مقام حوأب پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر کتوں کے بھونکنے والی روایت کی تحقیق:
سوال:مقام حوأب پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر کتوں کے بھونکنے والی روایت کی کیا حیثیت ہے؟
جواب: مسند احمد میں ہے:
حدثنا عبدﷲ حدثنی أبی حدثنا یحییٰ (ابن سعید ثقۃ) عن اسماعیل (ابن ابی خالد ثقۃ) ثنا قیس (ابن ابی حازم ثقۃ، وقال یحییٰ: منکر الحدیث) قال لما أقبلت عائشۃؓ بلغت میاہ بنی عامر لیلا نبحت الکلاب قالت أی ماء ھذا؟ قالوا ماء الحوأب (بئر فی الطریق بین البصرہ و مکۃ المکرمہ، سمی بالحوأب بنت کلب بن وبرۃ القضاعیه) قالت ما أظننی الا انی راجعۃ فقال بعض من کان معھا بل تقدمین فیراک المسلمون فیصلح ﷲ عزوجل ذات بینھم قالت ان رسول ﷲﷺ قال لنا ذات یوم کیف باحداکن تنبح علیھا کلاب الحوأب۔
(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 52)
أخرجه الحاكم: جلد 3 صفحہ 120،
وابن حبان: 6732،
وأبو يعلى: 4868،
وابن أبي شيبہ: 28926،
وإسحاق بن راہويہ: 1569.
اس حدیث کی سند صحیح ہے، اکثر علماء نے صحیح قرار دیا ہے، مثلاً ابن حبان، حافظ حاکم، امام ذہبی، حافظ ابن حجر، حافظ ابن کثیر، علامہ ہیثمی، اور متاخرین میں سے شیخ شعیب، شیخ احمد شاکر، شیخ محمد عوامہ، مامون الصاغرجی، حسین اسلم اسد و غیرہ۔
ملاحظہ ہو: تعلیقات مسند احمد: رقم 24254، 24654،
وتعلیقات سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 177، و جلد 4 صفحہ 200)،
ومجمع الزوائد: جلد 7 صفحہ 474،
وفتح الباری لابن حجر: جلد 13 صفحہ 69،
وتعلیقات مسند ابی یعلی: 4868،
تعلیقات مصنف ابن ابی شیبہ، وغیرہ.
یہ حدیث دیگر حضرات سے بھی مروی ہے۔
مثلاً: 1: حضرت عبداللہ بن عباسؓ، اور اس کی سند صحیح ہے۔
ملاحظہ ہو: مصنف ابن ابی شیبہ: 38940،
ومسند بزار: 4777 وغیرہ).
2: طاوس بن کیسان کی مرسل روایت ملاحظہ ہو: (مصنف عبد الرزاق: 20753)، اس کی سند بھی صحیح ہے۔
3: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ملاحظہ ہو: معجم اوسط: صفحہ 6272،
قال الهيثمی فی "المجمع" (جلد 8 صفحہ 512): رجاله وثقوا، وفي بعضهم ضعف.
علاوہ ازیں علماء نے حدیث بالا کے چند شواہد بھی ذکر کیے ہیں، تطویل کی وجہ سے ان کو ترک کر دیا جاتا ہے۔
البتہ بعض حضرات نے فرمایا یہ روایت ضعیف و منکر ہے، اس کی اکثر اسانید میں ایک راوی قیس بن ابی حازم ہے اس پر کلام ہے۔ ملاحظہ ہو:
یحییٰ بن سعید القطان نے فرمایا یہ منکر الحدیث ہے اور یہ حدیث بھی قیس بن ابی حازم کے مناکیر میں سے ہے۔
تہذیب الكمال میں ہے:
وقيس بن أبي حازم وإن وثقه البعض لكن قال علي بن المديني: قال لي يحيى بن سعيد: قيس بن أبي حازم منكر الحديث۔ ثم ذكر له يحيى أحاديث مناكير منها حديث كلاب الحوأَب۔ وقال يحيى بن أبي غنية: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، قال: كبر قيس بن أبي حازم حتى جاز المئة بسنين كثيرة حتى خرف و ذهب عقله، قال: فاشتروا له جارية سوداء أعجمية، قال: وجعل في عنقها قلائد من عِهْنٍ وَوَدَع وأجراس من نحاس، قال: فَجُعِلَتْ معه في منزله وأغلق عليه باب، قال: فكنا نطلع إليه من وراء الباب وهو معها، قال: فيأخذ تلك القلائد فيحركها بيده ويعجب منها ويضحك في وجهها.
(تہذيب الكمال: 24، 15، 4896،
وسیر أعلام النبلاء: جلد 4 صفحہ 201،
وتہذيب التہذيب: جلد 8 صفحہ 337،
والكاشف: جلد 2 صفحہ 347).
قیس بن ابی حازم کی عمر سوسال سے متجاوز ہو چکی تھی ان میں اختلاط آ چکا تھا۔ ہاں امام بخاریؒ و امام مسلمؒ کبھی کبھی بعض متکلم فیہ راویوں سے منتخب روایات لیتے ہیں جب ان کو علم ہو کہ یہ ان کے محفوظات میں سے ہیں، اور فضائل، مغازی و تفسیر وغیرہ میں ہو۔ جیسا کہ مقدمہ تحریر التقریب میں ہے:
أنهما أي البخاري ومسلماً انتقيا من رواية بعض المتكلم فيهم أحاديث يعلمان أنهم قد حفظوها، وهي غالباً فی غير الحلال والحرام، كالتفسير والمغازي والأدب والرقاق والفضائل.
(مقدمة تحریر تقریب التہذيب: صفحہ 29، للشیخ شعيب، والشیخ بشار عواد).
نیز مروان کے حضرت طلحہؓ کو قتل کرنے کی روایت بھی قیس بن ابی حازم کے منکرات میں سے ہے، کیونکہ محققین علماء نے اس کا انکار کیا ہے، ابن کثیرؒ نے بھی اس بات کو ترجیح دی ہے کہ حضرت طلحہؓ کو مروان نے قتل نہیں کیا تھا، بلکہ نامعلوم تیر لگا تھا جس کی وجہ سے شہید ہو گئے۔
(البدايہ والنہايہ: جلد 7 صفحہ 264، 265).
دوسری بات یہ ہے کہ مروان اور حضرت طلحہؓ جنگ جمل میں ایک گروہ میں تھے پھر مروان نے ان کو کیسے قتل کیا؟ مزید ملاحظہ ہو: (العواصم من القواصم، صفحہ 159،
وصدق النبأ فی بيان حقیقت عبداللہ بن سبأ: جلد 1 صفحہ 95،
وتاريخ الأمم والملوك: جلد 5 صفحہ 215،
وتاريخ خلیفہ: جلد 1 صفحہ 43).
اور بعض طرق میں عبدالرحمٰن بن صالح ہے محدثین نے فرمایا کہ یہ شیعہ ہے لہٰذا یہ روایت ضعیف منکر ہے، خصوصاً حضرت عائشہؓ کے خلاف کوئی شیعہ راوی روایت کرے تو وہ معتبر نہیں۔
قال ابن الجوزي في العلل المناهية: حديث آخر: أن عائشةؓ مرت بماء يقال له الحوأب فسمعت نياح الكلاب فقالت: ردوني فإني سمعت رسول اللهﷺ يقول: كيف بإحداكن إذا نبحت عليها كلاب الحوأب. قال المصنفؒ: يرويه عبدالرحمٰن بن صالح الأزدي الكوفي قال موسىٰ بن هارون: يروي أحاديث سوء في مثالب الصحابة. وقال ابن عدي: احترق بالتشيع.
(العلل المتناہيۃ: جلد 2 صفحہ 849).
ولمزيد من البحث انظر: (الكامل لابن عدی: جلد 4 صفحہ 320،
والتہذيب: جلد 6 صفحہ 179،
ذخيرة الحفاظ: جلد 4 صفحہ 1922).
امام ابن ابی حاتم نے بھی اس روایت پر کلام کیا ہے، ملاحظہ ہو:
قال أبي: لم يرو هذا الحديث غير عاصم بن قدامة وهو حديث منكر، لا يروى من طريق غيره.
(علل الحديث: جلد 2 صفحہ 426)
یعنی ابن ابی حاتم نے فرمایا کہ یہ حدیث منکر ہے۔
مؤرخین میں سے ابن جریر طبری نے بھی یہ واقعہ اپنی سند سے نقل فرمایا ہے مگر اس کی سند میں بعض راوی شیعہ بعض ضعیف اور بعض مجہول ہیں لہٰذا یہ روایت بھی قبول نہیں۔ ملاحظہ ہو:
حدثني إسماعيل بن موسى الفزاري (متهم بالرفض) قال: أخبرنا على بن عباس الأزرق (ضعيف ليس بشيء) قال: حدثنا أبو الخطاب الهجري (مجهول) عن صفوان بن قبيصة الأحمسي (مجهول) قال: حدثني العرني صاحب الجمل (مجهول) قال: بينما أنا أسير على جمل إذ عرض لي راكب (مجهول) فقال: يا صاحب الجمل! تبيع جملك؟ قلت: نعم... الخ.
(تاريخ الامم والملوك: جلد 5 صفحہ 170،
وتاريخ ابن اثير: جلد 3 صفحہ 210،
وتاريخ ابن خلدون: جلد 1 صفحہ 675).
لیکن سوال یہ ہے کہ اکثر حضرات نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔ پھر اس روایت کا کیا مطلب ہو گا؟
جواب یہ ہے کہ جن حضرات نے صحیح کہا ہے وہ قیس بن ابی حازم پر اعتماد کی وجہ سے کیونکہ یہ ثقہ راوی ہے، البتہ آخری عمر میں حافظہ میں تغیر آ گیا تھا اور یقینی معلوم نہیں کہ قبل التغیر روایت کی ہے یا بعد التغیر؟ اگر بعد التغیر روایت کی ہے تو اس کا اعتبار نہیں۔ اور اگر قبل التغیر تسلیم کر لیں تو یہ معلوم نہیں کہ خود واقعہ میں موجود تھے یا نہیں، اور بظاہر حدیث کے الفاظ سے پتہ چلتا ہے کہ خود موجود نہیں تھے تو اب سوال یہ ہے کہ یہ واقعہ کس سے نقل کیا؟ ان تمام احتمالات کی بنا پر اس روایت کی صحت بعید ہے۔
اگر روایت کو بھی تسلیم کر لیا جائے تو درایت کے اعتبار سے جواب یہ ہے کہ اس روایت میں ماءِ بنی عامر پر گزرنے کی ممانعت وارد نہیں، اور نہ ہی اس کی طرف کوئی اشارہ پایا جاتا، بلکہ روایت سے جو مستفاد ہوتا ہے وہ یہ کہ جناب نبی کریمﷺ نے اپنی ازواج مطہراتؓ کو بطور پیشین گوئی ارشاد فرمایا کہ تم میں سے ایک کو یہ مصیبت پیش آئے گی۔
اور فی الواقع یہ حادثہ جمل ایک عظیم مصیبت تھا جو حرم نبیﷺ کے حق میں موجبِ خفت ثابت ہوا، ورنہ مقصود سفر تو اہلِ اسلام میں اصلاح ذات البین تھا۔ جیسا کہ مسند احمد وغیرہ کی روایت میں ہے: عسی الله عز و جل أن يصلح بک بین الناس.
(رقم الحديث: 24654)
شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے تحفہ اثناء عشریہ میں اس کی طرف نشاندہی فرمائی ہے ملاحظہ ہو: تحفہ اثناء عشریہ صفحہ 332. (ملخص از سیرت سیدنا علی المرتضیٰ ؓ :صفحہ 243).
وقیل: هذا لأم زمل التي ارتدت وخرجت وقاتلها خالد بن الوليد؛ كما نقل الشيخ محمد أبو اليسر عابدين عن كتاب سيف أن أم زمل سلمى بنت مالك سبيت ووهبت لعائشةؓ، فأعتقها فكانت تكون عندها، وقد كان النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليهن فقال: إن إحداكن تستنبح كلاب الحوأب، ثم رجعت سلمى إلى قومها وارتدت، وجمعت الجموع لقتال المسلمين، فبلغ ذلك خالداً فسار إليها واقتتل الفريقان قتالاً شديداً وهي راكبة على جمل أمها فقتلت بمن معا عند الحوأب.
(أغالط المؤرخين: صفحہ 161). واللہ اعلم۔