حدیث حواب کی تحقیق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث حواب کی تحقیق

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

مقام حوأب پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر کتوں کے بھونکنے والی روایت کی تحقیق:

سوال: مقام حوأب پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر کتوں کے بھونکنے والی روایت کی کیا حیثیت ہے؟

جواب: مسند احمد میں ہے:

حدثنا عبداللہ حدثنی أبی حدثنا یحییٰ عن اسماعیل ثنا قیس قال لما أقبلت عائشۃؓ بلغت میاہ بنی عامر لیلا نبحت الکلاب قالت أی ماء ھذا قالوا ماء الحوأب قالت ما أظننی الا انی راجعۃ فقال بعض من کان معھا بل تقدمین فیراک المسلمون فیصلح اللہ عزو جل ذات بینھم قالت ان رسول اللہ قال لھا ذات یوم کیف باحداکن تنبح علیھا کلاب الحوأب۔ 

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 52)

یہ روایت ضعیف و منکر ہے اور حدیث کی چند کتابوں میں مذکور ہے مثلاً:

(مجمع الزوائد: جلد 7 صفحہ 234، 

مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 120، 

صحیح ابن حبان: جلد 15 صفحہ 126، 

موارد الظمآن: جلد 1 صفحہ 453، 

مصنف ابن ابی شیبہ: جلد 7 صفحہ 536، 

ومسند ابی یعلیٰ: جلد 8 صفحہ 282 وغیرہ۔

اس روایت کی اکثر اسانید میں ایک راوی قیس بن ابی حازم ہے، یحییٰ بن سعید القطان نے فرمایا یہ منکر الحدیث ہے اور یہ حدیث بھی قیس بن ابی حازم کے مناکیر میں سے ہے، اور بعض طرق میں عبدالرحمٰن بن صالح ہے۔ محدثین نے فرمایا کہ یہ شیعہ ہے، لہٰذا یہ روایت ضعیف منکر ہے، خصوصاً حضرت عائشہؓ کے خلاف کوئی شیعہ راوی روایت کرے تو وہ معتبر نہیں۔

تہذیب التہذیب میں ہے:وقال یحییٰ بن أبی غنیۃ ثنا اسماعیل بن أبی خالد قال:کبر قیس حتی جازالمائۃ بسنین کثیرۃ حتی خرف وذھب عقلہ،وقال ابن المدینی:قال لی یحیی بن سعید قیس بن أبی حازم منکر الحدیث ثم ذکر لہ یحیی أحادیث مناکیر منھا حدیث کلاب الحوأب۔ 

(تہذیب التہذیب: جلد 8 صفحہ 337، 

وهكذا فی الکاشف للذہبی: جلد 2 صفحہ 347)

وقال ابن الجوزی فی العلل المتناہیۃ:حدیث آخر: ان عائشۃؓ مرت بماء یقال لہ الحوأب فسمعت نیاح الکلاب فقالت: ردونی فانی سمعت رسول اللہ یقول:کیف باحداکن اذا نبحت علیھا کلاب الحوأب۔ قال المصنفؒ: یرویہ عبدالرحمٰن بن صالح الأزدی الکوفی قال موسی بن ھارون: یروی أحادیث سوء فی مثالب الصحابۃ وقال ابن عدی: احترق بالتشیع۔ 

(العلل المتناہیۃ: جلد 2 صفحہ 849)

وقال ابن عدی فی الکامل:سمعت ابراھیم بن محمد بن عیسی یقول: سمعت موسیٰ بن ھارون الحمال یقول عبدالرحمٰن بن صالح شیعی محترق حرقت عامۃ ماسمعت منہ یروی أحادیث سوء فی مثالب أصحاب رسول اللہ قال الشیخ: و عبدالرحمٰن بن صالح معروف مشھور فی الکوفیین لم یذکر بالضعف فی الحدیث و لا أتھم فیہ الا أنہ کان محترقا فیما کان فیہ من التشیع۔ 

(الکامل لابن عدی: جلد 4 صفحہ 320)

وقال ابن حجر فی التہذیب:وکان یحدث بمثالب أزواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم و أصحابہ۔ 

(تہذیب التہذیب: جلد 6 صفحہ 179)

امام ابن ابی حاتم نے بھی اس روایت پر کلام کیا ہے ملاحظہ ہو:

قال أبی: لم یرو ھذا الحدیث غیر عاصم بن قدامۃ وھوحدیث منکر لایروی من طریق ۔ 

(علل الحدیث: جلد 2 صفحہ 426)

یعنی ابن ابی حاتم نے فرمایا کہ یہ حدیث منکر ہے۔

مؤرخین میں سے ابن جریر طبری نے بھی یہ واقعہ اپنی سند سے نقل فرمایا ہے، مگر اس کی سند میں بعض راوی شیعہ، بعض ضعیف اور بعض مجہول ہیں، لہٰذا یہ روایت بھی قبول نہیں۔

ملاحظہ ہو:

حدثنی اسماعیل بن موسیٰ الفزاری قال أخبرنا علی بن عباس الأزرق قال حدثنا أبو الخطاب الھجری عن صفوان بن قبیصۃ الأحمسی قال حدثنی العرنی صاحب الجمل قال بینما أنا أسیر علی جمل اذ عرض لی راکب فقال یا صاحب الجمل تبیع جملک قالت نعم جملی ھذا... الخ۔ 

(تاریخ الامم والملوک: جلد 5 صفحہ 170)

1: اسماعیل بن موسیٰ شیخ الطبری شیعہ ہے۔

قال الحافظ فی التقریب:صدوق یخطئی و رمی بالرفض۔ (التقریب: صفحہ 25)

وقال الذھبی فی المیزان:قال ابن عدی: أنکروا منہ غلو ا فی التشیع۔ 

(المیزان: جلد 1 صفحہ 251)

وفی تہذیب التہذیب:قال الاجری عن أبی داؤد: صدوق فی الحدیث، وکان یتشیع۔ 

(تہذیب التہذیب: جلد 1 صفحہ 303)

2: علی بن عابس ضعیف راوی ہے۔ ملاحظہ ہو: تقریب: صفحہ 247 اور میزان: جلد 4 صفحہ 54۔

قال الذھبی: قال ابن حبان: فحش خطؤہ فاستحق الترک۔ 

(المیزان: جلد 4 صفحہ 54)

3: ابو الخطاب الہجری مجہول ہے، 

(تقریب: صفحہ 404)

اس کے بعد صفوان بن قبیصہ اور عرنی راکب سب مجہول ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ بعض حضرات نے اس روایت کو صحیح کہا ہے، اس کا کیا جواب ہے؟

تو جواب یہ ہے کہ جن حضرات نے صحیح کہا ہے، وہ قیس بن ابی حازم پر اعتماد کی وجہ سے، کیونکہ یہ ثقہ راوی ہے، البتہ آخری عمر میں حافظہ میں تغیر آ گیا تھا اور یقینی معلوم نہیں کہ قبل التغیر روایت کی ہے یا بعد التغیر؟ اگر بعد التغیر روایت کی ہے تو اس کا اعتبار نہیں اور اگر قبل التغیر تسلیم کر لیں تو یہ معلوم نہیں کہ خود واقعہ میں موجود تھے یا نہیں اور بظاہر حدیث کے الفاظ سے پتہ چلتا ہے کہ خود موجود نہیں تھے، تو اب سوال یہ ہے کہ یہ واقعہ کس سے نقل کیا؟

ان تمام احتمالات کی بنا پر اس روایت کی صحت بعید ہے۔

اگر روایت کو بھی تسلیم کر لیا جائے تو درایت کے اعتبار سے جواب یہ ہے کہ اس روایت میں ماءِ بنی عامر پر گزرنے کی ممانعت وارد نہیں اور نہ ہی اس کی طرف کوئی اشارہ پایا جاتا ہے، بلکہ روایت سے جو مستفاد ہوتا ہے، وہ یہ کہ جناب نبی کریمﷺ نے اپنی ازواجِ مطہراتؓ کو بطورِ پیش گوئی ارشاد فرمایا کہ تم میں سے ایک کو یہ مصیبت پیش آئے گی۔

اور فی الواقع یہ حادثہ جمل ایک عظیم مصیبت تھا، جو حرمِ نبیﷺ کے حق میں موجبِ خفت ثابت ہوا، ورنہ مقصودِ سفر تو اہلِ اسلام میں اصلاحِ ذات البین تھا۔

شاہ عبد العزيز محدث دہلوی رحمۃاللہ نے تحفہ اثناء عشریہ میں اس کی طرف نشاندہی فرمائی ہے، ملاحظہ ہو: تحفہ اثناء عشریہ: صفحہ 332۔ 

(ملخص از سیرت سیدنا علی مرتضیٰؓ: صفحہ 243)۔ واللہ اعلم۔