جس طرح ایمان و اسلام دین کے دو مستقل شعبے ہیں، اسی طرح احسان بھی دین کا مستقل تکمیلی شعبہ ہے، جس کی ابتدا إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ اور انتہا أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ ہے۔
تاریخِ اسلام میں تعلیمِ کتاب و سنت اور تزکیہ قلب و نفس کی محنت ساتھ چلی ہے، جسے رفتہ رفتہ تصوف کا نام دیا گیا تصوف کے کئی نام ہیں، مثلاً: علم القلب، علم الاخلاق، احسان، سلوک، طریقت، لیکن زیادہ مشہور تصوف ہی ہے حقیقت اس کی یہ ہے کہ بعض اعمال ہمارے ظاہری اعضاء کے ذریعے انجام پاتے ہیں اور بعض ہمارے قلب کے ذریعے اول الذکر کو اعمالِ ظاہرہ (شریعت) کہا جاتا ہے، جب کہ مؤخر الذکر کو اعمالِ باطنہ (طریقت) سے تعبیر کیا جاتا ہے اعمالِ ظاہرہ کی حیثیت جسم کی ہے اور اعمالِ باطنہ کی حیثیت روح کی ہے ہر دو کا وجود ایک دوسرے کے بغیر ناقص ہے ۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ (متوفی 1176ھ) کا ارشاد ہے:
شریعت بغیر طریقت کے نرا فلسفہ ہے، اور طریقت بغیر شریعت کے زندقہ و الحاد۔
(تسہیل قصد السبیل: صفحہ 8)
اب یہ تصوف یا طریقت کیا ہے؟ اس کی جامع مانع تعریف علامہ شامی رحمۃ اللہ سے سنیے:
هُوَ عِلْمٌ يُعْرَفُ بِهِ أَنْوَاعُ الْفَضَائِلِ وَكَيْفِيَّةُ اكْتِسَابِهَا، وَأَنْوَاعُ الرَّذَائِلِ وَكَيْفِيَّةُ اجْتِنَابِهَا
(رد المختار مع الدر المختار: جلد1 صفحہ 127 المقدمہ)
ترجمہ: تصوف وہ علم ہے جس کے ذریعے اخلاقِ حمیدہ کی قسمیں اور ان کو حاصل کرنے کا طریقہ، اور اخلاقِ رذیلہ کی قسمیں اور ان سے بچنے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے۔
یہ تزکیہ قلب کی محنت ایک مسلمان کے لیے کس حد تک ضروری ہے، حکیم الامت، مجدد الملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ (متوفی 1366ھ) کی زبانی سنیے:
شریعت کا وہ جز جو اعمالِ باطنی سے متعلق ہے، تصوف و سلوک ہے، اور وہ جز جو اعمالِ ظاہری سے متعلق ہے، فقہ کہلاتا ہے اس کا موضوع تہذیبِ اخلاق اور غرض رضائے الہٰی ہے، اور اس کے حصول کا ذریعہ شریعت کے احکام پر پورے طور سے چلنا ہے۔ گویا تصوف دین کی روح و معنیٰ یا کیف و کمال کا نام ہے، جس کا کام باطن کو رذائلِ اخلاقِ ذمیمہ سے پاک کرنا اور فضائلِ اخلاقِ حمیدہ سے آراستہ کرنا ہے، تاکہ توجہ الی اللہ پیدا ہو جائے، جو مقصودِ حیات ہے اس لیے تصوف و طریقت دین و شریعت کے قطعاً منافی نہیں، بلکہ ہر مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ صوفی ہو، کیونکہ اس کے بغیر فی الواقع ہر مسلمان پورا مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں رہتا۔
(شریعت و تصوف: صفحہ، 16)
جس طرح یہ بات حقیقت ہے، بلکہ اس پر صوفیہ و عارفین کا اجماع ہے کہ تصوفِ اسلامی ایک عالم کی ہدایت کا ذریعہ بنا، اسی طرح اس بات میں بھی ذرا شک نہیں کہ غیر اسلامی تصوف (جو کہ چوتھی صدی کے بعد مسلمانوں میں راہ پا گیا) نے کثیر لوگوں کے خرمنِ ایمان کو تار تار کیا یہی وجہ ہے کہ حافظ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ (متوفی 728ھ) و حافظ ابنِ قیم رحمۃ اللہ (متوفی 751ھ) سے لے کر حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ (متوفی 1366ھ) اور امامِ راشد حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ (متوفی 1377ھ) رحمہم اللہ تک ملتِ اسلامیہ کے تمام مجددین اور اولیائے امت نے پوری قوت کے ساتھ غیر اسلامی تصوف کے خلاف علمِ جہاد بلند کیا، اور مسلمانوں کو اس کے مفاسد سے آگاہ کیا۔ اور اس غیر اسلامی تصوف اور طریقِ خانقاہی کے متعلق ڈاکٹر اقبال مرحوم نے کیا خوب کہا ہے:
یہ معاملے ہیں نازک، جو تری رضا ہو تو کر
کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریقِ خانقاہی
لیکن جس طرح بعض مسلمانوں کی گمراہی سے اسلام پر حرف نہیں آ سکتا، اسی طرح بعض صوفیوں کی گمراہی سے اسلامی تصوف موردِ طعن نہیں ٹھہر سکتا۔