قاضی کے فرائض - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

قاضی کے فرائض

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے خطوط میں قاضی کے لیے چند منصبی فرائض کو واضح کیا ہے کہ عدالتی کارروائی کے وقت ان کی رعایت لازمی ہے۔

1۔ اخلاص و للہیت:

چنانچہ آپؓ نے ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام خط لکھا:

’’بے شک برحق فیصلہ اللہ کے نزدیک باعث اجر ہے، اور نیک نامی کا ذریعہ ہے۔ جس حاکم کی نیت خالص حق کی ہو گو فیصلہ اس کے خلاف ہو اللہ تعالیٰ رعایا کے ساتھ اس کے معاملات خود سلجھا دیتا ہے اور جو حاکم رعیت کے ساتھ ریا کاری سے پیش آتا ہے اللہ تعالیٰ اسے رسوا کر دیتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ بندے کے انہی اعمال کو پسند کرتا ہے جو خلوص و للہیت پر مبنی ہوں، جب وہ خلوص پر آخرت میں اجر دیتا ہے تو یہاں دنیا میں کیوں نہ دے گا، رزق رحمت کے خزانے یہاں بھی اللہ تعالیٰ مخلص لوگوں پر کھول دیتا ہے۔‘‘ 

(اعلام الموقعین: ابن القیم: جلد 1 صفحہ 85)

2۔ معاملہ کی مکمل تحقیق:

فیصلہ صادر کرنے سے پہلے در پیش قضیہ معاملہ کی ہر اعتبار سے مکمل تحقیق ضروری ہے اور کسی برحق نتیجہ پر پہنچنے سے قبل فیصلہ دینا جائز نہیں ہے۔ آپؓ نے ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام لکھا تھا:

’’جب معاملہ قضیہ تمہارے پاس آئے تو اسے خوب اچھی طرح سمجھ لو اور اس پر غور کر لو۔‘‘

اور خود ابو موسیٰؓ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’قاضی کے لیے فیصلہ دینا اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ حق بات اس کے سامنے رات اور دن کی طرح واضح نہ ہو جائے۔‘‘

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو جب اس بات کی خبر پہنچی تو فرمایا:

’’ابو موسیٰ نے بالکل سچ کہا۔‘‘ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 725)

3۔ اسلامی شریعت کا فیصلہ:

قاضی کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی شریعت کی روشنی میں فیصلہ دے، فریقین خواہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم۔ چنانچہ زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہا: میرا بیٹا مر گیا ہے اور میرے ہم مذہب یہودی لوگ کہتے ہیں کہ میں اس کی میراث کی حق دار نہیں ہوں۔ آپؓ نے ان کو بلوایا اور کہا: تم لوگ اس کو اس کا حق کیوں نہیں دیتے؟ انہوں نے کہا: ہم اپنی کتاب میں اس کا حق نہیں پاتے۔ آپ نے دریافت کیا: کیا تورات میں؟ انہوں نے کہا: نہیں بلکہ ’’مشناۃ‘‘ میں۔ آپؓ نے پوچھا: ’’مشناۃ‘‘ کون سی کتاب ہے؟ انہوں نے بتایا: ہمارے علماء اور دانشوروں کی ایک جماعت نے اسے تصنیف کیا ہے۔ آپؓ نے ان کو برا بھلا کہا اور فرمایا: جاؤ اور اسے اس کا حق دو۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 725)

4۔ پیچیدہ و مشکل معاملات میں مشورہ طلبی:

آپؓ نے اپنے ایک قاضی کو لکھا:

’’اپنے دینی معاملات میں ان لوگوں سے مشورہ لے لینا جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔‘‘ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 725، سنن البیہقی: جلد 10 صفحہ 112)

اور قاضی شریح کے نام لکھا: ’’اگر مناسب سمجھو تو مجھ سے مشورہ لے لیا کرو، میرے خیال میں مجھ سے تمہارا مشورہ لے لینا تمہارے لیے مفید ثابت ہو گا۔‘‘ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطابؓ صفحہ 725 ، سنن البیہقی: جلد 10 صفحہ 110)

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بذاتِ خود اصحاب بصیرت سے کافی مشورہ لیتے تھے، یہاں تک کہ شعبی کا بیان ہے ’’جو شخص قضاء سے متعلق مستند دستاویز کا خواہاں ہو اسے حضرت عمرؓ کے فیصلوں کو دیکھنا چاہیے، اس لیے کہ وہ ہر فیصلہ میں مشورہ لیتے تھے۔‘‘ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 725، سنن البیہقی: جلد 10 صفحہ 109)

5۔ فریقین کے ساتھ یکساں برتاؤ:

چنانچہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام خط لکھا:

’’مخاطب ہونے، قریب بٹھانے اور انصاف کرنے میں لوگوں مدعی و مدعا علیہ کے ساتھ یکساں برتاؤ کرو تاکہ با اثر آدمی یہ توقع نہ کرے کہ تم اس کے ساتھ رعایت کرو گے اور کمزور تمہارے انصاف سے مایوس نہ ہو۔‘‘

اور ایک مرتبہ لکھا:

’’لوگوں کے درمیان برحق فیصلہ کرو، قریبی ہوں یا دور کے ہوں، سب اس حکم میں یکساں ہیں۔‘‘

اور ایک مرتبہ جب حضرت ابی بن کعبؓ نے ایک باغ کے بارے میں حضرت عمرؓ کے خلاف دعویٰ پیش کیا تو آپؓ اس کے بارے میں صحیح فیصلہ نہ سمجھ سکے، تو حضرت زید بن ثابتؓ کو اپنا ثالثی مقرر کیا، اور دونوں حضرات زید بن ثابتؓ کے گھر آئے، سیدنا عمرؓ نے فرمایا: ’’ہم آپ کے پاس فیصلہ لینے آئے ہیں‘‘اس وقت ان کے گھر ہی میں مقدمات کی سماعت ہوتی تھی، حضرت زید بن ثابتؓ اپنے بستر سے اٹھ گئے اور سیدنا عمرؓ کو اس پر بٹھانا چاہا اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت زیدؓ نے تکیہ نکال کر حضرت عمرؓ کے سامنے پیش کیا تاکہ ٹیک لگا کر بیٹھ جائیں اور کہا: امیر المؤمنین! آپ یہاں تشریف لائیں، حضرت عمرؓ نے فرمایا: اے زید! تم نے اپنے فیصلہ کے آغاز ہی میں غلطی کر دی، مجھے میرے فریق کے ساتھ بٹھاؤ، پھر وہ دونوں حضرت زیدؓ کے سامنے بیٹھ گئے۔ 

(صحیح التوثیق فی سیرۃ وحیاۃ الفاروق: صفحہ 259)

6۔کمزور کی ہمت افزائی:

یہ اس لیے ضروری ہے تاکہ اس کے دل سے گھبراہٹ دور ہو جائے اور بے خوف ہو کر اپنی بات کر سکے، آپؓ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا: ’’کمزور و غریب کو قریب رکھو تاکہ اس کی ہمت بندھے اور اپنی بات کہہ سکے۔‘‘ 

(مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ: صفحہ 438)

7۔ پردیسی کے دعویٰ پر فوری عدالتی کارروائی یا اس کے قیام و طعام کا انتظام کرنا:

چنانچہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے نام لکھا:

’’پردیسی کا خاص خیال رکھو، کیونکہ اگر اس کو دیر تک رکنا پڑے گا، یعنی اپنا فیصلہ لینے کے لیے بال بچوں سے کافی دنوں تک دور رہے گا، تو اپنا حق چھوڑ کر اپنے وطن اہل و عیال میں چلا جائے گا اور اس کی حق تلفی کا ذمہ دار وہ شخص ہو گا یعنی حاکم جس نے تاخیر کی۔‘‘ 

(مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ: صفحہ 438)

8۔ کشادہ دل اور متحمل مزاج ہونا:

آپؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام لکھا:

’’اہل مقدمہ کو ڈانٹنے اور جھڑکنے، اس سے غصے ہونے، چڑچڑانے اور تکلیف دینے سے خود کو بچاؤ، اگر قاضی کو احساس ہو جائے کہ مجھے اِن میں سے کوئی عارضہ لاحق ہے تو جب تک یہ شکایت دور نہ ہو جائے وہ قطعاً فیصلہ نہ دے، کہ مبادا کسی نفسیاتی اثر کی بنا پر فیصلہ صادر ہو جائے۔‘‘

صفحہ 1 از 3