تعارف امام مالک رحمۃ اللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام مالک رحمۃ اللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 1 از 6

امام مالک رحمۃ اللہ

نسب و نسبت:

هو فقيه الامة امام دار الهجرة ابو عبدالله مالك بن انس بن مالك بن ابی عامر بن عمرو بن الحارث بن غيمان بن جثليل بن عمرو بن ذی اصبح الحارث الاصبحی المدنی۔ 

(تفصیلی حالات کے لیے دیکھیے الکامل لابن الاثیر: جلد، 6 صفحہ،:147 تہذیب الاسماء واللغات للنووی: جلد، 2 صفحہ، 75، 79 وفیات الاعیان: جلد، 4 صفحہ، 135 تہذیب الکمال: جلد، 27 صفحہ، 91 رقم: 1297 تذکرۃ الحفاظ: جلد، 1 صفحہ، 207 البدایہ والنہایۃ: جلد، 10 صفحہ، 74 تہذیب التہذیب: جلد، 10 صفحہ، 5 سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 47)

حضرت شیخ الحدیث نے اس نسب کو اسی تفصیل اور کچھ اختلاف کے ساتھ مقدمہ اوجز المسالک میں نقل فرمایا ہے۔

(مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 25) 

آپ کا تعلق چونکہ قبیلہ اصبح سے تھا جس کا یمن کے معزز قبائل میں شمار ہوتا تھا اس لیے آپ کو اصبح کہا جاتا ہے آپ کے خاندان میں سب سے پہلے آپ کے جدِ اعلیٰ ابو عامر مسلمان ہوئے امام صاحبؒ کے دادا مالک بن ابی عامر کبارِ تابعین میں سے ہیں ان کے تین صاحبزادے تھے، ابوسہیل، ربیع اور انس، ہم ان سب کے حالات مختصر بیان کریں گے۔

ابو عامر:

اتنی بات یقینی ہے کہ وہ محضرمین میں سے ہیں یعنی جاہلیت اور اسلام کا زمانہ انہوں نے پایا ہے لیکن ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے امام ذہبی رحمۃاللہ نے لکھا ہے: لم أر احدا ذكره فی الصحابة۔ 

(قاله شیخ الحدیث نقلا عن تجريد الصحابه للذہبی: جلد، 1 صفحہ، 18 حافظ ابنِ حجرؒ نے بھی الاصابہ کی قسم ثالث میں ان کا تذکرہ لا کر امام ذہبیؒ کے قول پر اکتفاء کیا ہے الاصابہ: جلد، 4 صفحہ، 144 اور الاصابہ کی تیسری قسم ان حضرات کے بارے میں ہے، جن کی ملاقات رسولﷺ کے ساتھ کسی طرح ثابت نہ ہو۔

(ابنِ حجرؒ الاصار حجر الاصابہ کے خطبہ میں لکھتے ہیں: القسم الثالث فيمن ذكر فی الكتب المذكورة من المخضرمين الذين أدركوا الجاهلية والإسلام، ولم يردفى خبر قط أنهم اجتعموا بالنبیﷺ ولا ولا رأوه، سواء أسلموا فی حياته أم لا وهولاء ليسوا صحابة باتفاق من أهل

العلم بالحديث الاصابة: جلد، 1 صفحہ، 6) 

لیکن ان کے برخلاف قاضی عیاض نے ابوبکر بن العلاء کا قول نقل کیا ہے کہ: ھو صحابی جليل شهد المغازى كلها خلا بدراً 

(مقدمه أوجز المسالک: جلد، 1 صفحہ، 18) علامہ سیوطیؒ نے بھی تنویر میں اسی کو لیا ہے۔

(تنویر الحوالك للسيوطی: صفحہ، 3 القائدة الاولىٰ)

امام صاحبؒ کے دادا مالک بن ابی عامر: 

(دیکھیے تہذیب الکمال: جلد، 28 صفحہ، 148، 150 تہذیب التہذیب: جلد، 10 صفحہ، 25)

ان کی کنیت ابو انس ہے اور کبارِ تابعین میں سے ہیں ان کی روایت حضرت عمرؓ حضرت

عثمانؓ حضرت ابوہریرہؓ اور ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ سے ثابت ہے، صحاحِ ستہ میں ان کی روایات ملتی ہیں 84ھ میں ان کی وفات ہوئی۔

امام صاحب رحمۃاللہ کے چچاربیع بن مالک:

ان کا تذکرہ علامہ سمعانی نے الانساب میں کیا ہے۔

(الانساب: جلد،1 صفحہ، 147)

امام صاحب رحمۃاللہ کے دوسرے چچا نافع بن مالک:

(تہذیب الکمال: جلد، 29 صفحہ، 290، 291 تقریب التہذیب: رقم الترجمۃ: 7107)

ان کی کنیت ابوسہیل ہے، حضرت انس بن مالک، عبداللہ بن عمر، سعید بن المسیب عمر بن عبدالعزیز وغیرہ سے روایت کرتے ہیں، امام احمد، ابو حاتم اور نسائی رحمہم اللہ نے ان کو ثقہ قرار دیا ہے، اصحاب اصولِ ستہ نے ان کی روایتیں لی ہیں۔

امام صاحب رحمۃاللہ کے تیسرے چچا اویس بن مالک:

علامہ ابنِ حجرؒ اور سمعانیؒ نے ان کا تذکرہ نقل کیا ہے۔

علامہ سمعانیؒ لکھتے ہیں: امام مالکؒ کے والد محترم انس بن مالک سب سے بڑے بھائی، ان کے بعد اویس، ان کے بعد نافع اور سب سے چھوٹے ربیع بن مالک تھے۔

(تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 385، 386، الانساب: جلد، 1 صفحہ، 184)

امام صاحب رحمۃاللہ کی والدہ:

عالیۃ بنتِ شریک بن عبد الرحمٰن الازدیہ ہیں۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 49)

ولادت:

اس پر اتفاق ہے کہ امام صاحب رحمۃاللہ رحمِ مادر میں معمول سے زیادہ رہے، البتہ اختلاف مدت میں ہے لیکن اکثر مؤرخین نے تین سال اور بعض حضرات نے دو سال بتائی ہے۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 49) 

پھر سنِ ولادت میں بھی اختلاف ہے 90ھ، 94ھ، 95ھ، لیکن علامہ ذہبیؒ نے امام صاحبؒ کے مشہور تلمیذ یحییٰ بن بکیر کا قول نقل کیا ہے کہ سمعته يقول ولدت سنة ثلاث وتسعين لہٰذا 931ھ ہی کو راجح کہا جائے گا۔ 

(تذكرة الحفاظ: جلد، 1 صفحہ، 212)

وفات:

امام صاحبؒ 22 دن تک صاحبِ فراش رہنے کے بعد 179ھ میں دارِفانی کو الوادع کہہ کر خالق حقیقی سے جاملے، تاریخ میں اختلاف ہے 10، 11، 14، ربیع الاول بعض نے کہا صفر میں انتقال ہوا اور بقیع میں مدفون ہوئے کہا گیا ہے کہ حالتِ اختصار میں لا الہ الا اللہ پڑھ کر پھر لله الامر من قبل ومن بعد پڑھتے رہے، یہاں تک کہ روح مبارک پرواز کر گئی، رحمہ الله رحمة واسعہ، نہلانے میں ان کے صاحبزادے یحییٰ اور ان کے کاتب حبیب اور ابنِ ابی زنبر اور ابنِ کنانہ شریک رہے، عبداللہ بن محمد نے جو اپنے باپ کی جگہ نائب والی مدینہ تھے نمازِ جنازہ پڑھائی، دفنانے میں بہت سے لوگ شریک تھے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 130)

پسماندگان میں تین صاحبزادے یحییٰ، محمد، حماد اور ایک صاحبزادی فاطمہ شامل ہیں۔ (وفات کے متعلق اختلافِ اقوال کے لیے دیکھیے: سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 130، 131)

حلیہ و لباس:

امام صاحبؒ بہت ہی خوش پوش انسان تھے عام طور سے روزانہ نئے کپڑے زیب تن فرماتے بہت ہی تنومند اور قد معتدل مائل بہ درازی تھا رنگ سفید مائل بزردی اور سروریش کے انتہائی سفید بال چہرہ کی رونق و نورانیت کو دوبالا کرتے تھے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 69، 70)

تحصیل علم:

صفحہ 1 از 6