حضرت علامہ ابنِ خلدون المغربیؒ (متوفی 808ھ) لکھتے ہیں:
كَانَ طَرِيقُهُمْ فِيهَا الْحَقَّ وَالِاجْتِهَادَ، وَلَمْ يَكُونُوا فِی مُحَارَبَتِهِمْ لِغَرَضٍ دنْيَوِی أَوْ لِإِيثَارِ بَاطِلٍ أَوْ لِاسْتِشْعَارِ حقْدٍ، كَمَا قَدْ يَتَوَهَّمُهُ مُتَوَهمٌ وَيَنْزِعُ إِلَيْهِ مُلْحِدٌ
(مقدمہ ابنِ خلدون:1 صفحہ 205فصل38 تحت فی انقلاب الخلافۃ الی الملک)
ترجمہ: ان کا ان امور میں عمل حق و اجتہاد پر مبنی تھا، اور ان کی آپس میں جنگیں کسی دنیوی غرض یا کسی سلگتے عناد کے باعث نہ تھیں، جیسا کہ توہمات کے پرستار سمجھ لیتے ہیں، اور ملحدین اس طرف چوک جاتے ہیں۔