فتوحاتِ مکیہ کے حوالہ پر بحث - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فتوحاتِ مکیہ کے حوالہ پر بحث

  محمد ظفر اقبال

مصنفِ نام و نسب کے سیدنا امیرِ معاویہؓ پر عائد کیے گئے اس اعتراض کی حقیقت واضح ہو جانے کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مصنف کے اس موضوع پر پیش کیے گئے حوالے کی بھی تحقیق کر لی جائے۔ مصنف نے اپنی بات کی تائید میں شیخِ اکبر محی الدین بن عربی رحمۃ اللہ (متوفی 638 ہجری) کی کتاب فتوحاتِ مکیہ جلد 1 صفحہ540 کا حوالہ پیش کیا ہے فتوحاتِ مکیہ کا حوالہ پیش کرنے سے اتنا معلوم ہو گیا ہے کہ اس بے بنیاد اعتراض کے لیے مصنف کے پاس کتبِ تاریخ و حدیث سے باسند کوئی حوالہ نہیں، اور پھر فتوحاتِ مکیہ کا حوالہ بھی بے سند ہے جبکہ امام مسلمؒ (متوفی 261 ہجری) امام عبداللہ بن مبارکؒ (متوفی 181 ہجری) کا یہ قول مقدمہ صحیح مسلم میں نقل کرتے ہیں کہ:  

الْإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ، وَلَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ

(صحیح مسلم: جلد1 صفحہ12، تحت مقدمہ الکتاب)  

ترجمہ: اسناد دین میں سے ہیں، اگر اسناد نہ ہوتیں تو ہر کوئی جو کچھ چاہتا کہہ دیتا۔

اب رہی بات فتوحاتِ مکیہ کی، تو اول تو اس میں اکابر علمائے اعلامؒ کی تحقیق کے مطابق الحاقات ہو چکے ہیں۔

(الیواقیت والجواہر: جلد 1 صفحہ7

تاریخِ دعوت و عزیمت: جلد 2 صفحہ158)  

دوم رہی بات فتوحاتِ مکیہ کی اسنادی اور حوالہ جاتی حیثیت، تو ہم ذیل میں سیدنا مجدد الف ثانیؒ (متوفی 1034 ہجری) کا ایک اقتباس بحث میں نقل کر رہے ہیں، جس سے قارئین کو فتوحات کی اسنادی اور حوالہ جاتی حیثیت معلوم ہو جائے گی:

مخدوما! فقیر را تابِ استماعِ امثالِ سخنان ہرگز نیست، بے اختیار رگِ فاروقیم در حرکت می‌آید و فرصتِ تاویل و توجیہِ آن نمی‌ دهد قائلِ این سخنان شیخِ کبیر یمنی باشد یا شیخِ اکبر شامی، کلامِ محمدِ عربی علیہ و علیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام درکار است، نہ محی الدین عربی و صدر الدین قونوی و عبدالرزاق کاشی ما را بنص کار است نہ بفص فتوحاتِ مدینہ از فتوحاتِ مکیہ مستغنی ساختہ است۔

(مکتوباتِ امام ربانی: دفتر اول مکتوب 100)

ترجمہ: مخدومِ محترم! فقیر کو ہرگز اس طرح کی باتیں سننے کی تاب نہیں، بے اختیار میری رگِ فاروقی حرکت میں آ جاتی ہے اور ایسے اقوال کی تاویل و توجیہ کی فرصت نہیں دیتی اس طرح کا مقولہ شیخِ کبیر یمنی کا ہو یا شیخِ اکبر شامی کا، ہمیں کلامِ محمدِ عربیﷺ درکار ہے، نہ کہ محی الدین ابنِ عربی، صدر الدین قونوی و عبدالرزاق کاشی ہم کو نص (نصوصِ کتاب و سنت مراد ہیں) سے کام ہے، نہ کہ فص (شیخِ اکبرؒ کی مشہور کتاب فصوص الحکم کی طرف اشارہ ہے) سے فتوحاتِ مدینہ (تعلیماتِ کتاب و سنت) نے ہمیں فتوحاتِ مکیہ (شیخِ اکبر کی مشہور کتاب جس کا حوالہ نصیر الدین صاحب نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو بدعتی ثابت کرنے کے لیے دیا ہے) سے مستغنی کر دیا ہے۔ (اس حوالے کے نقل کرنے سے مقصد شیخِ اکبرؒ کی مخالفت نہیں، ہم ان کے بارے میں وہی مؤقف رکھتے ہیں جو جمہور علمائے سنت کا ہے، اس کی ترجمانی حکیم الاسلام سیدنا مولانا قاری محمد طیب قاسمی صاحبؒ (متوفی 1403 ہجری) نے علمائے دیوبند کا دینی رخ اور مسلکی مزاج میں فرمائی ہے۔)   

سیدنا حضرتِ مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ (متوفی 1377ھ) فرماتے ہیں: 

حضرت شیخِ اکبرؒ بہت بڑے پائے کے بزرگ ہیں اور بہت بڑے محقق ہیں اس لیے یہ قول یا تو درحقیقت ان کا ہے ہی نہیں، بلکہ ان کی تصانیف میں ملاحدہ نے چھپا کر داخل کر دیا ہے، جیسا کہ امام العارفین شیخ عبدالوہاب شعرانیؒ اور دیگر اکابر کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے اور اگر ان کا قول ہی ہو تو یقیناً اس میں ان سے خطا ہوئی ہے۔ وہ بری ہیں مگر معصوم نہیں، اس لیے جمہور کا قول صحیح ہے۔  

(مکتوبات شیخ الاسلام: جلد 1 صفحہ 242 مکتوب نمبر 83)