أنه بهتان عظيم وخرافات المؤرخين مما لا يعتمد عليها
(الناہیۃ: صفحہ43 فصل: فی الأجوبۃ عن المطاعن)
ترجمہ: یہ بہتانِ عظیم ہے اور یہ مؤرخین کی وہ خرافات ہیں جو لائقِ اعتماد نہیں ہیں۔
علمائے کرام کے مذکورہ بیانات سے اتنی بات بحمد اللہ مہرِ نیم روز کی طرح واضح ہو گئی کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت کے سلسلے میں سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔
عقلاً بھی یہ بات واضح ہے کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو حضرت حسنؓ سے کوئی خطرہ تھا ہی نہیں۔ سیدنا حسنؓ نے از خود خلافت حضرت امیرِ معاویہؓ کے حوالے کی، تاحیات ان سے وظائف لیتے رہے، دونوں کے مابین کبھی کوئی دل خراش واقعہ یا بدگمانی پیدا نہ ہوئی۔ جب حضرتِ امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت حسنؓ کی وفات کی خبر پہنچی تو:
ولما جاء الكتاب بموت الحسن بن علی، اتفق كون ابن عباس عند معاوية فعزاه فيه فأحسن تعزية، ورد عليه ابن عباس رداً حسناً كما قدمنا
(البدایہ والنہایہ: جلد8 صفحہ304 تحت ترجمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما)
ترجمہ: جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی وفات کا خط حضرت امیرِ معاویہؓ کے ہاں پہنچا تو اتفاق سے حضرت عبداللہ بن عباسؓ ان کے پاس موجود تھے۔ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے ان سے حضرت حسنؓ کی وفات پر بڑے عمدہ طریقے سے تعزیت کی اور پھر حضرت ابنِ عباسؓ نے بھی نہایت اچھے انداز میں اس تعزیت کا جواب دیا، جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر آئے۔
تعزیت کے کلمات ذکر کرنے کے بعد حضرت امیرِ معاویہؓ نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے کہا:
لا يسؤك الله ولا يحزنك فی الحسن بن علی، فقال ابن عباس لمعاوية: لا يحزننی الله ولا يسوء فی ما أبقى الله أمير المؤمنين
(ایضاً: جلد 8 صفحہ 138 تحت ترجمہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما)
ترجمہ: اللہ تمہیں مصیبت و تکلیف سے محفوظ فرمائے اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں غمگین نہ ہونے دے۔ جواب میں سیدنا ابنِ عباسؓ نے فرمایا: جب تک امیر المؤمنین یعنی حضرت امیرِ معاویہؓ حیات ہیں اللہ تعالیٰ نہ ہمیں غمگین ہونے دیں گے اور نہ ہی ہمیں کوئی مصیبت و تکلیف ہو گی۔
ان تصریحات سے واضح ہوا کہ حضرت امیرِ معاویہؓ کی تو حضرت حسنؓ سے کوئی دشمنی تھی ہی نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ دشمنی کن سے تھی؟ یہ ایک غور طلب امر ہے۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے ایک بیان میں اس کا کچھ اشارہ ملتا ہے کہ سیدنا حسنؓ کی دشمنی کس سے تھی۔ امیر المؤمنینؓ فرماتے ہیں:
قال علی: يا أهل العراق أو يا أهل الكوفة، لا تزوجوا حسناً فإنه رجل مطلاق۔ قال علی: ما زال الحسن يتزوج ويطلق حتى حسبت أن يكون عداوة فی القبائل
(المصنف لابن ابی شیبہ: جلد5 صفحہ 254 تحت باب: من کرہ الطلاق من غیر ریبہ)
ترجمہ: حضرت علیؓ فرماتے ہیں: اے اہلِ عراق یا اے اہلِ کوفہ! تم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو رشتے مت دو کیونکہ یہ بہت طلاق دینے والے ہیں۔ سیدنا علیؓ فرماتے ہیں: سیدنا حسنؓ متواتر شادیاں کرتے رہتے ہیں اور طلاق دیتے رہتے ہیں، مجھے یہ گمان ہے کہ حضرت حسنؓ کا یہ طرزِ عمل کہیں قبائل میں عداوت کا ذریعہ نہ بن جائے۔
اس پسِ منظر میں گمان کیا جا سکتا ہے کہ آپؓ کی زہر خورانی کے پیچھے آپؓ کی کسی بیوی ہی کی سازش ہو گی، لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ قرائن سے ملتی ہے کہ حضرت امیرِ معاویہؓ کی طرف زہر خورانی کی نسبت بہتان طرازی اور کذبِ محض ہے۔
اگر سیدنا حسنؓ کی زہر خورانی میں نعوذ باللہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کا ہاتھ ہوتا تو سیدنا حسینؓ فوراً بیعت توڑ دیتے اور مقدمہ عدالت میں لے جاتے، اور برادرِ مکرم کی نمازِ جنازہ اموی گورنر حضرت سعید بن العاص امویؓ کی اقتدا میں ہرگز ادا نہ کرتے، بھائی کی وفات کے بعد سیدنا امیرِ معاویہؓ سے ملنے دمشق تشریف نہ لے جاتے، ان کے ہدایا و عطیات کبھی قبول نہ کرتے اور نہ ہی یزید بن معاویہؒ کی قیادت میں غزوۂ قسطنطنیہ میں شرکت فرماتے۔
حافظ ابنِ کثیر رحمۃ اللہ (متوفی 774ھ) فرماتے ہیں:
ولما توفی الحسن كان الحسين يفد إلى معاوية فی كل عام فيعطيه ويكرمه، وقد كان فی الجيش الذين غزوا القسطنطينية مع ابن معاوية يزيد، فی سنة إحدى وخمسين
(البدایہ والنہایہ: جلد8 صفحہ 150 تحت: قصۃ الحسن رضی اللہ عنہ وسبب خروجہ من مکۃ)
ترجمہ: جب سیدنا حسنؓ کا انتقال ہوا تو سیدنا حسینؓ ہر سال سیدنا امیرِ معاویہؓ کے پاس تشریف لے جاتے، آپؓ انہیں بہت سے عطیے دیتے اور ان کا بہت اکرام فرماتے۔ 51ھ میں سیدنا حسینؓ غزوۂ قسطنطنیہ کے موقع پر یزید بن معاویہؒ کے ساتھ شاملِ لشکر تھے۔