روایت من کنت مولاہ فعلی مولاہ ایک تحقیقی جائزہ - ردِ رافضیت…

روایت من کنت مولاہ فعلی مولاہ ایک تحقیقی جائزہ

  ڈاکٹر علامہ خالد محمود

فرض نمازوں کی تعداد رکعات آنحضرتﷺ سے متواتر طور پر منقول ہے اور عدد اپنے معنیٰ میں بھی کسی دوسرے مفہوم کے متحمل نہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بارہ اماموں کی نام بنام مفترض الطاعت امامت بھی کیا کسی ایسی ہی متواتر الثبوت اور قطعی الدلالت روایت سے ثابت ہے؟ حضرت جعفر صادقؒ نے امامی روایات کے مطابق اس کے لیے دو حدیثیں پیش فرمائی ہیں، حدیث ولایت اور حدیث ثقلین۔

اگر یہ دو روایات آنحضرتﷺ سے ثبوتاً متواتر ہوں اور ان کی دلالت بھی اپنے مدعاء پر قطعی اور صریح ہو تو بےشک ایک مفترض الطاعت امامت حضرت علیؓ اور حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کے نام حدیث کی رو سے، منصوص قرار پاتی ہے۔ بصورت دیگر عقیدہ امامت کا طلسم بالکل ٹوٹ جاتا ہے۔

 علماء امامیہ بھی اس ضرورت سے بےخبر نہ تھے۔ انہوں نے ان دونوں روایات کو متواتر الثبوت ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ سب طرق جمع کیے، ہر اتصال و ارسال کا سہارا لیا، مگر جس متبصر نے بھی ان کے جمع کردہ ذخیرے پر تحقیقی نظر کی اسے یہی کہنا پڑا

    حسرت ہے اس مسافر بےبس کے حال پر

     جو تھک کے رہ جائے ہے منزل کے سامنے 

حدیث ولایت من کنت مولاہ فعلی مولاہ کے متواتر الثبوت ہونے کا طلسم تو مدتوں سے ٹوٹ چکا تھا۔ یہ روایت طریق تواتر سے نقل ہونا تو درکنار، خبر واحد کے طور پر بھی کسی سند صحیح سے ثابت نہ ہو سکی تھی۔(حاشیہ: گو اس طرح ثابت ہونا اہل سنت کے عقائد کے خلاف نہیں کیونکہ اس صورت میں یہ روایت فضائل کے باب میں سے ہو گی نہ کہ اثبات عقائد میں دلائل کے باب میں سے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ضعیف روایت کو ہمارے علماء متعدد مقامات پر نقل کرتے چلے گئے۔ صرف بایں وجہ کہ محض فضائل میں ضعاف کو بھی کسی درجے میں لے لیا جاتا ہے مگر جب ان سے عقائد میں تمسک کیا جانے لگے تو ان کی حقیقت واضح کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔) مگر حدیث ثقلین کے بہت سے اسناد ابھی تک محتاج تحقیق تھے۔ امامی علماء کو اپنے اس رطب و یابس ذخیرے پر بڑا ناز تھا۔ میر حامد حسین صاحب مجتہد لکھنو نے عبقات الانوار کی دو مستقل جلدیں صرف اس حدیث ثقلین کے لیے ہی لکھی ہیں۔ صاحب فلک النجات اس حدیث کے متعلق اتنا بلند بانگ دعویٰ کرتے ہیں:

حدیث متواتر تلقته الامۃ بالقبول ولو انکرہ الجھول وھو الذی ھو مدار المھام یجیث یدور علیہ وحی الاسلام۔

پس ضروری ہوا کہ اس روایت کے بھی اسنادی اور استدلالی پہلوؤں پر گہری تحقیقی نظر کی جائے۔ جب اس روایت پر تنقیدی نگاہ پڑتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس باب میں ان حضرات کا دامن بالکل خالی ہے۔ 

جہاں تک حدیث ولایت کا تعلق ہے اس کے متعلق یہاں یہ دو حوالے کافی ہیں۔ رئیس المحدثین حافظ زیلعی متوفی 762ھ بسم اللہ بالجہر کی بحث میں لکھتے ہیں:

احادیث الجھروان کثرت رواتھا لکنھا کلھا ضعیفۃ وکم من حدیث کثرت رواته و تعددت طرقه وھو حدیث ضعیف کحدیث الطیر و حدیث الحاجم والمحجوم وحدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ بلقد لا یزید کثرۃ الطرق الا ضعفا۔ (نصب الرایہ: جلد 1 صفحہ 360، مصر)

 نماز میں بسم اللہ بلند آواز سے پڑھنے کی روایات اگرچہ بہت ہیں لیکن وہ سب کی سب ضعیف ہیں اور کتنی ہی روایات ہیں جن کے راوی بہت ہیں اور ان کے طرق متعدد ہیں مگر وہ حدیثیں ضعیف ہیں، جیسے حدیث طیر اور حدیث افطرالحاجم اور حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ۔ بلکہ بعض اوقات کثرت طرق بجائے اس کے کہ نقصان ضعف کو پورا کر دے، اس ضعف کو اور آشکار کر دیتا ہے۔

 حافظ ابن تیمیہ رحمۃاللہ لکھتے ہیں:

فلا یصح من طریق الثقات اصلا (منہاج السنہ: جلد 4 صفحہ 86)

 یہ روایت ثقہ اور معتبر طریقے سے ہرگز ثابت نہیں ہوتی۔ 

 باقی رہی اس روایت کی اپنے دعوے پر دلالت؟ سو علمائے امامیہ کو خود اعتراف ہے کہ یہ دلالت قطعی نہیں، پس اسے دلالۃ بھی نص صریح نہیں کہہ سکتے۔ 

علامہ طبرسیؒ لکھتے ہیں:

اثبت حجۃ اللہ تعریضا لا تصریحا بقوله فی وصیه من کنت مولاہ فعلی مولاہ۔ ( کتاب الاحتجاج: صفحہ 135 نجف اشرف)

حضورﷺ نے حدیث من کنت مولاہ میں حضرت علیؓ کو تصریحاً امام نہیں فرمایا، صرف اشارے سے حجت فرمایا ہے۔

 شرع تجرید میں بھی اس روایت کی دلالت مختلف فیہ تسلیم کی گئی ہے:

اختلفوا فی دلالۃ علی الامامۃ

 (شرح تجرید: صفحہ 230 طبع قم) 

 مقام تعجب ہے کہ جو روایت ثبوتاً اس قدر ضعیف ہو چہ جائیکہ متواتر اور دلالۃ مختلف فیہ ہو چہ جائیکہ قطعی الدلالۃ اس پر فرضی امامت کا عقیدہ قائم کر کے اسے توحید و رسالت اور قیامت جیسے عقائد کی طرح ایک اصولی اور ضروری عقیدہ تسلیم کیا جائے۔ 

حجۃالاسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ

 مقدمہ: حدیث ثقلین: تالیف: حضرت مولانا محمد نافعؒ صفحہ: 20-18