھا کہ آپ کو اس کی اطلاع بھیج دوں تاکہ اس سلسلہ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ کی رائے معلوم کروں۔

والسلام علیک ورحمۃ اللہ و برکاتہ! ‘‘

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس خط کا جواب تحریر فرمایا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اما بعد! تمہارا خط مجھے ملا اور شاہ روم ہرقل سے متعلق جو کچھ تم نے تحریر کیا ہے اس کو سمجھا۔ انطاکیہ میں اس کا قیام کرنا اس کی اور اس کے ساتھیوں کی شکست اور تمہاری اور مسلمانوں کی فتح کا پیش خیمہ ہے۔ تم نے جو ہرقل کے اپنی مملکت کے تمام لوگوں کو جمع کرنے اور کثیر تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے سے متعلق تحریر کیا ہے تو یہ ہم اور تم سب پہلے سے جانتے تھے کہ وہ ایسا کریں گے کیونکہ کوئی قوم بغیر قتال کے اپنی سلطنت نہ چھوڑ سکتی ہے اور نہ اپنی مملکت سے نکل سکتی ہے۔ الحمد للہ مجھے یہ معلوم ہے کہ ان سے لڑنے والے بہت سے مسلمان موت سے اسی قدر محبت رکھتے ہیں جس قدر دشمن زندگی سے محبت رکھتا ہے اور اپنے قتال میں اللہ سے اجر عظیم کی امید رکھتے ہیں اور جہاد فی سبیل اللہ کے لیے اس سے زیادہ محبت رکھتے ہیں جتنی انہیں کنواری عورتوں اور قیمتی مال سے ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک مسلمان فتح کے وقت ہزار مشرکین سے بہتر ہے۔ تم اپنی اپنی فوج کے ساتھ ان سے ٹکراؤ اور جو مسلمان تم سے غائب ہیں اس کی وجہ سے پریشان نہ ہو، اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ میں تمہاری مدد کے لیے لوگوں کو بھیج رہا ہوں، جو تمہارے لیے کافی ہوں گے اور مزید کی ان شاء اللہ خواہش نہ رہے گی۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔‘‘

(التاریخ الاسلامی:  جلد 9 صفحہ 213، منقول از فتوح الشام للازدی: صفحہ 30، 31)

یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے بھی ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے خط کے مضمون پر مشتمل خط سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ارسال کیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس خط کا جواب یوں تحریر فرمایا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اما بعد!

تمہارا خط مجھے موصول ہوا، جس میں تم نے شاہ روم کے انطاکیہ کی طرف منتقل ہونے کو ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلم فوج کا خوف اس کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ الحمد للہ، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بذریعہ رعب ہمیں نصرت بخشی اور ملائکہ کرام کے ذریعہ سے مدد کی۔ یقیناً وہ دین جس کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے بذریعہ رعب ہماری مدد ونصرت فرمائی یہی دین ہے جس کی طرف آج ہم دعوت دیتے ہیں۔ تمہارے رب کی قسم! اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مجرموں کی طرح نہیں کرے گا، اور نہ جو لا الٰہ الا اللہ کی شہادت دیتے ہیں انہیں ان لوگوں کی طرح کرے گا جو دوسرے معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور مختلف طرح کی عبادت کرتے ہیں۔ جب ان سے تمہارا مقابلہ ہو تو اپنے ساتھیوں کو لے کر ان پر ٹوٹ پڑو اور ان سے قتال کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں رسوا نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی ہے کہ بحکم الہٰی چھوٹا گروہ بڑے گروہ پر غالب آجاتا ہے، اور اس کے باوجود میں تمہاری مدد کے لیے مجاہدین پر مجاہدین بھیج رہا ہوں، یہاں تک کہ تمہارے لیے کافی ہو جائیں گے اور مزید کی حاجت نہ محسوس کرو گے۔ ان شاء اللہ!

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ۔

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ خط عبداللہ بن قرط ثمالی کے ذریعہ سے ارسال فرمایا۔ جب وہ خط لے کر یزید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو آپؓ نے مسلمانوں کو پڑھ کر سنایا جس سے مسلمان بہت خوش ہوئے۔

(فتوح الشام للأزدی: صفحہ 30، 33 بحوالہ الحمیدی۔)

اسی طرح حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا بھی خط سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ملا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا:

’’السلام علیک اما بعد!

تمہارا خط مجھے موصول ہوا، جس میں تم نے رومیوں کے فوج اکٹھی کرنے کا ذکر کیا ہے، تو یاد رہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کثرت فوج کی بنا پر ہمیں فتح و نصرت نہیں عطا کی، ہماری تو حالت یہ تھی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے اور ہمارے پاس صرف دو گھوڑے ہوتے اور اونٹ پر بھی باری باری سواری کرتے۔ احد کے دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہمارے پاس صرف ایک ہی گھوڑا تھا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ ہمیں ہمارے دشمن پر غلبہ عطا فرماتا اور ہماری مدد کرتا تھا۔ عمرو! یاد رکھو اللہ کا سب سے بڑا مطیع وہ ہے جو معصیت سے سب سے زیادہ بغض رکھے۔ خود بھی اللہ کی اطاعت کرو اور اپنے ساتھیوں کو بھی اطاعت الہٰی کا حکم دو۔‘‘

(خطب ابی بکر الصدیق: محمد احمد عاشور: صفحہ 92)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شام میں اسلامی فوج کی مدد کے لیے مجاہدین، اسلحہ، گھوڑے اور دیگر ضروریات کی چیزیں بھیجنا شروع کیں۔ ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص کو بلایا اور فرمایا: اے ہاشم! تمہاری سعادت مندی اور نیک بختی ہے کہ تم ان لوگوں میں سے ہو جس سے امت اپنے دشمن مشرکین کے خلاف جہاد میں مدد حاصل کر رہی ہے اور جس کی خیر خواہی، وفاداری، عفت اور قوت پر خلیفہ کو اعتماد و بھروسہ ہے۔ مسلمانوں نے مجھے خط لکھ کر اپنے دشمن کفار کے مقابلہ میں مدد طلب کی ہے تو تم اپنے ساتھیوں کو لے کر ان کے پاس جاؤ، میں لوگوں کو تمہارے ساتھ جانے پر تیار کر رہا ہوں۔ تم یہاں سے روانہ ہو کر ابوعبیدہ یا یزید سے جا ملو۔سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کر کے خطاب فرمایا، اللہ کی حمدوثنا کے بعد فرمایا:

’’اما بعد! یقیناً تمہارے مسلمان بھائی خیر و عافیت سے ہیں، محفوظ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دشمن کے دلوں میں ان کا رعب بٹھا دیا ہے، وہ قلعہ بند ہو گئے ہیں، ان کی طرف سے پیغام رساں یہ خبر لائے ہیں کہ شاہ روم ہرقل نے ان کے سامنے سے بھاگ کر شام کے کنارے ایک بستی میں پناہ لے لی ہے، انہوں نے ہمیں یہ خبر بھیجی ہے کہ ہرقل نے اس جگہ سے بہت بڑی فوج ان سے مقابلہ میں روانہ کی ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ تمہارے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے تمہاری فوج روانہ کروں، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے ان کی پشت مضبوط کرے گا اور دشمن کو ذلیل کرے گا اور ان کے دلوں میں ان کا رعب ڈال دے گا۔ اللہ تم پر رحم فرمائے۔ ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص کے ساتھ تیار ہو جاؤ اور اللہ سے اجر و خیر کی امید رکھو۔ اگر تم کامیاب ہوئے تو فتح و غنیمت حاصل ہو گی اور اگر ہلاک ہوئے تو شہادت و کرامت حاصل ہو گی۔‘‘

پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے اور لوگ ہاشم بن عتبہ کے پاس جمع ہونے لگے اور ان کی تعداد بڑھ گئی۔ جب ایک ہزار ہو گئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں کوچ کرنے کا حکم دے دیا۔ رخصت ہوتے وقت ہاشم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کیا، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا

’’اے ہاشم! ہم بڑے بوڑھے کی رائے، مشورہ اور حسن تدبیر سے استفادہ کرتے تھے اور نوجوانوں کی قوت، طاقت اور صبر پر بھروسہ کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے اندر یہ سب خصائل جمع کر دیے ہیں، تم ابھی نو عمر اور خیر کی طرف بڑھنے والے ہو۔ جب دشمن سے مڈبھیڑ ہو تو ڈٹ کر مقابلہ کرنا اور صبر کا مظاہرہ کرنا اور یاد رکھو اللہ کی راہ میں جو قدم بھی تم اٹھاؤ گے، جو خرچ بھی کرو گے اور جو تکلیف، تھکاوٹ اور بھوک وپیاس تمہیں لاحق ہو گی، اس کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہارے نامہ اعمال میں عمل صالح لکھے گا۔ اللہ تعالیٰ نیکو کار لوگوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔‘‘

ہاشم نے عرض کیا: اگر اللہ نے میرے ساتھ خیر چاہی تو مجھے ایسا ہی کرے گا اور میں ایسا ہی کروں گا، قوت و طاقت اللہ ہی عطا کرنے والا ہے اور مجھے امید ہے کہ اگر میں قتل نہ کیا گیا تو میں دشمن کو قتل کروں گا۔ پھر ان شاء اللہ قتل کیا جاؤں گا۔ پھر ان سے ان کے چچا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا:

’’اے بھتیجے! تم جو بھی نیزے چلاؤ اور جو ضرب بھی لگاؤ اس سے مقصود اللہ کی رضا ہو۔ اور یاد رکھو تم دنیا سے ہدایت یاب ہو کر دنیا سے رخصت ہونے والے ہو اور عنقریب اللہ کی طرف لوٹنے والے ہو اور دنیا سے لے کر آخرت تک تمہارے ساتھ تمہارے اچھے کارنامے یا اعمال صالحہ ہوں گے جو تم نے کیے ہیں۔‘‘

ہاشم نے کہا: چچا جان! اس کے علاوہ کی مجھ سے توقع نہ کریں۔ اگر میرا قیام و سفر، صبح وشام کی نقل وحرکت، نیزے مارنا اور تلوار چلانا لوگوں کو دکھانے کے لیے ہو تو پھر میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔ پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سے روانہ ہوئے اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے جا ملے، ان کے پہنچنے سے مسلمان خوش ہو گئے۔

(فتوح الشام للازدی: صفحہ 33، 35)

ہاشم بن عتبہ کے کوچ کر جانے کے کچھ دن بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں اعلان کریں، انہوں نے اعلان کیا: مسلمانو! سعید بن عامر بن حذیم رضی اللہ عنہ کے ساتھ شام کی مہم کے لیے تیار ہو جاؤ۔ چند دنوں میں سات سو افراد تیار ہو گئے اور جب سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے ساتھ کوچ کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اگر آپؓ نے مجھے اس لیے آزاد کیا تھا کہ میں آپؓ کے ساتھ رہوں اور آپؓ مجھے خیر کی دلی خواہش کی تکمیل سے روک دیں، تو میں آپؓ کے ساتھ مدینہ میں رہنے کے لیے تیار ہوں اور اگر اللہ واسطے آزاد کیا تھا تاکہ میں اپنے نفس کا مالک رہوں اور نفع بخش چیز کے سلسلہ میں نقل وحرکت کروں، تو آپؓ مجھے اجازت دیں کہ میں اپنے رب کی راہ میں جہاد کروں۔ مجھے بیٹھے رہنے سے جہاد زیادہ محبوب ہے۔

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تمہاری خواہش جہاد کرنے کی ہے تو میں تمہیں ٹھہرنے کا کبھی حکم نہیں دوں گا۔ میں تمہیں اذان کے لیے چاہتا ہوں اور مجھے تمہاری جدائی سے وحشت محسوس ہوتی ہے لیکن ایسی جدائی ضروری ہے جس کے بعد قیامت تک ملاقات نہ ہو گی۔ اے بلال! تم عمل صالح کرتے رہنا، یہ دنیا سے تمہارا زاد راہ ہوگا اور جب تک تم زندہ رہو گے تمہاری یاد باقی رکھے گا اور جب وفات پاؤ گے تو اس کا بہترین ثواب عطا کرے گا۔ بلال نے عرض کیا: اللہ آپ کو اسلامی بھائی اور احسان مند کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔ آپؓ نے جو ہمیں اللہ کی اطاعت پر صبر اور حق و عمل صالح پر مداومت کا حکم فرمایا ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اذان دینا نہیں چاہتا۔ پھر سعید بن عامر بن حذیم رضی اللہ عنہ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ روانہ ہو گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ یزید بن ابی سفیان سے جا ملیں۔ وہ ان سے جا ملے اور عربہ اور دائنہ کی جنگ میں ان کے ساتھ شریک ہوئے۔

(فتوح الشام للازدی: صفحہ 35، 38، بتصرف)

جہادی وفود کے آنے کا سلسلہ مدینہ میں جاری تھا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ انہیں مہمات پر روانہ کرتے رہتے۔ ان وفود میں بعض دیہات کے رہنے والے تھے جن میں جہالت اور سختی پائی جاتی تھی، جس کی وجہ سے مدینہ کے صحابہ اور تابعین کو اذیت پہنچتی تھی کیونکہ ان کی ابھی اسلامی تربیت مکمل نہ ہو سکی تھی۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کی شکایات پہنچائی جاتیں لیکن کثرت وفود کے باوجود کوئی نزاع رونما نہیں ہوا۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مدینہ کے لوگوں سے اپیل کی

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 224)

اور فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دلاتا ہوں جو مسلمان میری یہ اپیل سنے اور اپنے اوپر میرا حق سمجھتا ہے، وہ ان کی زبان کی تیزی اور شست و ناپسندیدہ حرکات برداشت کرے جب تک کہ یہ لوگ شرعی حد کو نہ پہنچیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے ہمارے دشمنوں ہرقل روم کے لشکر کو ہلاک کرنے والا ہے۔ یہ تمہارے بھائی ہیں اگر ان سے کسی پر زیادتی ہو جائے تو برداشت کرے۔ کیا یہ صحیح رائے اور انجام کے اعتبار سے بہتر نہیں کہ ان کے ذریعہ سے مدد و غلبہ ملے؟

تمام مسلمانوں نے یک زبان ہو کر کہا: کیوں نہیں، ضرور۔

فرمایا: تو پھر یہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور دشمن کے مقابلہ میں تمہارے معاون ہیں۔ ان کا تم پر حق ہے لہٰذا تم برداشت کرو۔ پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ منبر سے اتر آئے۔

(التاریخ الاسلامی للحمیدی: جلد 9 صفحہ 223)