Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

یوم اغواث

  علی محمد الصلابی

جنگ قادسیہ کے دوسرے دن کو ’’یوم اغواث‘‘ کہا جاتا ہے۔ یوم اغواث کی رات میں قعقاع بن عمرو تمیمیؓ کی قیادت میں شامی فوج کا ایک دستہ قادسیہ میں آ پہنچا۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے امیر شام ابو عبیدہ بن جراحؓ کو حکم دیا تھا کہ حضرت خالد بن ولیدؓ کے ساتھ عراق کی جو فوج شام گئی تھی اسے معرکہ قادسیہ میں مسلمانوں کی مدد کے لیے عراق واپس بھیج دیں۔ حضرت ابو عبیدہؓ نے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے حضرت خالدؓ کے ساتھ آئی ہوئی عراقی فوج کو واپس بھیج دیا اور حضرت خالدؓ کو اپنے پاس باقی رکھا تاکہ وقت ضرورت ان سے کچھ مدد لے سکیں اور قادسیہ کو بھیجی جانے والی اس فوجی کمک کا سپہ سالار حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے بھتیجے ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاصؓ کو بنایا۔ یہ عراقی فوج جب حضرت خالد بن ولیدؓ کی امارت میں عراق سے شام آئی تھی اس وقت اس کی تعداد نو ہزار 9000 تھی، لیکن اب عراق واپس ہونے والوں کی تعداد صرف چھ ہزار 6000 تھی۔ ان میں سے ہاشم بن عتبہؓ نے ایک ہزار مجاہدین پر مشتمل فوجی دستہ کو مقدمہ کی حیثیت سے قعقاع بن عمروؓ کی قیادت میں قادسیہ روانہ کیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 367، التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 367)