نیروز اور مہرجان کے ٹیکس کا اعادہ
علی محمد الصلابیاس کے بارے میں مروی ہے کہ اس کا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے عہد حکومت سے آغاز ہوا تھا۔
(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 218)
اس کے اعادہ کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ اگرچہ اسلام نے اس قسم کی تقریبات سے منع کر رکھا تھا مگر لوگ اس کے عادی ہو چکے تھے۔
(مقدمہ فی التاریخ الاقتصادی العربی: صفحہ 31)
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ارادہ تھا کہ اسے ان غیر مسلم دہکانوں سے وصول کیا جائے جو محاصل وصول کرنے کے ذمہ دار تھے تاکہ وہ مالی طور سے مضبوط ہو کر دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائیاں کرنے کی پوزیشن میں نہ آ جائیں۔ معاویہ رضی اللہ عنہ اسے امت اسلامیہ کی مصالح کے لیے خرچ کیا کرتے تھے، مگر ان کے بعد دہکانوں اور مقامی امراء پر متعدد نئے ٹیکس لگا دئیے گئے۔
(الخراج لابی یوسف: صفحہ 186، 187 )
جن کی وجہ سے مزارعوں پر بھاری بوجھ ڈال دیا گیا مزید براں ان کی وصولی کے لیے ان پر سختی بھی روا رکھی جاتی تھی۔
(الاحکام السلطانیۃ ماوردی: صفحہ 175)